رائیگاں- ہارون الرشید

سچے متلاشی پا لیتے ہیں۔ گوہر انہی کو نصیب ہوتا ہے، جستجو جن کی کھری ہو وگرنہ رائیگاں ، ساری زندگی رائیگاں۔ اس عظیم شاعر، اس یاد رہ جانے والے آدمی فیض احمد فیض سے ایک بار اس ناچیز کو بھی واسطہ پڑا۔ اس کا ذکر بعد میں۔ فی الحال تو اس غلغلے کا ذکر، جو ان کے نام پہ برپا ہے۔ فیض بہت شائستہ اور صابر تھے۔ حیات ہوتے تو ان بچوں کو سمجھاتے کہ ہماری عمر تو رائیگاں رہی، تم کیوں رائیگاں کرتے ہو۔ درد تُو جو کرے ہے جی کا زیاں فائدہ اِس زیان میں کچھ ہے؟ فیض دنیا سے اٹھے تو اسی دن ہمیشہ بے چین رہنے و الے رانا نذر الرحمٰن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بزرگ تھے مگر نواب زادہ بزرگ تر۔مظفر گڑھ کے تاجک زمیندار نے بہت نشیب وفراز دیکھے تھے۔ ابو الکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور اپنے عہد کے سب سے بڑے خطیب سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے واسطہ رہا تھا۔ دل کی بات کم کہتے۔ کہتے تو موتی رولتے۔ اپنی روش کے آدمی تھے۔ ہمیشہ سفید کرتا شلوار، ہمیشہ وہ سرخ رومی ٹوپی پہنے رہتے، جو مراکش کے شہیدوں کی یادگار تھی۔

جن کی یاد میں اقبال نے لکھا تھا بیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے قبا چاہئے اس کو خونِ عرب سے چند لمحے خلا میں کچھ ڈھونڈتے رہے اور بولے ’’ڈاکٹر عشرت جہاں فیض احمد فیض کی انّا تھیں، انہیں لوریاں سنایا کرتیں " رانا صاحب نے طالبِ علم سے ذکر کیا تو وہ سوچتا رہا۔ اللہ کو منظور ہو تو گرہ کھل جاتی ہے۔ ڈاکٹر عشرت جہاں امرتسر میں ہوا کرتیں ، فیض صاحب وہی ایک سرکاری کالج میں لیکچرار۔ کئی عشرے بعد تاریخ کا ایک نمایاں کردار ہو جانے والے جنرل اختر عبد الرحمٰن ان سے فیض پانے والوں میں سے ایک تھے۔عمر بھر شاید ہی کوئی شعر پڑھا ہو۔ نمایاں ہونے کی تمنا کس میں نہیں ہوتی لیکن کہاں کس کو ابھرنا ہے، یہ تو وہی جانتا ہے جو تقدیریں رقم کرتا ہے۔ پولیس افسر بنی مگر اماں نے ڈانٹ دیا۔ فوج میں گئے اور امر ہو گئے۔ کتاب میں رقم ہے ’’زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ، جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اورجہاں جہاں کسی جاندار نے رکنا اور ٹھہرنا ہے، اللہ اسے جانتا ہے۔ سب کچھ کتابِ مبین میں درج ہے۔‘‘ ہر آدمی کو ایک ہنر بخشا جاتاہے اور ایک افتادِ طبع۔غور و فکر کے خوگر بچ نکلتے ہیں وگرنہ وقت کا رزق ہو جاتے ہیں۔ ایک سردار کے گھر پیدا ہونے والے فیض کو مبدا ء فیاض نے حسنِ خیال بخشا تھا،طبع ِ موزوں عطا کی تھی مگر فیشن کا شکار ہو گئے۔ جیسا کہ انسان کی اکثریت ہوتی ہے،فکر و خیال کی دنیا میں ریاضت بہت کی ۔ عربی، انگریزی، فارسی اور اردو پر دسترس۔ انتظار کی سکت کا ولولہ مگر کم تھا۔ ڈاکٹر عشرت جہاں کے زیرِ اثر کہ حسنِ خیال اور حسنِ صورت سے جادو کیا کرتیں۔

ترقی پسندوں کے قافلے میں شامل ہوئے اور عمر بتا دی۔ ان کی شاعری لوگ پڑھتے ہیں اور خوب انہماک سے۔زنداں میں لکھے گئے ان کے خوبصورت خطوط کے علاوہ،واحد نثری تصنیف "مہ و سالِ آشنائی " کا مطالعہ کم کیا گیا۔ ان کی زندگی پہ بہت کم لوگوں نے غور کیا۔ بے پناہ شاعر، ایسے کہ بھلائے نہ جا سکیں گے مگر گھر سے بھاگے ہوئے، زندگی سے بھاگے ہوئے۔ فیض ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو فوراً ہی کھل جاتے ہیں۔ وہ کھلتے ہی نہیں تھے۔ شعرکے سوا اپنا حالِ دل کہتے ہی نہیں تھے۔ اس خیال کے ہاتھوں عمر بھر بے چین رہے کہ کیا راستہ وہی ہے، جس پہ وہ گامزن ہیں یا کوئی اور؟ "مہ و سالِ آشنائی " میں اس اندازِ فکر کی ایک جھلک ہمیں نظر آتی ہے یا آخری ایام کی بعض گفتگوئوں میں۔ کمال وفاداری سے ایلس، ان کی شریکِ حیات نے گھر سنبھالے رکھا۔ ان کے اکرام میں فیض نے گھر چھوڑ دیا۔ تلافی کا جذبہ جاگتا تو لوٹ آتے۔ کچھ دن قیام کرتے۔ پھر بھاگ کھڑے ہوتے۔ خود کہا تھا گھر رہئیے تو ویرانی ٔ دل کھانے کو آوے رہ چلیے تو ہر موڑ پہ غوغائے سگاںہے ماحول شور و غوغا سے بھرا ہوا۔ وہ ایک مرتب اور مہذب آدمی۔ گرد و پیش کے گنوار پن سے اس قرینے سے پناہ ڈھونڈی کہ مداحوں کی بھیڑ میں گم رہتے مگر ان سے مختلف، یکسر مختلف۔

ان کا قبیلہ آسمان سر پہ اٹھائے رکھتا، وہ خاموش رہتے۔ آدمی کا مزاج اس کے خاندان میں، ماں باپ کے سائے میں تشکیل پاتا ہے۔ شخصیت کے کچھ عوامل اس کے لہو (جینز) میں ہوتے ہیں۔ ماحول ایسا کہ جذبات ہی جذبات۔ احساسات اور جذبوں کا وفور، غلامی کی تاریک رات بظاہر ختم ہونے کو آئی تھی مگر منزل کا ادراک خال خال۔ہندو یا مسلم، پڑھے لکھے نوجوانوں کی زیادہ تر توانائیاں سیاست کی نذر ہو جاتیں یا نمود اور نجات کی تمنا میں انقلاب کے نعرے میں سوشلزم اپنی جنم بھونی روس میں اپنے ہدف سے بیگانہ ہو کرتحلیل ہو رہا تھا۔ مگر برصغیر میں خبط بن کر سوار۔ چند عشروں کے بعد جسے عبرت کا نشان بننا تھا۔ ہمارے عہد کے درویش نے کہا تھا "زیاں بہت ہے،خدا کی بستی میں زیاں بہت۔" یہ بھی کہا کہ افسوس، کم ہی لوگ غور کرتے ہیں۔ اس پر کہ زندگی کیا ہے، کائنات کیا ہے، انسان کیا اور یہ کہ کیا ان کا کوئی خالق و مالک ہے۔ عمر بھر فیض کے ہاں یہ احساس تو کارفرما رہا مگر یکسو کبھی نہ ہو سکے۔ فرار، زندگی سے فرار۔ وہ جو کسی اور شاعر نے کہا تھا غمِ حیات سے گھبرا کر بندگانِ خدا چلے ہیں جانبِ میخانہ خودکشی کے لیے بے چینیوں کا عارضی علاج، ایک وقتی بندو بست۔ بھوک کا خوف، نامعلوم کا خوف،جو ازل سے آدمی کے ساتھ چلاآتا ہے۔۔۔ کچھ دیر کو اس فردوس میں جی لینے کی تمنا، آدم جس سے نکالے گئے تھے۔

Paradise Lost کے ترجمے کا ایک بار ادھیڑ عمری میں ارادہ کیا تھا۔ چند صفحات کر بھی ڈالے ۔ اسی ہنگام ایک نوجوان نے بھی جسارت کی۔ سنا تو ارادہ ترک کر دیا۔ کہا کہ اس کا معیار مجھ سے بہتر ہے۔ نوجوان غور و فکر کرنے والا تھا۔ مغربی فلسفے کی تعلیم کے بعد اپنی زندگی کے آٹھ برس جس نے قرآن کریم کے مطالعے میں پورے شغف کے ساتھ بسر کیے تھے اور بھید کو پالیا تھا۔ وہ بھی ایک شاعر تھا، چمکنا وہ بھی چاہتا تھا لیکن پھر اپنے آپ سے گزر گیا۔ خود سے نجات پالی۔ جب اس نے کہا جلتے ہر شب ہیں آسماں پہ چراغ جانے یزداں ہے منتظر کس کا تو لوگ چونکے۔معتبر انگریزی اخبار، عالمگیر جنگ کے ہنگام طلوع ہونے والے" سول اینڈ ملٹری گزٹ "میں ایک ادارتی نوٹ چھپا A Star is Bornایک اور ستارہ طلوع ہوا۔ اس نوجوان کا نام احمد رفیق اختر تھا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود اب بھی وہ نوجوان ہے۔اب بھی ستارہ سا چمکتا ہے بلکہ ماہتاب۔ستاروں کے جھرمٹ ، جس کے آس پاس۔ مغربی فلسفے سے جی بھر چکا تو قرآن کریم کے علاوہ اقوالِ پیغمبر میںانہماک پیدا کیا۔ برسوں وہ رہبر ڈھونڈتا رہا۔ کوئی نہ ملا، سب کے سب استاد ادھورے لگے تو علی بن عثمان ہجویریؒ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ہزار برس پہلے پیدا ہونے والے عارف نے، جواب بھی زندہ ہے، سالک سے یہ کہا:خراسان کے تین سو اولیا سے ہم نے فیض پایا۔ ایک زمانہ مگر ایسا بھی آئے گا کہ کوئی ایک بھی نہ ہوگا۔ پھر کیا پروردگار سے تم بے نیاز ہو جائو گے؟ اس کی کتاب تو ہے اور وہ تو ازل سے ابد تک ہے۔

ہمیشہ ہر وقت،تمہاری رگِ جاں کے قریب۔ مانگنے والے کو جو عطا کرتاہے۔ مضطرب کی جو دعا سنتا ہے۔ پکارنے والے کی جو پکار کا جواب دیتاہے۔ خواجہ نظام الدین اولیاؒ کی دستار کج پائی تو خسرو نے پیروی کی اور یہ کہا "من قبلہ راست کردم برطرفِ کج کلاہے " ٹیڑھی پگڑی والے کو میں نے قبلہ بنا لیا۔ نوجوان رفیق اختر نے داتاؒ صاحب کو قبلہ کیا۔ ان کی تصنیف "کشف المحجوب" کے اوراق کو رہنما کر لیا۔ فاتح شہاب الدین غوری کے آقا خواجہ معین الدین چشتیؒ نے داتاؒکے بارے میں کہا تھا " جسے کوئی مرشد نہ ملے، یہ کتاب اس کی مرشد ہوگی ‘‘ اب وہ خود مرشد ہے۔اگرچہ ہر سچے سالک کی طرح اب بھی طالب علم۔پندرہ بیس لاکھ شاگرد اس کے جلو میں چلتے ہیں۔ بات کرتا ہے تو لکھ لی جاتی ہے۔ کاغذ ہی نہیں ، دلوں اور دماغوں میں بھی۔ وہ کہتا ہے: زندگی علم میں ہے، نجات علم میں ہے، ادراک غور و فکر سے ہوتا ہے۔ اللہ کی کتاب اور اس کے سچے پیغمبرؐ میں انہماک سے۔ روشنی اللہ کی کتاب میں پائی، اپنے قافلے میں بانٹتے ہیں کوئی دعویٰ نہیں رکھتے۔ فیض صاحب سے ملاقات کی بات بیچ میں رہ گئی۔ بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہی زندگی ہے، یہی زندگی۔ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون سچے متلاشی پا لیتے ہیں۔ گوہر انہی کو نصیب ہوتا ہے، جستجو جن کی کھری ہو وگرنہ رائیگاں ، ساری زندگی رائیگاں۔