فطرت طاقت کا سر چشمہ - عالیہ زاہد بھٹی

26 نومبر 2019 کی سلونی شام تھکن اور رعنائی دونوں بیک وقت محسوس کروا رہی تھی تھکن دن بھر کی مردانہ وار محنتوں کا شاخسانہ تھی اور رعنائی موسم اور رتبے کی دین ، موسم خنک اور رتبہ نازو انداز سے لبریز اک شریکِ حیات کا جو گھر سے باہر تھی تو اک سنگلاخ چٹان کی مانند سخت ، ناقابل تسخیر ،مختصر کہیں تو "دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان" اور وہی طوفان اب آبِ رواں جیسی میٹھی مسکان لئے اپنے ملّاح کے انتظار میں ہے وہ ملّاح کہ جسے اس بحر بیکراں کی طلاطم خیز موجیں رک کر،تھم کر ٹہر کر ایسے راستہ دیتی ہیں کہ جیسے ان میں کبھی طغیانی آئی ہی نہ تھی،اگر آئی بھی تھی تو کم از کم وہ اپنے ملّاح کے لئے نہ تھی،

قصہ مختصر یہ تمام منظر کشی ہے اک جنگجو اور دلیر عورت کے شام کی چائے پر اپنے محبوب شریک سفر کے انتظار کی ۔۔۔انتظار طویل ہورہا تھا اسے اخبار کی طرف توجہ کرکے مختصر کرنے کی کوشش کی نظروں نےپوری اخبار چھوڑ کر تعاقب کیا اک دلنشین عنوان کا عنوان کیا تھا گویا بہتا ہوا جھرنا تھا جس نے شام کی چائے پر میاں جی کے انتظار کو چار چاند لگا دیے کہ "ان عورتوں میں بہت دم ہے" لکھنے والی کوئی خاتون نہیں وہ ہستی جسے مرد کہہ کر اس کے خالق نے عورت کا محافظ ہونے کی وجہ سے افضل قرار دیا نام دیکھا تو وسعت اللہ خان صاحب کا اسم گرامی تھا گویا یہ عورت کی تکریم اور عزت سے بھرپور عنوان دے کر اس کی عظمت کو گنوانے والے وسعت اللہ خان صاحب ہیں، طبیعت مزید خوش ہوئی یہ جان کر کہ آج شام کی چائے پر میاں جی کو خواتین کی غیرت، حمیت اور دلیرانہ انداز فکر کے قصے سنا سنا کر مزید مرعوب کریں گے انہی سوچوں میں جناب وسعت اللہ خان صاحب کو بہت سی دعائیں بھی دے دیں کہ آج کی شام عورتوں کی بہادری کے نام اور اس بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے اس مرد مجاہد کو داد وتحسین کے ڈونگرے بھر بھر کر برسانا کالم پڑھنے تک موقوف کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے پاس تم ہو کی آخری قسط میں کیا ہوگا؟ نیلم اسلم

موبائل کی بیل پر توجہ کی میاں جی کا فون تھا کہ "آدھا گھنٹہ دیر ہو جائے گی ٹریفک جام ہے" سوچا چلو کالم پڑھ ڈالا جائے اور اہم نکات میاں جی کے گوش گزار کر دئیے جائیں ۔۔ مگر یہ کیا جوں جوں کالم پڑھتے گۓ دماغ اڑان بھرنا شروع کرتے ہوئے پریشر ککر کی طرح بھک سے اڑ گیا سارے گمان الٹے پڑ گئے یہ کیا یہ جن بیبیوں کی مدح سرائی میں وسعت اللہ خان صاحب رطب اللسان ہیں وہ نہ تو بہادر نظر آئیں اور نہ ہی مروجہ اصولوں کے مطابق مردانہ وار محنتوں میں گم نظر آیئں ہاں مردانہ بال،مردانہ چال،مردانہ کھال اور مردانہ حال یہ سب تو تھا مگر اک نسوانیت کے پیکر میں لپٹی اپنی حیا کی چادر کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کرتی حالات کے رخ بدلتی عورت کہیں نظر نہیں آئ،میں خدیجہ رضی اللہ، فاطمہ رضی اللہ،عائشہ رضی اللہ اور صفیہ رضی اللہ کی مثال اس لئے نہیں دوں گی کہ یہ کم نظر اور کم فہم گردش دوراں کو بیچ میں لا کر کہیں گے کہ وہ دور اور تھا اور یہ دور اور ،'

ارے عصر حاضر میں زینب الغزالی نظر نہیں آئ آپ کو،جسکی باہمت اولوالعزم نسائیت سے مرد ہار گئے تو جنگلی کتوں کو اس کی کوٹھڑی میں چھوڑ دیا گیا مگر پھر بھی اس کی جرات و حمیت کی قیمت نہ لگا سکے ، ارے بی امّاں،تحریک پاکستان پر کٹ مرنے والی دیگر خواتین،تو آپ کو یقیناً نظر نہیں آئی ہوں گی دور کی نظر آج ہماری کافی کمزور ہےعورت بے لباس و بے حیا ہوتو دور صدیوں کی گہرائیوں سے بھی نظر آئے گی یہ مردانہ نگاہ کا کمال ہے کہ پردے میں چھپی ڈھکی مضبوط عورت چند قدم کے فاصلے سے بھی نظر نہیں آتی تبھی تو آسیہ اندرابی اور عافیہ صدیقی کا نام بھی ان"دلیر" شہزادیوں میں نہ تھا میں اس کالم کے عنوان سے جتنی خوش ہوئ تھی اندر کے مندرجات نے مجھے بہت مایوس کیا، محترم وسعت اللہ خان صاحب آپ جن کو"بہادر" کہہ رہے ہیں اس تعریف کی رو سے تو پھر آپ کو حدود پار کرنے والی ٹریفک سگنل توڑنے والی، ہر نظم وضبط سے کبیدہ خاطر اک"مائ منڈا ناری"درکار ہے اسے براہ مہربانی عورت کہہ کر حدود وقیود کی پاسدار،نسوانی وقار کی علمبردار،اور اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے ڈنڈا بردار حقیقی خراج کی حقدار عورتوں کے حقوق کی پامالی نہ کریں،

یہ بھی پڑھیں:   میں عورت ہوں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

آپ ان گنتی کی چند ایلیٹ کلاس بیگمات ٹائپ مردانہ وضع قطع اختیار کرنے والی خواتین کو سراہیں آپ کا حق ہے،آپ کی ذاتی پسند نا پسند ہے مگر ان کو داد وتحسین سے نوازتے ہوئے آج ہی کے دور کی ان عورتوں کو نہ بھولیں جو اصول و ضوابط توڑ کر نہیں بلکہ اصول و ضوابط کے اندر رہ کر آلو پیاز بیچ بھی رہی ہیں اور خالص زنانہ حجاب میں رہ کر مردانہ وار زندگی کے طوفان کا مقابلہ بھی کررہی ہیں یقین نہ آئے تو اپنے دارلحکومت میں ہی جاکر فاطمہ فوڈز والی بزنس لیڈی کا انٹرویو کرکے یہ ضرور سروے کیجئے گا کہہ "حدود"کے اندر رہ کر کام کرنا آسان ہے یا "حدود" کو پامال کرتے ہوئے؟ وسعت اللہ خان صاحب