حسد کے دو بڑے نقصانات - رمشا جاوید

ہمیشہ سے سنتے آئے تھے کے دنیا کا پہلا قتل ایک عورت کی وجہ کر ہوا۔ عرصہ دراز تک ہم بھی کہانی کو اسی رخ سے سمجھتے تھے۔ خواتین میگزین میں پہلی کہانی بھی لکھی تو اسی موضوع کو زیر قلم لایا۔ پھر بعد میں سوچا کے کیا واقعی عورت کا معاملہ اتنا سنگین تھا کے قابیل اپنے بھائی کو قتل کربیٹھا ؟؟؟ قرآن پاک کھولا ۔

سورۃ المائدہ میں قصہ کچھ یوں بیان کیا گیا تھا: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا "میں تجھے مار ڈالوں گا" اس نے جواب دیا "اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے"

اب ہم آجائیں قرآن کی چھوٹی صورت سورۃ فلق پر۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ ومن شرحاسد اذا حسد "اور میں پناہ مانگتا ہوں' حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔" قرآن پاک کے یہ الفاظ بلاغت و اعجاز کا شاہکار ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ حاسد کے شر سے پناہ مانگو بلکہ کہا گیا "پناہ مانگو حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے"۔ یعنی جب حاسد اپنی جلن نکالنے کے لیے محسود کے خلاف سازشی اقدامات کرنے لگے۔ حسد کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ حاسد انسان اللہ سے بدگمان ہوجاتا ہے' اس کی سوچ غلط رخ پر کام کرنے لگتی ہے اور اس کے قول و عمل اور شب و روز کی سرگرمیوں سے خدا کے بارے میں بدگمانی اور ناانصافی کا اظہار ہونے لگتا ہے۔

اللہ کے بارے میں ناانصافی کا بدترین رویہ دنیا کے سب سے پہلے حاسد نے اپنایا تھا'اور اللہ رب العالمین نے اس کو اپنے دربار سے مردود بناکر دھتکار دیا تھا۔حسد کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کے ایسا شخص تعمیری ذہن و فکر اور اصلاح و فلاح ککی سعی و کاوش سے محروم ہوجاتا ہے وہ اپنی زندگی کو بنانے' مستقبل کو سنوارنے اور صلاح و سدھار کے کام کرنے کے بجائے ہر وقت اضطراب اور بےچینی میں مبتلا رہتا ہے کہ جن کو خدا نے اپنی نعمتوں سے نوازاہے۔

ان کی شخصیت کو مجروح کرے' ان کو نقصان پہنچائے اور ان کی تزلیل کرے اور ان کی اذیت و تکلیف رسانی کا سامان کرے۔ اسی لیے اللہ نے قرآن میں یہ تعلیم دی کے حاسد کے شر سے انسان اللہ سے پناہ مانگے۔ اور اس ایمانی شعور کے ساتھ یہ الفاظ ادا کرے کہ میں جس کی پناہ مانگ رہا ہوں وہ سب پر غالب ہے۔ اس کی قدرت و اقتدار سب پر حاوی ہے۔ اس شر کا بھی وہی خالق ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت اور علم کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔

اور حاسد کو چاہیے کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے یہ سوچے کہ جس رب نے فرشتوں اور جنوں کے سامنے انسان کو اہمیت دی اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا، اسے ایسا کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اللہ کے ہاں اس کی عزت گھٹتی ہوئی محسوس ہو۔