امریکہ اور بھارت کے پیٹ کا مروڑ - شیراز علی‎

امریکہ کچھ عرصے سے وسطی ایشیاء میں باولے کتے کی طرح جگہ جگہ منہ مارتے پھر رہا ہے جس کی حالیہ مثال ایران کے ساتھ تنازع کی صورت میں دیکھ لیے یا پھر ترکی کے ساتھ کردوں کے معاملے میں تجارتی پابندیاں ہوں یہ سب امریکا کے باولے پن کا منہ بولتا ثبوت ہے حالانکہ افغانستان میں جس طرح اس کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سے امریکہ کو ہوشیار ہو جانا چاہیے تھا اور یہ صاف ظاہر ہے کہ افغانستان میں ناکامی کے بعد شروع ہونے والا زوال شاید اب کبھی ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی امریکا میں اتنی سکت باقی بچی ہے کہ وہ اس کا تدارک کر سکے اس کے باوجود امریکا چین جیسی سپر پاور معیشت کے ساتھ ٹکر لینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے اور اب تو کھل کر مخالفت پر اتر آیا ہے کیوں کہ امریکا اصل میں چین کے مقابلے میں پاکستان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔

اس کی وجہ دنیا کے سامنے ہے کہ چین ہرحال میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور چونکہ اب تو سی پیک بھی اپنا پہلا مرحلہ مکمّل کر چکا ہے جو کہ روز اول سے امریکا کی آنکھوں میں چبھتا آ رہا ہے جس کا اظہار امریکہ کی نمائندہ خصوصی برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے جمعرات( 21 ) کو امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکیا انہوں نے کہا کہ سی پیک کو چین اور پاکستان 'گیم چینجر' قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس سے صرف چینی مفادات کا تحفظ ہو گا، امریکہ کے پاس اس سے بہتر اقتصادی ماڈل موجود ہے۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ سی پیک پاکستان کے لیے امدادی منصوبہ نہیں ہے۔ پاکستان کو ان منصوبوں سے متعلق چین سے سخت سوالات پوچھنے چاہئیں۔ اُن کے بقول، "سی پیک کے اثرات پاکستان کی معیشت پر اس وقت پڑیں گے جب چار یا چھ سال بعد پاکستان کو قرضوں کی مد میں ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔"

یہ بھی پڑھیں:   پی پی پی گگلی ماسٹر بمقابلہ متحدہ کنگ میکر - قادر خان یوسف زئی

امریکی نمائندہ خصوصی کے مطابق سی پیک کے تحت ملنے والے قرضوں کی شرائط بھی نرم نہیں ہیں جب کہ چینی کمپنیاں اپنے مزدور اور خام مال پاکستان بھجوا رہے ہیں۔ ان کے بقول "سی پیک کے تحت چینی کمپنیاں اور مزدور پاکستان آ رہے ہیں، حالانکہ پاکستان میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے امریکہ کے پاس بہتر ماڈل موجود ہے۔ اُن کے بقول "امریکہ کی نجی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور حکومتی امداد سے پاکستان کو معاشی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ا س سے قبل بھارت بھی سی پیک کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں روکنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔

پانچ اگست کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد بھارت نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں سی پیک منصوبے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔یاد رہے ک 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو' جسے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبہ بھی کہا جاتا ہے، کے تحت چین وسطی ایشیا سمیت دنیا کے لگ بھگ 66 ممالک کو تجارتی سطح پر جوڑنا چاہتا ہے۔اس منصوبے کے ایک حصے جسے 'سی پیک' کہا جاتا ہے، کہ تحت چین نے پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

چین پاکستان کی گوادر بندرگاہ تک موٹرویز اور ریلوے لنک کا جال بچھانے کے علاوہ پاکستان میں توانائی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا چند سوال جو امریکا کی نام نہاد دانشوروں سے جواب طلب ہیں وہ یہ ہیں کہ کیا پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل میں چین نے دھکیلا اور کیا افغانستان یا پھر اپنے ملک کی خانہ جنگی ایک قدرتی عمل تھا جس میں بے تحاشہ جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا بھی جنازہ نکل گیا اس وقت امریکا کو پاکستانی معیشت کا خیال کیوں نہیں آیا اور اس وقت کیوں یہ بہتر ماڈل پیش کرنے کی نوبت محسوس نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   دینِ عمرانی کی ریاستِ مدینہ - حبیب الرحمن

اور کیا سابقہ حکمرانوں کو پاکستان سے لوٹ مار کرتے وقت امریکا نے ان کی مدد نہیں کی کیا اتنا سب کچھ وہ اکیلے کر گئے اس وقت کیوں پاکستان پر ترس نہیں آیا اور روس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کس نے دہکیلا کیا یہ سب پاکستان کی کرتا درتا تھی یقینا امریکہ ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکتا کیوں کہ اس کا کام سرف فساد پھیلانا ہے اور فساد کا کوئی جواب کوئی دلیل نہیں ہوا کرتی۔

اگر ہم امریکی آسرے پر رہتے تو نہ ہم ایٹمی قوت بن سکتے تھے اور نہ ہی ایٹمی میزائلوں کی دوڑ میں بھارت سے آگے نکل سکتے تھے اورروایتی اسلحے کے حصول کے ساتھ نہ ہی جے ایف تھنڈر جہاز بنا سکتے تھے۔ چین تو پاکستان کا دامے درمے سخنے دوست ہے جس پر امریکہ اور بھارت کو اکثر مروڑاٹھتے ہیں۔