بلوچستان میں طلبہ سیاست کا احوال -گہرام اسلم بلوچ

دست و گریباں کی داستان بہت پرانی ہے اور اس کے انتہائی منفی اثرات ہماری فکری و نظریاتی سیاست پہ پڑے ہیں۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہماری بہت سی ناکامیاں و کوتاہیاں اپنی جگہ، مگر دست و گریباں کی سیاست عیاں ہے۔ ماضی کی کمزوریوں اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر آگے اتحاد و اتفاق کے ساتھ چلنے کا وقت آ گیا ہے۔

ماضی کی اُس نفرت کی فضا کو دوبارہ زندہ کرنا، اکیسویں صدی، جسے شعور و علم کی صدی کہا جاتا ہے، میں مناسب نہیں ہے۔ اگر اس عہد کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں بھی اس کی گنجائش ہے تو یہ بہت بڑی غلطی کے ساتھ خود کو صدیوں پیچے دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔

یوں تو ملک میں طلبہ سیاست کی اپنی ایک بڑی تاریخ اور اس کے عروج پر مبنی خوبصورت ماضی بھی ہے، اس کے پیدا کردار آج ملکی سیاست اور اس عہد کے سُلجھے ہوئے مدبر اور سیاسی رہبر ہیں۔ ایوبی دور سے لیکر آج تک سیاسی، جمہوری، روشن خیالی اور اظہار آزادی رائے کے لیے جدوجہد کرنے میں ترقی پسند طلبہ تنظیموں کا شاندار ماضی رہا ہے۔ انھوں نے ہر آمر اور آمر نما جمہوری دور میں طلبہ حقوق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

جب صدر ضیاالحق کے دور میں طلبہ یونینز پہ پابندی عائد ہوئی اور کیمپس کے اندر طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں سے خوف محسوس کیا جانے لگا، تو طلبہ اس کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے کبھی اس کی بحالی کے لیے اقدامات نہیں اُٹھائے، حالانکہ اس کے بعد کئی جمہوری سیٹ اپ آئے جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی ماضی کو طلبہ سیاست اور یونینز سے جوڑتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، مگر انھوں نے بھی کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جب سے یونینز پہ پابندی لگی ہے، آج تک طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے طلبہ ہر فورم پر آواز بلند کرتے آ رہے ہیں، مگر اب طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے زیادہ تحرک نظر آرہا ہے۔

بلوچستان میں ماضی و حال میں قوم پرستی کی سیاست عروج پر رہی ہے۔ طلبہ سیاست میں اُن کے نوجوان کافی متحرک تھے۔ 29 نومبر کو یونین بحالی مارچ کی مناسبت سے بلوچستان کے طول و عرض میں بی ایس او کے تمام دھڑوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے حق میں اور کیمپس میں طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے خلاف پرامن ریلیاں نکالیں۔ شام کے وقت کوئٹہ سے خبر آئی کہ بلوچ طلبہ دوران ریلی آپس میں دست و گریباں ہوئے اور ایک کارکن کی زخمی ہونے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

اس دن کی مناسبت سے مجھ سمیت بے شمار بلوچ نوجوانوں کی امیدیں اپنی مادر تنظیم کے نوجوانوں سے یہ تھی کہ وہ بلوچستان بھر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاید ہمیں ماضی کی بی ایس او کے عروج کی ایک جھلک دکھائیں گے، مگر اس خبر کی آتے ہی مجھ سمیت کئی نوجوانوں کی امیدیں اور خواب چکنا چور ہوگئے۔ ہمارے خیال میں یہ ایک نادر موقع تھا کہ بلوچ طلبہ اپنے عظیم تر طلبہ مفادات کی خاطر یکجان ہوکر اپنی تاریخی جدوجہد کو دوبارہ زندہ کریں گے اور بی ایس او کی آبیاری کریں گے، مگر یہ سنہری موقع بھی سبوتاژ ہوگیا، جس سے ہم جیسے دیگر بی ایس او سے تربیت لینے والوں کو بہت تکلیف ہوئی۔ بجائے اتحاد و طاقت کا پیغام دینے کے، ہم نے پھر اپنے ماضی کو دہرایا، اور جو اس طاقت سے خوفزدہ تھے، وہ ایک بار پھر خوش ہوئے ہوں گے۔

امید ہے کہ بلوچستان کے بالغ و باشعور ذمہ دار طلبہ رہنما مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل نکالیں گے، اور اسے شدت اختیار کرنے نہیں دیں گے کیونکہ مجموعی طور پر اس کے انتہائی منفی اثرات ہماری فکری و سیاسی جدوجہد پر پڑیں گے۔ یہ دور نہیں ہے کہ ہم آپس میں دست و گریباں کی سیاست کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ معاشرہ ہم سے یہی توقع رکھتا ہے کہ ہم اپنے عہد کے سملجھے ہوئے سیاسی کارکن کے طور پر سامنے آئیں، اور نوجوانوں کی بہتر نمائندگی کرنے کی بھر پور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کی امیدوں پر پورے اُتریں۔

بغیر کسی طرف داری کے، ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے آنے والی اور موجودہ نسل کو ہر طرح کی چپقلش اور حالات سے نکال کر ان کی رہنمائی کے لیے کردار ادا کریں۔ جدوجہد کے ساتھ آپس میں مہر و محبت بانٹنے کا ماحول پیدا کریں تاکہ نفرت کی دیواریں زمیں بوس ہوں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • تربت #بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن بوہیر صالح ایڈوکیٹ اور سابق سی سی ممبر عابد عمر بلوچ نے پارٹی آفس میں بی ایس او کے دوستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ طلباء سیاست ملکی سیاست کی نرسری ہے جسے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور اس ملک کو اہم سیاسی لیڈران فرائم کی لیکن بد بختی سے جس طلبہ سیاست نے ملک کی سیاست میں اول دستہ کردار ادا کیا اسی طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی جو آئینی حقوق کی پامالی ہے ہمارے ملک کے آئین میں واضع ہے کہ ہر ایک کو یونین بنانے کا حق ہے لیکن ہمارے حکمران اس بنیادی اور آئینی حق کو چھینے پر تلے ہوئے ہیں جو ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی اقدام ہے جسے بحیثیت اس ملک کے شہری کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے جب تک ہر شہری اور ہر مکتب فکر کے لوگوں کو انکے جائز اور قانونی حقوق نہیں دیا جائے گا تب تک جمعوریت نا مکمل ہے بی ایس او پجار نے جس انداز میں ملک میں طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے طلباء تنظیموں کے ساتھ ملکر احتجاجی ریلی نکالی وہ تاریخ کے سہنرے الفاظ میں لکھی جائے کی ہم نے روز اول سے جمعوریت کی بحالی کے لیئے آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ جمعوریت کے لیئے ہمارے اکابرین اور لیڈروں نے قربانی دی ہے جس میں شہید میر مولابخش دشتی، نسیم جنگیان، ڈاکٹر یاسین، ٹائیگر ریاض، شفیع بزنجو، ایوب بلیدی و دیگر شہدا نے اپنے جانوں کی قربانی دیکر امر ہو گئے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمعوری، سائنسی جہد وجہد سے ہمارے مسائل حل ہونگے اور انہی شہدا کے دیئے گئے فکر و فلسفے اور نظریہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہماری اولین ذمہ داری ہے اسے پورا کرنے میں تمام دوست بھرپور محنت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جہد و جہد کا بنیادی مقصد مظلوم و محکوم عوام اور بلوچ و بلوچستان ہے ہماری تنظیم کی سیاسی لائن نے آج ثابت کیا کہ بی ایس او پجار طلباء و طالبات کا سب سے بڑی تنظیم کے ساتھ ساتھ انکی نمائندہ تنظیم ہے جس نے نوجوانوں کی ذہنی نشوونما کر کے تعلیمی اداروں کی طرف راغب کرتے ہوئے جزباتی نعروں اور کھوکھلے فیصلوں سے دور رہنے کی درس دی اور قلم و کتاب سے دوستی کرنے پر زور دیا۔ تمام نوجوان اس مادر آرگنائزیشن کے اس جمعوری پیغام کو ہر نوجوان تک پہنچائیں اور طلباء و طالبات کے حقوق، طلبہ یونین کی بحالی اور تنظیمی کاری پر زور دیں تاکہ ایک پرامن، صحت مند اور تعلیم یافتہ صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com