عورت اور آزادی - ساجدہ اقبال

فرانسیسی دارلحکومت پیریس میں سینکڑوں ہزاروں عورتوں نے خواتین پر "تشدد" اور دیگر زیادتیوں کے خلاف جلوس نکالا، احتجاجی مظاہرہ کیا۔ "پیرس" شہر کےمرکز میں ہزاروں مردوں اور خواتین کا ایک جم غفیر جمع ہو گیا تھا۔ پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے، جن پر ان کے ظلم کے شکار "ساتھیوں کے نام لکھے ہوئے تھے"، جنھیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی جان چلی گئی۔ مظاہرین کا اصرار تھا کہ "ہم بھی ان کے ساتھ کھڑی ہیں"۔ اس مظاہرے کو 70 سے زائد تنظیموں نے منظم کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ 116 کو تشدد سے مارا گیا اور قاتل شوہر ہی تھے اور ہر 3 میں ایک عورت اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، جبکہ فرانس میں ہر سال 2 لاکھ سے زیادہ خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ابھی کچھ خواتین ایسی ہیں جن کی اس سلسلے میں معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

یہ 25 نومبر کےایکسپریس اخبار سے تفصیل حاصل کی گئی ہے۔ یہ پڑھ کر میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے جیسے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ اسلامی ملکوں کے متعلق یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہاں عورتوں کو دبا کر رکھا جاتا ہے۔ کئی اخبارات و رسائل میں تو پنجرے کی شکل بنا کر اس میں عورت کو بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ لیکن وہ عورت صرف مسلمان ہی دکھائی گئی ہے تاکہ پوری دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ یہ مسلمان عورت کا حال ہے کہ ان کو بولنے کی آزادی ہے نہ پڑھنے کی، اور نہ کوئی اپنا کاروبار کرنے کی آزادی ہے۔اتنا مظلوم دکھایا جاتا رہا ہے اور ہر اس ایشو کو چھیڑا جا رہا ہے جس سے عورتوں کو اکسایا جا سکے۔ پردے کو' حجاب کو، خاندانی نظام کو' شوہر اور بیوی کے ازدواجی تعلقات و معاملات کو پوری دنیا کےسامنے بےحیائی کے ساتھ اس کا پرچار کیا جاتا ہے، عورتوں کو بےراہ روی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

زیادہ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ''خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائیں"۔ اگر آپ کا کوئی احساس نہیں کرتا تو گھروں سے بھاگ جائیں اور ان مصیبتوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑائیں۔ یہ تمام باتیں میڈیا کے ذریعے معصوم عورتوں کے ذہنوں میں ڈالی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عورتوں کو مردوں کے برابر کی سطح پر حقوق کی بات کو بہت بڑھا کر بیان کیا جارہا ہے۔ آج مغرب وہ تمام ہتھکنڈے مسلم معاشرے پر آزما رہا ہے جس کو آزما کر وہ بے حیائی اور تشدد کی دلدل میں پھنس چکا ہے"۔ بقول فرانس کے وزیرانصاف نکولے بیلیو بیٹ کہ ہمارا نظام اس قابل نہیں ہے کہ وہ گھریلو خواتین کو مکمل تحفظ پہنچا سکے۔ ان کے اپنے معاشرے میں تباہی و بربادی ان کے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن غم مناتے ہیں مسلم عورت کا۔ مغرب ہمیشہ ہمارے معاشرے کا ایسا رخ دکھاتا ہے جس سے نوجوان نسل بے چینی واضطراب کی کیفیت میں چلی جائے، اسی وجہ سے وہاں نفسیاتی مسئائل کی بھرمار ہے۔ حالانکہ بقول مفکر فطرت حق یہ چاہتی ہے کہ ! انسان اپنی ان خواہشات کو پورا کرنے اور ان استعداد سے جو فطرت نے عطا کی ہیں، حاصل کرنے کے لیے نرا حیوانی طریقہ استعمال نہ کرے۔ اس غرض کے لیے فطرت نے کچھ حدود و قیود رکھی ہیں تاکہ انسان کے افعال کو ایک ضابطہ کا پابند بنایا جائے۔ جب بھی کوئی معاشرہ "فطرت" سے نبردآزما ہونے کی کوشش کرتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ رہا ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی مغربی تہذیب سے متاثر ہے، اس پر غلط اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔