میں خاموش صدر نہیں رہوں گا - محمد طیب زاہر

پاکستان میں صدور کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔بڑے سے بڑے طاقتور صدور نے کہیں اپنے لا محدود اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا ۔اپنے سیاسی حریف کو چِت کرنے میں اپنی سپریم طاقتوں کا بے رحمانہ طریقے سے استعمال کیا ۔

پھر رفتہ رفتہ ہم نے صدر کے عہدے کی طاقت کے پر کٹتے ہوئے بھی دیکھے تو کہیں پر ہم نے پھر اس کی طاقت میں چڑھاؤ دیکھا اور پھر بعد ازاں اس کو کٹ پتلی کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگا۔پاکستان کے موجودہ صدر عارف علوی اس ملک کے 13 ویں آئینی صدر ہیں اس سے پہلے پاکستان کے 12 صدور گزرے وہ سب آئینی طریقے سے منتخب نہیں ہوئے تھے، اور نہ ہی وہ سب اپنی مدت پوری کر پائے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ صدر کسی کا تخت اُلٹ کر ہی صدارت کی کرسی پر فائز ہوئے۔

آپ کو یاد ہوگا محترم جناب عارف علوی صاحب نے اپنے آپ کو با اختیار صدر کہتے ہوئے کچھ کہا تھا لیکن اس سے پہلے کہ میں بتاؤں کہ انہوں نے کیا کہا تھا اس سے قبل ہم اس ملک کے سابقہ طاقتور اور کمزور تر صدور کے دورِ اقتدار پر ایک نظر دوڑاتے ہیں وطنِ عزیز کے پہلے صدر جنرل اسکندر مرزا کے دور کی بات کریں تو سکندر مرزا جس آئین کے تحت صدر بنے تھے، ان کی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگا لیجئے کہ انہوں نے اسی آئین کو پامال کر کے مارشل لا نافذ کر دیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا تھا، لیکن اسے حاضر سروس فوجی نے نہیں بلکہ ریٹائرڈ فوجی نے نافذ کیا تھا۔

اس کے بعد صدارت کی بال ایوب خان کے کورٹ میں جاگری انہوں نے اپنے آپ کو با اختیار اور زیادہ طاقت ور بنانے کے لئے انہوں نے 1960 میں خود ساختہ ریفرینڈم منعقد کروایا، جس میں انہیں بھاری حمایت حاصل ہوگئی۔ایوب خانے نے اپنے اقتدار کو بطور صدر تقویت بخش کر اپنی من چاہی خواہشات کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا۔ایوب خان تقریبا 11 سال تک اقتدار کی مسند پر مسلط رہے اور اس عرصے کے دوران انہوں نے ایک اور آئین بنایا اور اسی معیاد میں وہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ان کے دورِ اقتدار کا اندازہ لگائیں تو یہ کہنا قطعی طور پر بےجا نہ ہوگا کہ صدر ایوب بھی ایک طاقتور صدر کے طور پر ابھرے۔

اسی طرح یحیٰی خان جن کے کریڈٹ میں ایک اہم کام جاتا ہے اور وہ 1970 کے شفاف ترین انتخابات کروانا ہے اور ظاہری بات ہے یہ ان کی لا محدود طاقت کا ہی مظہر ہے کہ وہ شک و شبہات سے بالاتر انتخابات کرانے میں کامیاب رہے۔یحییٰ خان کے بعد صدارت کا منصب ذوالفقار علی بھٹو کے پاس جا پہنچا ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ، وزیرِ اعظم اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ برس تک ملک کے صدر بھی رہے ۔

سو اس بات کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں کہ ان کی طاقت کا سحر ان سے پہلے گزرے صدور سے بھی کئی زیادہ تھا ۔ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد صدارت کا عہدہ صدر فضل الٰہی چوہدری کے پاس گیا 1973 کے آئین کے مطابق ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام پروان چڑھا جس میں اختیارات کا سرچشمہ منتخب پارلیمان اور وزیرِاعظم کو بنا دیا گیا، جس کے بعد صدر کا عہدہ فائلوں پر دستخط کرنے اور تقریبات میں فیتہ کاٹنے تک محدود ہوکر رہ گیا۔یہ وہ دور تھا جہاں سے صدارت کے عہدے کی طاقت کی اُٹھان آسمان سے پلٹ کر زمین پر آنے لگی ۔چودھری فضل الٰہی نے کچھ عرصہ ساتھ نبھایا اور آخر 14 ستمبر 1978 کو وہ اپنے عہدے سےسبک دوش ہو گئے، جس کے دو دن بعد جنرل ضیاالحق نے صدرِ پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

اس مدتِ صدارت کو توسیع دینے کے لیے جنرل ایوب کی مانند جنرل ضیا کو بھی ریفرینڈم کی بیساکھیوں کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ بھٹو کے لائے گئے پالیمانی نظام کے بعد صدارت کا عہدہ ایک رسمی سا عہدہ ہوکر رہ گیا تھا۔ جنرل ضیا نے صدارت کے نیم مردہ جسم میں ایک نئی روح پھونکنے کے لئے 1984 میں انھوں نے وہ بے حد متنازع ریفرینڈم کا انعقاد کروایا جس میں وہ 95 فیصد ووٹ لے کر کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔اس کے ٹھیک ایک سال بعد ضیاالحق نے غیرجماعتی انتخابات منعقد کروائے۔ نومنتخب اسمبلی نے نہ صرف ضیاالحق کے تمام سابقہ اقدامات کی توثیق کر دی بلکہ آٹھویں ترمیم بھی منظور کر دی جس کی بدنامِ زمانہ 58 ٹو بی شق کے تحت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔

اور اس کے بعد صدر کے سامنے وزیرِاعظم اور پارلیمان کٹھ پتلی بن کر رہ گئے۔چونکہ صدر ایک بار پھر طاقت اور لامحدود اختیارات سے لیس ہوچکا تھا۔اس کے بعد جب غلام اسحاق خان کے پاس صدارت کی کمان گئی تو انہوں نے اپنے طاقت کے بل پر دو بڑی جمہوری حکومتوں کا بوریہ بستر گول کردیا۔نواز شریف جب دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوکر پالیمنٹ پہنچے تو اس وقت ان کی صدر فاروق لغاری سے نہ بن پائی کیونکہ ان کی پچھلی حکومت کو ایک صدر نے ڈنگ مار کر ختم کردیا تھا لہذا دوسری بار وہ اس حادثے کا شکار نہیں بننا چاہتے تھے لہذا انہوں نے کسی نہ کسی طرح فاروق لغاری کو چلتا کیا ۔

اس کے بعد صدر رفیق تارڑ صدر بنے اور وہ نواز شریف کے ہمنوا ہی رہے کیونکہ اُس وقت صدارتی اختیارات ایک بار پھر محدود ہوکر رہ گئے تھے اورایک بار پھر طاقت کا محور وزیر اعظم اور پارلیمان بن چکے تھے۔اس کے بعد سابق آرمی چیف پرویز مشرف ایک طاقتور صدر کے طور پر ابھرے اور انہوں نے بھی ریفرنڈم کروا کر وردی میں ہی اپنے آپ کو صدر منتخب کروالیا مشرف کی یہ صدارت رفیق تارڑ اور چودھری فضل الٰہی کی طرح بے ضرر نہیں تھی، بلکہ مشرف نے 58 ٹو بی کا گڑا مردہ نکالا اور وہ وزیر اعظم اور پالیمان کو اپنے اشارے پر نچوانے لگے۔

پرویز مشرف جیسے طاقتور صدر کے بعد مفاہمت کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری صدارتی عہدے پر فائز ہوئے انہوں نے 58 ٹو بی کا خاتمہ کردیا اور اس کے بعد صدر کے اختیارات پالیمنٹ کے سپرد کردئیے لیکن اس کے باوجود وہ طاقتور صدر ہی رہے اور حکومت اور پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط ہی رہی ان کی طاقت کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک خط نہ لکھنے پر ان کے اپنے وزیر اعظم کو گھر جانا پڑ گیا۔آپ کو ان تمام صدور کی رام کہانی سنانے کا مقصد فقط اتنا تھا کہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ صدر کہیں پر طاقت کا پیکر رہا اور کہیں ربورٹ کی طرح استعمال ہوا ۔

صدر عارف علوی سے قبل صدر ممنو حسین صدر تھے جن کا تعلق ن لیگ سے تھا وہ انتہائی خاموش صدر تھے کیونکہ اُن کے پاس اختیارات محدود تھے صرف ان کا عہدہ آئینی علامت کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا ان پر طرح طرح کی باتیں کی جانے لگیں کوئی یہ کہنے لگا کہ یہ خاموش صدر ہیں کوئی یہ کہتا پایا گیا کہ یہ ڈمی صدر ہیں غرضیکہ ان کا طرح طرح سے تمسخر اُڑایا گیا یہی وجہ تھی کہ جب ان کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے عارف علوی صدر بنے تو انہوں نے حلف لیتے وقت یہ کہا تھا کہ میں خاموش صدر نہیں رہوں گا اور جو اوپر میں نے جس بات کا کیا وہ یہی تھا ۔عارف علوی کا مطلب یہ تھا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں باقائدہ حصہ لیں گے ۔

لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ ایسا ہوتا نظر نہیں آیا ہاں البتہ وہ اس طرح کی خبروں کے زینت ضرور بنے رہے کہ کبھی وہ اپنا پروٹوکول لیتے پائے گئے تو کبھی اس سے منع کرتے پائے گئے کہ میں پروٹوکول نہیں لوں گا ائیرپورٹ پر بھی کئی درجن گاڑیاں جب انہیں لینے آئی تو موصوف نے پروٹوکول لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ائیرپورٹ سے تب تک نہیں نکلیں گے جب تک پروٹوکول واپس نہیں ہوجاتا۔پھر ایک دم سے ایوان صدر میں کروڑوں کی لاگت سے طوطوں کے لئے پنجرے بنانے کی خبریں منظر پر آنا شروع ہوگئیں اور انہوں نے تب نوٹس واپس لیا جب ان پر بےحد تنقید کی گئی تب موصوف نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم ہی نہیں تھا۔

اب تازہ واقعے پر آتے ہیں قمر باجوہ کی مدت ملازمت کا معاملہ سپریم کورٹ جا پہنچا جس کا فیصلہ خدا خدا کرکے آہی گیا اور آرمی چیف کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کردی اور ساتھ ہی قانون میں بہتری لانے کا بھی حکومت کو وقت دے دیا ۔سپریم کورٹ کے معزز ججز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بگڑی بنا دی۔لیکن ایک بات صاف ہوگئی کہ حکومت نے واقعی آرمی چیف کو شٹل کاک کی طرح گھمایا ۔

وہ کہتے ہیں بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ اگر وزارت قانون نے بلنڈر مارا ہے تو جناب محترم خاموش نہ رہنے والے عارف علوی صاحب آپ نے بغیر دیکھے کیسے سائن کردئیے.نوٹیفیکیشن قمر جاوید باجوہ کےدوبارہ سے تقرری کرنے کا تھا لیکن محترم صدر صاحب نے خود سے ہی ایکسٹینشن دے دی اتنی غیر ذمہ دار آپ کیسے ہوسکتے ہیں وزارت قانون پر اتنا اندھے یقین نے پورے پاکستان کو گمان میں ڈال کر رکھ دیا۔آج قمر جاوید باجوہ حیدر علی آتش کا یہ شعر کہتے ہوں گے۔

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

آرمی چیف پاک فوج کا سربراہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے پاک فوج کا بھی غیر ضروری ذکر کیا گیا جو کہ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو مناسب نہیں تھا دشمن کو موقع مل گیا کہ وہ ہمارے سول اور ملٹری اداروں کا تمسخر بنائے۔ یقینی طور پر وزیر اعظم پر بھی یہ وقت بہت گراں گزرا ہوگا۔لیکن وزیر اعظم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کو کام نہ کرنے دینے میں ان کے اپنے وزرا اور بیوروکریسی شامل ہے جس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی درکار ہے ۔

ورنہ ہر روز وزیر اعظم کو کسی نہ کسی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا ۔مہنگائی کے جن پر قابو پانا اب وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے مدینہ کی ریاست بنانے کے لئے ابھی وزیر اعظم کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ان کو اُسی صورت میں حل کیا جاسکتا ہے جب خاموش نہ رہنے والوں کو خاموش کیا جائے گا اور صرف کام ہوگا تب وزیر اعظم پاکستان کو مثالی ریاست کے روپ میں بدل سکتے ہیں ۔جناب عارف علوی صاحب آپ اپنے بلنڈرز مارنا بند کریں اور ممنون حسین کی طرح ڈمی ہی رہیں تو پھر ایسے میں قوم آپ سے کوئی اُمید نہیں کرسکتی۔