خاتون افسر - صہیب جمال

گو کہ اپنی سیٹ پر بیٹھا سترہ گریڈ افسر بھی سائل کے سامنے وزیراعظم جیسا ہی ہوتا ہے ، رعب بھی اس کرسی اور ٹیبل کے گرد ہوتا ہے ، جب اپنے ہی رشتے داروں کے درمیان بیٹھو تو پتہ چلتا ہے زندگی میں اور بھی بہت کچھ ہے اور خاص کر وہ افسر جو رشوت نہ لیتا ہو ، جس کے پاس صرف تنخواہ ہی ہو ۔

بڑا مشکل لگتا ہے ایمانداری سے زندگی گذارنا ،آفس میں بازگشت سنائی دی کہ افسر صاحب کا تبادلہ ہو رہا ہے اور کوئی خاتون افسر آ رہی ہیں ، مجھے اس سے کیا لینا دینا ، مجھے نہ کھانا ہوتا ہے نہ خوشامد کرنی ہوتی ہے ۔نئی افسر آ چکی تھی ، میں آفس پہنچا تو اطلاع دی گئی کہ افسر آ چکی ہیں اور وہ رپورٹ کرنے اوپر افسر کے پاس گئی ہیں ۔

پھر وہ واپس لوٹیں ظہر کا وقت ہوچکا تھا میں وضو کرنے گیا ہوا تھا ، ظہر کے بعد لنچ پر سب کے ساتھ تعارفی نشست تھی ۔میں بھی خاتون افسر کے کمرے میں داخل ہوا اور میرے پاؤں اتنے وزنی ہوچکے تھے کہ اگلا قدم اٹھانا مشکل ہوگیا تھا ۔مجھے صرف کان میں یہ آواز پڑی کہ " یہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سب سے محنتی اور ایماندار شخص ہیں "خاتون افسر نے بہت غور سے دیکھا اور مسکرا دیں اور بہت نرمی سے کہا "آئیے ایماندار افسر صاحب ! اوپر بھی آپ کی ایمانداری کا تذکرہ ہو رہا تھا "میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے ، پسینہ بہہ رہا تھا اور بہت واضح بہہ رہا تھا ، میری آواز نہ نکل سکی سلام کے لیے بھی نہ نکل سکی ۔

خاتون افسر نے کہا "ایماندار صاحب لگتا ہے کافی دور سے آ رہے ہیں ، اے سی تیز کر دیتی ہوں "اس نے ریموٹ سے اے سی تیز کیا ، میں بمشکل کرسی پر بیٹھا ، کھانا لگ چکا تھا اور مجھ سے نوالہ نہیں اترا ، سارا منظر آنکھوں کے گرد گھوم رہا تھا ، میرے ساتھیوں نے بھی کہا "کیا ہوگیا ، طبیعت تو ٹھیک ہے ناں ؟"میں گردن ہلا کر سب ٹھیک ہے کہہ سکا ، سب کا تعارف ہوا ، مگر میں جلد کھانے سے اٹھ گیا اور اپنی سیٹ پر گم صُم بیٹھ گیا ، ایک دو سائل بھی آئے مگر ان کو صحیح جواب نہیں دے سکا ، سب اپنی اپنی سیٹس پر کب بیٹھے مجھے نہیں پتہ چلا ، قاصد نے آ کر کہا ، "میڈم بلا رہی ہیں" ۔

میں اس کے کہنے کے دو منٹ بعد اٹھا ، دل چاہ رہا تھا کہ کہیں دور بھاگ جاؤں اور پھر نظر جھکائے کمرے میں داخل ہوا۔اس ڈیپارٹمنٹ کے سب سے ایماندار ، کسی کی خوشامد نہ کرنے والے ، صاحب ! آپ کی ایمانداری سے تو بائیس گریڈ کے افسر بھی ڈرتے ہیں " انہوں نے دانت بھینچتے ہوئے کہا پھر وہ میرے قریب آئیں،میری نظریں جھکی ہوئی تھی اور نم تھیں ، میں کپکپا رہاتھا ۔

پھر وہ منظر آنکھوں میں تھا ، ریحانہ مجھ سے پانچ سال چھوٹی تھی پڑوس تھا ہمارا ، ایک گھر تھا سمجھیں ، ہر خوشی اور غم کا ساتھ ، کب اس کو پڑھاتے پڑھاتے لگا کہ یہ جوان ہوگئی ہے اور وہی ہوا جو تنہائی میں ہوتا ہے ، اس کو یہی تسلی دی کہ شادی تم سے ہی کروں گا ، اس کو میری محبت پر اعتماد تھا ، وہ بےفکر تھی ۔

ابا کے انتقال کے بعد تایا ابا نے ابا کی کمی نہیں محسوس ہونے دی ،اور پھر تایا جان نے سرکاری نوکری دلا دی پھر ان کی بیٹی سے شادی کا انکار نہیں کرسکتا تھا ، ریحانہ کو چھوڑنا پڑا ، اس پر کیا گذری تھی بس یہ پتہ چلا کہ اس نے فنائل پی لیا تھا ، ہم گھر بدل چکے تھے ، شادی کی مصروفیت میں جا بھی نہیں سکا ، امی بہنیں گئی تھیں ، "کہتی تھیں کہ اس نے پتہ نہیں کیوں یہ کام کیا ، شکر ہے بچ گئی "۔

یہ پرانے منظر افسر صاحبہ کی آواز سے غائب ہوگئے "ان سب کو یہی پتہ ہے کہ تم کتنے ایماندار ہو ، بڑی واہ واہ ہوتی ہے ، عزت ہوتی ہے ، ہے ناں ؟مگر تم کتنے ایماندار ہو مجھے پتہ ہے "
میں اس بے ایمانی کو بھول چکا تھا جو میری ساری ایمانداری پر ایک کلنک تھی ۔۔۔