مجھے اختلاف ہے - لطیف النساء

ایک چاکلیٹ امی کے لیے، شاید کافی حد تک لوگوں کو یہ جملہ یاد ہو گیا ہوگا۔ اتنی تکرار سے دکھاتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر ہی دکھاتے ہیں مگر حیرت کی بات ہے کہ اتنی غلط چیز پر کسی کو اعتر اض تک نہیں جبکہ مجھے اختلاف ہے۔ تہذیب اور تمدن ، خودداری اور حق کا اور سچ کا نام ہے۔

اگر بچے کے پاس کوئی ایسی چیز آجائے جو اس کی اپنی نہ ہو تو ماں، باپ ضرور پوچھتے ہیں کہ بیٹا یہ چیز کہاں سے آئی؟ کس کی ہے؟ اور کس نے دی ہے؟ چاہے وہ ڈبیہ ہو ، پنسل ہو یا رنگین خو بصورت ربڑ ہو تاکہ چھوٹے بچوں میں اپنی چیز کی اہمیت اور دوسروں کی چیزوں میں نہ صرف فرق آئے بلکہ اپنی اور دوسرے کی چیز کا فرق وا ضح ہو۔ اچھی سے اچھی ہونے کے باوجود پو چھ کر لیا جائے اور اجازت سے استعمال کیا جائے۔

یہی اخلاق ہے تہذیب ہے، یہ نہیں کہ جو اچھا مل گیا خو ش ہو گئے، بغیر سوچے سمجھے کھا لیا پی لیا، انجوائے کر لیا کہ وہ اپنی پیاری بچی معصوم ہے اور ایسی بھی حرکت کرسکتی ہے ماں کو خوش کرنے کے لیے۔ اپنی پسندیدہ چیز چاکلیٹ لینا چاہتی ہے، اس کی قیمت اپنی جیولری کی صورت میں دیتی ہے، اور وہ صاحب پیار لٹا تے ہوئے ہمدردی کے ساتھ چاکلیٹ دیکر بچی کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے چاکلیٹ ہی نہیں دیتے بلکہ ایک چیز واپس چینج کی شکل میں دے کر اس کے اعتماد کو بحال کردیتے ہیں مگر دوسری طرف ماں کو دیکھ کر مسکرانے میں گویا خوش ہیں اور اپنی دانست میں خوشیاں بانٹ رہے ہیں لیکن اس کا اثر کیا ہوگا؟

مطلب ہمارے بچوں میں سالگرہ کا اتنا بھوت سوار ہو گیا ہے کہ بچہ بچہ اسی کو منانا چاہتا ہے، اور ماں باپ ان کی خوشی میں خوش ہیں لیکن ہمارا یہ کلچر نہیں ہے۔ بے شک سالگرہ خوشی کی بات ہے مگر اس حد تک کہ ہم بے وقوفی جانتے بوجھتے کر جائیں یہ اچھا نہیں۔ ماں کو پوچھنا چاہیے کہ کہاں سے لائی یہ چاکلیٹ اور کس نے دیے اس کے پیسے؟ پھر سمجھاتی، بچے کے سامنے دکاندار کا شکریہ ادا کرکے، پیسے دے کر کے بچی کا سامان واپس لے کر کہتی کہ اس طرح سودا نہیں ہوتا، اس طرح دوسرے بچے نہ جانے کیا کیا لا کر دیں گے اور بڑے تو پھر بڑے ہی ہوئے وہ جو نہ کریں کم ہی ہوگا۔

بچی کو پیار سے سمجھاتی بیٹا آپ کو مجھ سے پیسے لیکر چاکلیٹ خریدنا چاہیے، کوئی حیران کرنے یا سرپرائز دینے کی بات نہ ہوتی۔ اگر ماں باپ تربیت دیں اپنے بچوں کو کہ بیٹا کوئی کارڈ بنا لیں، کچھ اچھا لکھ لیں، کو ئی کلر کی ہوئی چیز بنا کر دیں اور والدین، ماں باپ اس سے خوش ہوں ان کو پیار کریں سب کو اس کا ہنر بھی دکھائیں، اس کا حوصلہ بڑھائیں۔ میری نواسی نے اپنی پرانی گڑیا بھائی بہن کے ساتھ اخبار کے رنگین صفحے میں پیک کرکے دی جس سے اس کے بابا بہت زیادہ خوش ہوئے اور ہمیں سنایا، یقین جانیے بہت خوشی ہوئی۔ کہتے ہیں کہ پرانے کپڑے بھی ضرورت مند غریب کے لیے نئے اور خوشی کا باعث ہوتے ہیں۔

بالکل صحیح ہے لیکن ان رسومات نے بچوں اور بڑوں کا حقیقی حسن ہی گنوا دیا ہے اور ہم سب اسی میں خوش ہیں اس طرح کے اشتہارات قابل تحسین نہیں بلکہ قابل عبرت اور ہماری کمزوری ہیں۔ ایک دفعہ اسی طرح کا میں نے کہیں واقعہ پڑھا تھا کہ دو بچے ساحل کے کنارے کھیل رہے تھے جو قریبی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ علاقے میں مٹھائی کی چھوٹی دکان بھی تھی۔ چھوٹی بہن نے بھائی سے کہا مجھے مٹھائی کھانی ہے جبکہ وہ دونوں بہت سی خوبصورت سیپیاں جمع کرکے واپس آرہے تھے۔ بھائی نے کچھ سوچا اور مٹھائی کی دکان پرگیا، اسے روپے پیسے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بس اس کے دل میں آیا کہ یہ سیپیاں میں دکاندار کو دے کر مٹھائی لوں گا۔ وہ دکان دار کے پاس گیا اور اپنی خوبصورت سیپیاں مٹھائی والے کو دے کر کہا کہ مجھے بہن کے لئے مٹھائی چاہیے۔ مٹھائی والے نے دس سیپیاں لے کر باقی اسے دے دیں اور دو ٹافیاں لڑکے کو دے دیں۔ اس وقت دکاندار کے ساتھ ایک اور ملازم بھی تھا۔ بچوں کے جانے کے بعد اس نے دکاندار سے کہا آپ نے اسے سیپیوں کے بدلے ٹافیاں کیوں دیں۔ اس نے جواب دیا عرصے بعد یہ بچے یہاں آئے ہیں، تھوڑے بڑے ہو گئے ہیں۔ میں نے اس لیے ٹافیاں دیں کہ جب یہ بچہ جس نے اپنی بہن کی خواہش پوری کی ہے، جب بڑا ہوگا تو ضرور جان جا ئے گا کہ اس کا واسطہ ایک عظیم انسان سے پڑا تھا اور نیکی کا احساس اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔

شاید ایڈ بنانے والوں نے اسے دیکھ کر یہ ایڈ بنایا ہو مگر یہاں تا ثر بالکل غلط ہے۔گھر میں بچے آ کر آپس میں یہ کھیل کھیلیں، وہ بہت چھوٹے بچے کو اچھا لگے گا مگر ایر ے غیرے کو اپنی پہنی ہوئی چیزیں نکال کر دینا اور کسی کا قبول کرکے چاکلیٹ دے دینا اور ماں کا خوشی سے بلاجھجک لے لینا درست نہیں۔ غور کیجیے کیا ہم اور آپ ایسا کر سکتے ہیں یہ بات اپنی شکلیں بدلتی رہیں گی تو کیا ہم خوش ہوتے رہیں گے؟

بہر حال ایسے ایڈ بنائیں جس سے واقعی مسرت اور محبت اجاگر ہو جیسے "اوریو" والا اشتہار، بریانی نہیں بنائی بھائی والا اشتہار اور اسکول جاؤ گے جس میں کم سن لڑکے کو ایک شخص اسکول داخل کرواتا ہے اور اس کو تعلیم دلوا کر معاشرے کا کارآمد انسان بننے میں مدد دیتا ہے، یعنی جو معاشرے کی اصلاح اور سدھار والے ہوں نہ کہ بگاڑ والے، کیونکہ اس سوال کا جواب کیا دو گے جب رب پوچھے گا کہ کیسے مال کمایا؟ کہاں خرچ کیا؟ تو خرافات کے کام کرکے نقلیں اتار کر دوسروں کی دل آزاری کرکے، رسوائی کروا کر ناظرین کو بہت ہنسانا جبکہ دوسرے دیکھ کر دکھی ہو جائیں، عورتوں کو مرد اور مردوں کو عورتوں اور خوا جہ سرا ئوں کی صورت میں مسخرے کرکے دکھا نا معاشرے کا سدھار نہیں بلکہ سراسر بگاڑ ہے۔

زندگی بہت مختصر ہونے کے ساتھ ہرلمحے کا امتحان ہے تو کیا ہمیں اس ایک سخت ختم ہوجانے والے امتحان کی تیاری بالکل نہیں کرنی ؟ برا ئیوں کی ہی تشہیر کرنی ہے۔ معاشرے کے بنائو اور بگاڑ کا ذمہ کس کا ہے ؟ یہاں تو ہر شخص داعی ہے تو کیا وہ اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے ۔

سب کچھ چلتا ہے نہیں چلے گا۔ شائستہ اور مہذب زندگی کو فروغ دیں، اخلاق اور وقار کو فروغ دیں، جو بات نیکی میں ہے وہ برائی میں ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بصیرت عطا فرمائے ۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */