عراقی وزیراعظم کا استعفیٰ- نذیر ناجی

عراق میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج میں 400 شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے‘ تاہم وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ استعفیٰ کب دیں گے؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے ‘تاکہ ممبران نئی حکومت کی تشکیل کرسکیں۔عراقی وزیراعظم نے ملک میں جاری پر تشدد مظاہرے ختم کرنے اور قومی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔ استعفے کے اعلان کے بعد دارالحکومت بغداد میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر جشن منایا۔ تحریر سکوائر میں جمع ہونے والے لوگ حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی اپنے استعفے میں سرکردہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کی طرف سے حکومتی اصلاحات کے مطالبے کا حوالہ دیا۔ سیستانی نے اپنے متعدد بیانات میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ مظاہرین کے تمام آئینی مطالبات پورے کریں۔

عراق میںپر تشدد احتجاج کا سلسلہ یکم اکتوبر سے جاری ہوا‘ جس میں مہنگائی‘ بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ پولیس کی جانب سے بغداد کے تحریر سکوائر اور دیگر شہروں میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا ‘جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔3 اکتوبر کو بغداد اور دیگر شہروں میں کرفیو کے باوجود ہزاروں مظاہرین نے سڑکیں بندکیں اور ٹائروں کو نذر آتش کیا۔ احتجاج کے باعث عراقی وزیراعظم نے اصلاحات تیز کرنے کا اعلان کیا تھا‘ لیکن مظاہرین پر وحشیانہ تشدد اور ہلاکتوں کے بعد سیاسی و مذہبی رہنما نے حکومت سے استعفے کا مطالبہ کردیا تھا۔6 اکتوبر کو ایک بار پھر کابینہ نے اصلاحات کی یقین دہانی کرائی‘ تاہم 2 ہفتوں بعد 24 اکتوبر کو ایک بار پھر اُس وقت پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا‘ جب عادل المہدی کی حکومت نے ایک سال پورا کیا ۔ مظاہرین نے مختلف شہروں میں سرکاری و سکیورٹی فورسز کی عمارتوں اور دفاتر پر قبضہ کرلیا‘ جس کے باعث سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور عراقی دارالحکومت ایک بار پھر میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
آیت اللہ سیستانی کے پیغام میں انتخابات کے طریقہ کار اورآئین میں اختلافات کی طرف اشارہ کیا گیا۔ عراق کی صورتحال نے ایک بار پھر سامنے آکر ملکی سیاست کی اصلاح کی آواز اٹھائی ہے؛ البتہ اس کے ساتھ واضح طور پر یہ بھی کہا گیاکہ مرجعیت صرف رہنمائی اور ہدایت کا فریضہ انجام دے گی۔ عوام کو اپنی مرضی سے اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

اعلامیہ کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے حکم پر لبیک کہنا خوش آئند ہے‘ لیکن کیا عراق کی موجودہ صورتحال کا واحد حل عادل عبدالمہدی کا استعفیٰ ہے؟ عراق کو بہت سارے چیلنجوں کا سامنا ہے‘ جن میں اندرونی سے زیادہ بیرونی ہیں۔اندرونی چیلنجوں میں انتخابات کے قانون میں اصلاح اور الیکشن کمیشن کے اختیارات بھی شامل ہیں‘ جس کے بارے میں اعلامیہ میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ عراق کی سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر آکر تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر آئندہ کے بارے میں فیصلہ سازی اور قانون سازی کرنا ہوگی‘ تاکہ جمہوریت کو تقویت ملے۔
عراق تیل کے ذخائر رکھنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک تھا‘ لیکن عراقی عوام ایران جنگ‘ کویت حملہ اور امریکی قبضے کے بعد داعش کے چنگل میں اس طرح الجھی کہ عراق دنیا کی تیل کی ضروریات پورا کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن گیا ‘جبکہ عوام کی معاشی مشکلات کو حل کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتا ہے۔ خود کش دھماکوں سمیت فرقہ وارانہ خانہ جنگیوں سے بدحال عراق اس وقت دنیا کیلئے نشان ِعبرت ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ثمرات سے محروم ہے۔ سیاسی افراتفری و انارکی اپنے عروج پر ہے۔ فرقہ وارنہ خانہ جنگیو ں اور سیاست نے عراق کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل تک نہیں رکھا۔

عراقی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے تمام دعوئوں اور وعدوں کے باوجود ریاستی بد انتظامی کا شکار ہے۔ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کا کوئی ایسا فارمولا دینے میں ناکام ہے‘ جس سے عراقی عوام کا احتجاج پرسکون ہوجائے۔ عراقی مظاہرین موجودہ حکومت کی ناکامیوں پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ عالمی طاقتوں کے اس عراقی اکھاڑے میں عوامی مسائل حل ہونے کی توقعات میں کچھ مزید وقت درکار ہوگا۔دوسری جانب امریکی فوجی‘ شمالی شام سے عراق میں آچکے ہیں۔عراق اب بھی عالمی طاقتوں کے مفادات کو پورا کرنے کیلئے اپنی عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کو ممکن نہیں بنا سکا۔مزید خانہ جنگی اور عدم استحکام عراقی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔عالمی طاقتیں اپنے مفادات کیلئے فائدہ اٹھا سکتی ہیں‘ لہٰذاضروری ہے کہ تمام معاملات کو عراقی عوام سیاسی طور پرخود حل کریں۔