ہاں میں جذباتی ہوں - نیلم اسلم

عورت سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ پھر جو عورت ماں کے تجربے سے گزرچکی ہو، جس نے ایک انسان کو جنم دیا ہو، آخر اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی کی جان لے؟ لیکن یہ ہوا اور دن دہاڑے ہوا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس انتہا پر جانے کے پیچھے آخر وجہ کیا ہے؟ ذرا پس منظر جان لیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہم کس آتش فشاں کے کنارے بیٹھے ہیں۔ ممکن ہے کہ اسے ایک معمول کا قتل سمجھا جا رہا ہو، لیکن ایسا نہیں۔

سیالکوٹ میں شوہر کے انتقال کے بعد مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرتی ایک ماں اپنے بچوں کو حلال کھلاتے ہوئے پروان چڑھارہی ہوتی ہے۔ ایسی ماؤں کی زندگی میں کتنے دُکھ، کتنی تکلیفیں اور کتنی آزمائشیں آتی ہیں ذرا اپنے آس پاس نظر دوڑائیں اندازہ ہوجائے گا۔ یہ ماں بھی انہی حالات کا سامنا کرکے اپنے بیٹے کو جوان کرتی ہے۔ لیکن اس کی 22 سال کی ریاضت، 22 سال کی محنت، اس کے صبر کا پھل، اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک، اس کے مرحوم شوہر کی نشانی، اس کے بازو کی طاقت، اس کے بڑھاپے کی آخری اُمید کو اس سے چھین لیا جاتا ہے۔ اس کے لعل کو خون میں نہلاکر زمین اس کے لہو سے لال کردی جاتی ہے۔

تب دکھیاری ماں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ قسم کھاتی ہے کہ قاتل جتنا بھی بااثر ہو، اپنے بیٹے کے قاتل کو انجام تک پہنچاکر رہے گی۔ وہ انصاف کی طلبگار تھی۔ اسے انصاف ملے گا، اسے یقین تھا۔ اس نے طے کرلیا کہ جب تک بیٹے کا قاتل اپنے کیے سزا نہیں پائے گا، پاؤں میں جوتے پہننا اس پر حرام ہے۔ اپنی اسی قسم کو لے کر وہ ننگے پاؤں انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتی ہے۔ ہفتے گزر جاتے ہیں، مہینے اور پھر سال۔ آتے جاتے اس کے پاؤں میں چھالے پڑجاتے ہیں۔ مگر کئی برس بعد جب انصاف کا اعلان ہوتا ہے تو مجرم بڑی عدالت سے ناکافی شواہد کی بنا پر باعزت بری ہوجاتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ قاتل کون ہے؟ لیکن ہر ایک نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے کہ طاقتور سے پنگا کون لیتا ہے۔ یقینا دُکھیاری ماں کو بھی اس موقع پر بہت سوں نے سمجھایا ہوگا کہ تمہیں انصاف نہیں مل سکتا، آرام سے بیٹھ جاؤ۔ قانون تو مکڑا کا جالا ہے جس میں صرف کمزور ہی پھنستا ہے۔ تم کن طاقتوروں کے سامنے کھڑی ہو۔ تم یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ پر دکھیاری ماں ہمت ہارنے والی نہیں تھی۔ اس کے سر پر ایک ہی دھن سوار تھی مجھے انصاف چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اور پھر اسے انصاف مل گیا۔ جب بیٹے کا قاتل باہر سے آتا ہے تو یہ ماں موقع پاکر اسے قتل کردیتی ہے اور اس کے بعد خود کو اسی قانون کے حوالے کردیتی ہے۔ جس کی گرفت سے ناکافی شواہد ہونے پر ایک مجرم چھوٹ چکا ہوتا ہے۔

پروین بی بی شاید جان چکی تھی کہ انصاف بکتا ہے، یہاں۔ انصاف کا قتل ہوتا ہے،یہاں۔ انصاف سویا رہتا ہے، یہاں۔ انصاف شرماتا ہے، یہاں۔ ایسے میں قانون ہاتھ میں لینا اس نے ضروری سمجھا۔

انصاف کا راستہ اتنا کٹھن ہے، اتنا طویل ہے کہ لوگ عدالتوں میں آتے آتے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ساری زندگی مقدمے لڑتے ہیں۔ پھر کہیں جاکر کچھ خوش نصیبوں کو انصاف ملتا ہے۔ ایسے بھی کہ جنہیں آخری عمر میں انصاف مل بھی جائے۔ مقدمہ جیت بھی جائیں تو اس سفر میں وہ اپنا بہت کچھ ہارچکے ہوتے ہیں۔ اپنی جوانی، اپنا پیسہ، اپنی عزت، اپنی آبرو اور بہت کچھ۔ انگریزی کے اس جملے کی عملی تفسیر، Justice delayed is justice denied ۔

اپنے بیٹے کے قاتل سے انصاف لینے والی پروین بی بی پر بہت سوں نے تنقید بھی کی ہے کہ قانون ہاتھ میں لیا۔ لیکن میں اس کے ساتھ ہوں۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ میں جذباتی ہوں، ہاں میں جذباتی ہوں۔ کیونکہ سوال پھر وہی بنتا ہے کہ پروین بی بی آخر کرتی کیا؟ وہ یقین کی حد تک جانتی تھی کہ اس کے بیٹے کی جان کس نے لی ہے؟ اس کے باوجود اپنی کمزوری کے سبب وہ طاقت ور کا مقابلہ نہ کرسکی۔ اسے انصاف نہ ملا، اگر نہیں ملا تو کون ذمہ دار ہے؟ شواہد اکٹھے کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ پروین بی بی کے بیٹے کا خون اتنا سستا کیوں جانا گیا کہ کہیں پر کوئی محنت ہی نہ کی گئی؟

ماں کا دل کیسا ہوتا ہے؟ ماں اپنے جگرگوشے کے قتل کا بدلہ کیسے لیتی ہے؟ ماں کا انصاف، ماں کا انتقام، ماں کا پیار اور ماں کا ہتھیار کیا ہوتا ہے؟ یہ سیالکوٹ کی پروین بی بی نے سب کو بتادیا۔ اگر ریاست نے ماں بننا ہے تو پروین بی بی کے کیس سے عبرت لے اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچان لے۔ ورنہ نظام انصاف سے مایوس ایسے ہی ہر مظلوم ہاتھ میں ہتھیار اُٹھائے گا اور جہاں بھی شہری اپنا انصاف خود لینا شروع کرتے ہیں، وہاں بربادی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں ایسے دن سے بچنا چاہیے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */