کامریڈ یا کنفیوزڈ مارچ - محمد عاصم حفیظ

لاہور اسلام آباد اوردیگرشہروں میں گزشتہ روز سرخ مارچ منعقد ہوا۔ جس کے مناظر آپ مختلف ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک مرد کے گلے میں خواتین نے پٹا ڈال کر اسے " پٹے والے جانور " کی طرح چلانے کا مظاہرہ کیا۔ اچھل کود کے مظاہرے بھی ہوئے جن کو آپ ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں۔

بظاہر اس مارچ کا مقصد طلبہ کے حقوق رکھا گیا گیا لیکن ایسی حرکتیں دیکھ کر تو لگ رہا تھا کہ اس مارچ کا بنیادی مقصد جانوروں کو حقوق دلانا تھا ۔ ایک مرد کے گلے میں پٹہ ڈال کر آزادی کے نعرے لگائے گئے اور کمال تو یہ کہ بہت سے مرد اور نامرد اس منظر کو دیکھ کر انجوائے بھی کرتے رہے ۔ کمال تو یہ بھی کہ نعرے حکومت اور قومی ضسلامتی کے اداروں کے خلاف لگاتے رہے ۔حقوق کی بات طلبہ کی ہو رہی تھی لیکن نعرے سرخ انقلاب کے لگاتے رہے ۔ پوسٹر یونیورسٹیوں اور کالجز میں ہاسٹل ۔

فیسوں میں کمی وغیرہ کے پکڑ رکھے تھے لیکن " سرخ ہو گا سرخ ہو گا ایشیا اب سرخ ہو گا " کی گردان سنائی گئی۔ اب یہ سوال بھی بڑا ہی اہم ہے کہ طلباء کو فیسوں میں کمی یا ہاسٹل کی سہولیات چاہیں یا وہ ایشیا کو سرخ کرنے نکلیں گے۔بات تو غریبوں کی کرتے رہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس مارچ کے لئے کروڑوں کے فنڈز کہاں سے آئے۔ جو طلباء چند ہزار فیس نہیں دے سکتے کیا انہوں نے اس مارچ کے لئے کروڑوں کے فنڈز جمع کرائے ؟؟؟ ۔

یہ بھی حیران کن تھا کہ یہ مارچ ایشیا کوسرخ کرنے کے لئے تھا لیکن بھرپور کوریج مغربی میڈیا کرتا رہا حالانکہ وہ تو خود اس سرخی کے سخت خلاف ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیوں کی فیسوں۔ ہاسٹل کی سہولیات اور تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے مطالبات میں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید ان کے سربراہوں کے نام لے کر نعرے اور دیگر معاملات کہاں سے آ گئے ؟؟
کیا یہ نوجوانوں کو ریاست مخالف بنانے کے لیے تھا ؟؟ کیوں ایسے جذبات ابھارنے اور نعرے بازی کی گئی ۔

مارچ کے لئے ایسے پوسٹرز بنائے گئے جن میں ایسا تاثر دیا گیا کہ اس نام نہاد سٹوڈنٹ مارچ سے معاشرے کے دیگر طبقات بہت زیادہ خوفزدہ ہیں اور باقاعدہ علماء اور دینی طبقے کی تصاویر بنائی گئیں ۔ سب سے اہم نعرے کے الفاظ ہی یہ تھے " جب لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا " ۔ سرفروشی کی تمنا ۔ قاتل کو آزمانے کی نعرے بازی ۔ کیا یہ کسی محاذ جنگ کی تیاری تھی یا طلبا کا احتجاج ۔ کیا تعلیمی اداروں میں کچھ ایسا باغیانہ ماحول بنانے ۔

مخالفین کے ہوش ٹھکانے لگانے اور بازو قاتل آزمانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ یہ چارجڈ طلبہ و طالبات جب اپنے تعلیمی اداروں میں پہنچیں گے تو پھر ہر اختلاف رائے رکھنے والے سے کیا تصادم نہیں ہو گا ؟؟ اگر کسی نے مخالفت کر دی تو یہ اسکا ہوش ٹھکانے لگا دیں گے ۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک میں ایک اور پریشر گروپ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ لال انقلاب تو کب کا افغانستان کی پہاڑیوں میں منہ کالا کرکے پارہ پارہ ہو چکا ۔ اب تو سوویت یونین اور کمیونزم کا عالمی سطح پر کوئی کردار بھی نہیں تو یہ سرخے اچانک کہاں سے برآمد ہو گئے۔

کیوں مغربی میڈیا ان کا حمایتی ہے جو کہ کمونزم کا سب سے بڑا مخالف ہے ۔ طلبہ حقوق کی آڑ میں اصل مقاصد کیا ہیں ۔ کیا یوں کسی گروہ کو دھمکی آمیز نعرے اور گلے میں پٹہ ڈالکر گھٹیا حرکتیں کرنے کی اجازت ہونی چاہیے .. سنجیدہ حلقوں کو اس بارے سوچنا ہو گا ۔۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔۔