مجھے اپنی ساس کے نقش قدم پہ ہی چلنا ہے - ثمینہ نعمان

باجی نسیم ہم آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کے باوجود انتہائی لاابالی، جھگڑالو اور غیر ذمہ دار تھیں۔ وجہ اماں، ابا کے ساتھ ساتھ تمام خاندان والوں کا حد سے بڑھا ہوا لاڈ پیار تھا۔ اصل میں ابا اپنے گھر میں سب سے بڑے تھے اور اماں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔

اماں کے ہاں تین مردہ بچوں کے بعد جب باجی نسیم کی ولادت ہوئی تو دونوں خاندانوں میں خوب جشن منایا گیا۔ کئی روز تک شادیانے بجتے رہے، گھی کے چراغ جلائے گئے، مٹھائیوں کے ٹوکرے بانٹے گئے۔ غریبوں میں کھانا اور کپڑے تقسیم ہوئے۔ آخر وہ دونوں خاندانوں کی پہلی خوشی تھیں۔

باجی نسیم تھیں بھی بہت ہی من موہنی، رنگ ایسا کہ جیسے میدہ میں گوندھی ہوئی ہوں، سنہرے بال، بڑی بڑی نیلگوں آنکھیں اور تیکھے نقوش۔ کوئی بھی انہیں پیار کیے بنا نہ رہ پاتا.. ان کے بعد ہم سب بہن بھائی بھی اوپر تلے آتے چلے گئے، مگر باجی نسیم جیسا رتبہ و اعزاز ان کے بعد آنے والے بھائی تک نے بھی نہیں پایا۔

ہم سب کو اماں صبح سویرے منہ اندھیرے ہی اٹھا دیتیں، نماز کے بعد تلاوت قرآن کرتے اور پھر ناشتہ کرتے ہی اسکول روانگی ہوتی، مگر باجی نسیم کو سوتے سے اٹھانے کی کسی کو اجازت نہ تھی، وہ اپنی مرضی سے اٹھتیںہ پھر بڑے ناز و نخروں سے ناشتہ ہوتا، شام کو ایک استانی گھر پہ انہیں پڑھانے آتی جس سے موڈ ہونے پر وہ پڑھ لیتی تھیں ورنہ اسے واپس لوٹا دیا جاتا تھا۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہا ھم سب بہن بھائی پڑھ لکھ گئے۔

بھائیوں کی نوکریاں لگ گئیں اور مجھ سمیت تین بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ باجی نسیم کے لیے اماں ابا کو کوئی رشتہ ہی سمجھ نہ آتا تھا، آخر ڈھلتی عمر میں رشتہ داروں کے سمجھانے پر ان کی شادی کر دی گئی۔ مگر شادی کے بعد بھی ان کی بگڑی ہوئی عادتیں جو کہ پختہ ہو چکی تھیں، نہ بدلیں۔ صبح کو دن چڑھے اٹھنا، گھر کے کسی کام کاج میں دلچسپی نہ لینا، سسرال والے تو درکنار شوہر کو بھی کچھ نہ گرداننا، شادی کے بعد بھی اماں ابا کی ان کے گھریلو معاملات میں حد سے بڑھی ہوئی مداخلت۔

ان وجوہات کی بنا پر شادی چند ماہ سے زیادہ نہ چل پائی، اور باجی نسیم اپنے روپ سروپ اور نخروں کے ساتھ واپس میکہ کی دہلیز پہ آ بیٹھیں۔اب ایک ایک کر کے چاروں بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں اور ان کے بچوں سے ماشاءاللہ گھر بھرنے لگا۔اب گھر میں بھابھیوں کا طوطی بولنے لگا تھا، اماں گھر کی ذمہ داریوں سے تھک چکی تھیں اور اب ریٹائرڈ لائف گزار رہی تھیں۔

باجی نسیم کی ہر روز کسی نہ کسی بھابھی یا بھتیجے بھتیجی سے تو تو میں میں رہنے لگی تھی۔ اس کل کل سے بھائی بھی عاجز آ چکے تھے۔ گھر کا سکون درہم برہم ہو چکا تھا۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ ہم بہنوں سے بھی وہ قلبی طور پر قریب نہ تھیں، اگر کبھی ہم میں سے کو ئی بہن انھیں زمانے کی اونچ نیچ سمجھانے کی کوشش بھی کر لیتی تو وہ ایسا واویلا کرتیں کہ الامان الحفیظ۔

اب اکثر اماں دوپٹے کے پلو سے اپنے بےساختہ آنے والے آنسو صاف کرتی ہوئی نظر آتیں، اور ابا کی کمر کے ساتھ ساتھ نظریں بھی جھکی رہتیں۔ مجھے بھی اللہ تعالی نے چار بیٹوں کے بعد ایک بہت ہی پیاری سی بیٹی سے نوازا، اماں کی طرح دل میرا بھی یہی کرتا ہے کہ اس کے ناز اٹھاؤں، مگر باجی نسیم کے انجام سے ڈر جاتی ہوں۔ اولاد کسے پیاری نہیں ہوتی اور خاص طور پر لڑکیاں... چونکہ انھیں ایک محدود مدت تک والدین کے ساتھ رہ کر اگلے گھر سدھارنا ہوتا ہے، پھر مستقبل کا بھی پتہ نہیں کہ کیسا سسرال ملے، اس لیے اکثر ماؤں کے دل لڑکیوں کے لیے نرم رہتے ہیں۔ مگر نرمی ایک حد تک ہی ہونی چاہیے۔

بچوں کی تربیت اور خاص طور پر لڑکیوں کو زندگی کے ہر محاذ پر چوکس رکھنے کے لیے سمجھدار ماؤں کو اپنے دل مضبوط کرنے پڑتے ہیں، انہیں ہر ہنر میں طاق کرنے کے لیے مستقل سرگرمی دکھانی پڑتی ہے، ورنہ شکل صورت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، بہت جلد اپنا سحر کھو دیتی ہے۔ اگر اخلاق وکردار میں کہیں بھی کجی نظر آتی ہے تو اچھی شکل والیاں بھی شوہر کو گوارا نہیں ہوتیں۔ میری ساس اکثر کہا کرتی ہیں کہ انسان پیارا نہیں، اس کا کام حقیقت میں پیارا ہوتا ہے۔

سسرال میں جو لڑکیاں ہر کام میں آگے آگے رہتی ہیں، شوہر اور ساس سسر کی خدمت کرنے کو اپنے لیے سعادت سمجھتی ہیں، وہ اپنا ایک یکتا مقام بنا لیتی ہیں۔ گھر کا ہر فرد ان کی خوش اخلاقی کی وجہ سے ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ میری ساس نے اپنی تمام بیٹیوں کی تربیت بہت ہی احسن انداز میں کی ہے اور واقعی میری چاروں نندیں اپنی اچھی عادات کی بنا پر اپنے اپنے سسرال والوں کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہیں۔

ان کی شادیوں کے بعد میرے ساس سسر نے کبھی اپنی بیٹیوں کے گھریلو معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ میری ساس کے کہنے کے مطابق انھوں نے بچیوں کی ہر طرح سے اچھی تربیت کی، سلیقہ قرینہ سکھایا، ان کے ہر مسئلہ میں ایک دوست کی طرح انہیں مشورے دیے۔ان کی ہر پریشانی دور کی، ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی۔ گویا کہ ایک چڑیا کی طرح انھیں اڑنا سکھایا، اور جب انہیں اڑنا آگیا تو ان پر اعتماد کرتے ہوئے وسیع آسمان کے حوالے کر دیا۔

یعنی نکاح کے بعد بیٹیوں کے ہاتھ چھوڑ دیے، اس اعتبار کے ساتھ کے وہ کبھی اپنے والدین کے سر جھکنے نہیں دیں گی۔ اور واقعی ان کی تمام محنت اور تربیت کا مان رکھتے ہوئے ان چاروں نے اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کے سر بھی فخر سے بلند کر دیے۔ تو بس اب یہ طے ہے کہ مجھے اپنی ساس کے نقش قدم پہ ہی چلنا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */