کیا کرۂ ارض کرسچین بن چکا ہے- پروفیسر جمیل چودھری

ہم اس سوال کے جواب میں صرف3عوامل کا جائزہ لیں گے۔اور اس کے بعد نتیجہ نکالیں گے کہ کیا کرۂ ارض مکمل طورپر عیسائیوں کے قبضے میں آگیا ہے۔پہلے ہم آبادی کے بارے گفتگو کریں گے بعد ازاں کرۂ ارض کا رقبہ اور قدرتی وسائل پر غور کریں گے اس کے بعد انسان کی عقل سے اس کرۂ ارض پرجوکچھ وجود میں آیا ہے۔اور اس سے طاقت کے توازن میں فرق پڑا ہے۔

اس پر غور کریں گے۔کیا اس عقلی علوم کی طاقت کا سب سے زیادہ حصہ عیسائی اقوام کے پاس ہے؟۔اور کیا عیسائی اقوام تیزی سے اس قوت میں اضافہ کررہی ہیں؟۔آبادی کے جائزے سے متعلق ہم واشنگٹن میں قائم پیوریسرچ سنٹرکو بنیاد بنائیں گے۔اور اس ادارے کے دیئے ہوئے اعدادوشمار کا حوالہ استعمال کریں گے۔اس کے شائع کردہ اعدادوشمار نہ صرف مستند بلکہ عالمی سطح پر غیر جانبدار شمارہوتے ہیں۔2015ء میں اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق مختلف مذاہب میں یقین رکھنے والوں کی تعداد اس طرح سے تھی۔

نمبرشمار مذاہب تعداد عالمی آبادی میں تباسب
1۔ عیسائی 2.3ارب 31فیصد
2۔ مسلمان 1.8ارب 24 فیصد
3۔ ہندو 1.1ارب 15 فیصد
4۔ بدھ مت .5ارب 6.9فیصد
5۔ بغیر مذہب 1.2ارب 16فیصد

ریسرچ سنٹر کی تحقیق کے مطابق 2015ء تک کرسچین ماؤں کے ہاں زیادہ بچے پیداہورہے تھے۔اس لئے آج کل عیسائیت تعداد کے لہاظ سے دنیا بھر میں سب سے بڑا مذہب ہے۔لیکن ریسرچ سنٹر کے اعداد وشمارکے مطابق2030-35ء کے دوران مسلمان بچوں کی شرح پیدائش عیسائی بچوں کی نسبت بڑھنی شروع ہوجائے گی۔اور2055-60ء کے دوران آبادی کے تناسب میں بڑی تبدیلی آچکی ہوگی۔کئی دیگر وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2060ء میں دونوں بڑے مذاہب کی تعداد کا اندازہ اس طرح لگایاگیاہے۔

مذاہب کو ماننے والے عالمی آبادی میں تناسب
عیسائی3.054ارب 31.8 فیصد
مسلمان2.98ارب 31.1فیصد

2060ء تک آپ کو کرۂ ارض کے 2بڑے مذاہب کو ماننے والوں کے تناسب میں بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یورپ اور امریکہ میں آبادی ضعیف ہورہی ہے۔بچے کم پیداہورہے ہیں ۔مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ نتیجہ بھی پیوریسرچ سنٹر سے اخذ کیاگیا ہے۔یہ بھی سنٹر بتارہا ہے کہ جن لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہے وہ زیادہ تر اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں۔لادین لوگ عیسائیت کی طرف بہت کم راغب ہورہے ہیں۔2015ء اور2060ء کے دوران دنیا کی آبادی32فیصد بڑھ جائے گی۔اور تعداد 9.6ارب ہوجائے گی۔اس عرصہ میں مسلم نوجوانوں جنکی زرخیزیت زیادہ ہوگی۔ایسے نوجوان70۔فیصد ہونگے۔

اس عرصے میں عیسائی نوجوان مسلم نوجوانوں کی نسبت صرف34۔فیصد بڑھیں گے۔اور مسلم نوجوان کی نسبت یہ تعداد بہت کم ہوگی۔اس طرح2060ء تک مسلمان کل آبادی کا31۔فیصد اور عیسائی کل آبادی کا32۔فیصد ہونگے۔ہندؤں کی تعدادمیں اضافہ اس عرصہ میں27۔فیصد کے لہاظ سے1.1۔بلین سے بڑھ کر1.4۔بلین ہونے کا امکان ہے۔باقی مذاہب کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔آبادی قوت وطاقت کا اگر ایک اہم فیکٹر ہے تو مسلمان اب بھی اس کرۂ ارض پر بڑی تعداد میں ہیں۔اگرچہ عیسائیوں سے کم ہیں۔لیکن2060ء مین تعداد تقریباًبرابر ہوتی نظر آتی ہے۔اس بڑے اوراہم عامل کی وجہ سے ہمیں کرۂ ارض عیسائی نظر نہیں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون توہینِ مذہب، ہم اورادارے-اظہر عباس

آیئے اب دوسرے اہم عامل پر گفتگو کرتے ہیں۔اس دوسرے عامل کا تعلق کرۂ ارض کے رقبے اور قدرتی وسائل سے ہے۔جونہی ہم مذہبی بنیادوں پر تیارکردہ کرۂ ارض کا نقشہ کھولتے ہیں تو ہمیں ہرطرف عیسائیت چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔پورے پورے براعظم عیسائیت کے قبضے میں ہیں۔1492ء تک کی صورت حال آج کل کی صورت حال سے بالکل مختلف تھی۔تب عیسائیت صرف یورپ تک محدود تھی۔اوریورپ رقبے کے لحاظ سے کوئی بڑا براعظم نہ تھا۔مسلمان 15ویں صدی عیسوی تک ایشیاء ،افریقہ اور یورپ کے بھی ایک حصے تک چھائے ہوئے تھے۔سمندروںکے ساحل ،دریا،جھیلیں اور بے شمار معدنیات انکے قبضے میں تھیں۔اس کے بعد انقلابی سال1492ء آیا۔

کولمبس اور اس کے ساتھیوں نے نئی دنیا کی تلاش شروع کی وہ اپنی تیسری مہم میں امریکہ تک پہنچ گیا۔اورپھر آنے والی 2۔صدیوں میں کرۂ ارض کا نقشہ بدل گیا۔نصف خفیہ کرۂ ارض ظاہرہوتا ہوگیا۔شمال میں گرین لینڈ اور کینیڈا سے لیکر جنوبی امریکہ تک بڑ ے بڑے ممالک دریافت ہوئے۔اور پھر مزید آگے آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ۔یورپ کے عیسائی بڑے بڑے بحری جہازوں اور کشیوں میں بیٹھ کر نودریافت شدہ نصف کرۂ ارض پر قابض ہوتے چلے گئے۔یہ کام پوری2۔صدیوں تک جاری رہا۔بے شمار ممالک اور سینکٹروں جزیرے ایک ہی مذہب عیسائیت کے قبضے میں آگئے۔اسے کرۂ ارض کا بڑا اور بنیادی انقلاب کہنا چاہئے۔

ایک چھوٹے براعظم یورپ میں رہنے والوں کو جب براعظم شمالی امریکہ اور براعظم جنوبی امریکہ جیسے رقبے اور وہاں موجود سینکڑوں طرز کے قدروسائل دستیاب ہوگئے۔عیسائیوں کو قدرتاً اور اچانک پھیلنے اور ترقی کرنے کے بے پناہ وسائل دستیاب ہوگئے۔یہاں سے بے شمار سونا،چاندی اور ہیرے جواہرات یورپ میں لائے گئے اس سے بڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔صنعتی انقلاب میں بھی اس درآمد شدہ دولت نے بڑا رول اداکیا۔درآمد شدہ دولت نے یورپ کو ترقی کی راہ پر ڈالا۔پرنٹنگ پریس پہلے ہی ایجادہوچکا تھا۔لہذا علم کے پھیلاؤ کے لئے آسانیاں پیداہوئیں۔جن تحریکوں نے یورپ اور پھر امریکہ کو بدل دیا اور طاقت وربنادیا۔

ان میں درجہ ذیل اہم ہیں۔نشاۃ ثانیہ،اصلاح مذہب،پرنٹنگ پریس کی ایجاد،انقلاب فرانس اور نودریافت امریکہ سے درآمدہ بے پناہ دولت۔موجودہ مذہبی نقشہ اگرکھول کردیکھا جائے تو پورے کرۂ ارض پر عیسائیت چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔شمال میں الاسکا تک پھیلا ہواعیسائی روس،براعظم یورپ،گرین لینڈ،براعظم شمالی امریکہ،براعظم جنوبی امریکہ،آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ،افریقہ کا نصف جنوب بھی عیسائیوں کے قبضے میں ہے۔یو۔این۔او میں پانچ میں سے4بڑے عیسائی ہیں۔انہوں نے جنوبی سوڈان میں عیسائی ریاست قائم کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایسے ہی انڈونیشیاء کے ایک جزیرے کو عیسائی ریاست میں تبدیل کرالیا۔ایشیاء میں فلپائن موجود ہے۔

چائنا میں عیسائیوں کی تعداد10۔کروڑ بتائی جاتی ہے۔یہاں عیسائیوں کو تبلیغ کی کھلی چھٹی ہے۔بھارت میں عیسائی کافی بڑی تعداد میں ہیں۔اس دوسرے عامل یعنی رقبے کے لحاظ سے کرۂ ارض کو عیسائی کرۂ ارض ہی کہنا پڑتا ہے۔اور یہ فرق 1492ء کے بعد پڑاہے۔اس سے پہلے عیسائیت صرف یورپ تک محدود تھی۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ جب نئی نصف دنیا دریافت ہورہی تھی تو مسلمان کہاں تھے؟۔کن کاموں میں مصروف تھے؟۔آخر یہ لوگ نئی دریافت شدہ دنیا کی طرف کیوںنہیں گئے؟۔حالانکہ یورپ سے متصل ہی ترکوں کی بڑی حکومت موجودتھی۔اسوقت نقشے میں مسلمانوں کے پاس۔شمالی افریقہ،اور ایشیاء کا کچھ حصہ ہی نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم اپنی زندگی میں کتنا پلاسٹک کھاتے ہیں؟

ترکوں کا فتح کردہ یورپی حصہ بہت جلد عیسائیوں نے واپس لے لیاتھا۔مسلمان اب ابتداء میں فتح کردہ اپنے قدیم علاقوں تک ہی محدود ہیں۔رقبے کا یہ فرق اب عیسائیوں اور مسلمانوں میںمستقل پڑگیا ہے۔اور آئندہ بھی رہے گا۔آیئے تیسرے عامل علم کی طاقت کا ذکر کرتے ہیں۔15۔ویں صدی تک چینی سائنس ،مسلم سائنس اور یورپین سائنس ہمیں ایک ہی سطح پر نظر آتے ہیں۔اپنی ابتدائی7۔صدیوں میں مسلمانوں نے بے شمار سائنسی علم تخلیق کیا۔اس علم کی قوت سے وہ صدیوں تک پرانے کرۂ ارض پر ایک سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے۔جیسا کہ شروع میں ذکر ہوا۔یورپ میں بہت سی تحریکوں کی وجہ سے نیاعلم پیداہونا شروع ہوا۔

ایجادات ہوئیں۔اس کے نتیجہ میں صنعتی انقلاب آیا۔دولت اور طاقت میں یورپ تیزی سے آگے بڑھا۔مسلمان ممالک اس عیسائی طاقت کی بدولت غلام بن گئے سائنس اورٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گئے۔اب کرۂ ارض پر امریکہ اپنی قوت سے چھایاہوا ہے۔یورپ کا بھی بے شمار اثرورسوخ ہے۔عیسائی روس بھی تیزی سے ابھررہا ہے۔اوراب سپر پاور امریکہ نے فضاؤں سے اوپر اٹھ کرخلاؤں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔خلائی فورس بنائی جارہی ہے۔مریخ پر انسان کو آباد کرنے کی تیاری ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ عیسائی دنیا نے تسخیر کائنات کا سفرشروع کردیا ہے۔ہم مسلمان صرف اپنی زیادہ آبادی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔سائنس،ٹیکنالوجی اور بڑی معیشت کی وجہ سے کرۂ ارض پر مغرب قابض ہے۔2016ء کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس وقت دنیا کی کل خام قومی پیداوار کا صرف 8فیصد مسلم ممالک میں پیداہوتا ہے۔کیا یہ تمام عوامل کرۂ ارض کو عیسائی کرۂ ارض ظاہر نہیںکررہے۔کچھ دوست اس اصطلاح کو پسند نہیں کریں گے۔

لیکن حقیقت تو حقیقت ہی ہوتی ہے۔اب مسلمان عیسائیوں کی ملکیت بڑے بڑے رقبوں کو طاقت کے زور سے فتح تو نہیں کرسکتے اور اپنے قدرتی وسائل میں اضافہ تو نہیں کرسکتے۔اوپر اٹھنے اورطاقتور بننے کا بس ایک ہی آپشن ہے کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی تخلیق کرناشروع کریں۔

ہرمسلم ملک اپنے وسائل کابڑاحصہ تحقیقی اور تخلیقی کاموں پر لگائے۔اشیاء سازی میں اضافہ ہو۔معیشت بڑھے گی تو مسلمانوں کی طاقت میں بھی اضافہ ہوگا۔یوں آپ مغرب کے قریب آناشروع ہوجائیں گے۔طاقتور مغرب سے محفوظ رہنے کا بس یہ ایک ہی طریقہ ہے۔کرسچئین کرۂ ارض ساتھ ہی مسلم کرۂ ارض بھی نظر آنا شروع ہوجائے گا۔