اخلاص - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

کسی بھی عمل کو اللہ کے لئے خالص کرنا اس کی قبولیت کی بنیاد ہے، جو کام اللہ کے لئے اخلاص سے نہ کیا جائے، وہ اس کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا، گویا وہ ایسا عمل ہے جس پر اجر نہ ملے، ایک ایسی نماز جس کا ثواب نہ ہو، اور ایسا صدقہ جس کی قدر و قیمت عدم اخلاص نے ختم کر دی ہو، اور عامل کی مراد پوری نہ ہوئی ہو۔

دین ِ اسلام میں اعمال کے اللہ کے لئے خالص ہونے پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اللہ کے لئے اخلاص برتنا ایک وسیع مضمون ہے اور یہ تمام اعمال پر حاوی ہے، اور اخلاق کا اعلی مرتبہ ہے، اخلاص میں کمی یا اس سے محرومی کی صفات میں ریا، لوگوں میں شہرت، اور تذکرہ حاصل کرنے کی نیت اور کوشش ہے۔

ایک دل میں اللہ سے اخلاص اور مدح اور ستائش سے محبت اور طمع جمع نہیں ہو سکتے، بالکل اس طرح جیسے آگ اور پانی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اخلاص کا مادہ ’’خ ل ص‘‘ ہے، جس کے معنی ’’پاک صاف اور خالص ہونے ‘‘ کے ہیں۔ ایسی محبت جس میں سچائی ہو، اور جو خالص ہو۔ امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں:

’’اخلاص یہ ہے کہ ہر ما سوا اللہ سے دل کو پاک کر لیا جائے‘‘۔ (مفردات القرآن، امام راغب، ص۱۳۳)لسان العرب میں ہے: ’’اخلاص ریا کو ترک کر دینے کا نام ہے، جبکہ دین کو اللہ ہی کے لئے خالص کر لیا گیا ہو‘‘۔

ابراہیم بن ادھم کہتے ہیں: یہ اللہ تعالی کے ساتھ صدق ِ نیت برتنا ہے۔ (الاحیاء، ج۴، ص۴۷۴)یعقوب المکفوف کا قول ہے: ’’مخلص اپنی نیکیوں کو اس طرح چھپاتا ہے جیسے وہ اپنی برائیاں چھپاتا ہے‘‘۔

جنیدؒ کا قول ہے: ’’اخلاص اللہ اور بندے کے درمیان رازہے، نہ فرشتہ اسے جانتا ہے کہ اسے لکھے، اور نہ شیطان اس تک پہنچ سکتا ہے کہ اسے خراب کرے، اور نہ ہوائے نفس، کہ اس کی جانب مائل ہو‘‘۔سہل سے کہا گیا: نفس پر سب سے زیادہ بھاری کیا چیز ہے؟ کہا: اخلاص، کیونکہ نفس کی اس تک رسائی نہیں۔مکحول کہتے ہیں: ’’اگر انسان چالیس دن اخلاص کے ساتھ گزار لے تو اسکے قلب کی حکمت کے چشمے اس کی زبان پر رواں ہو جاتے ہیں‘‘۔

ابو سلمان الدارانی کا قول ہے: ’’اگر انسان اخلاص اختیار کر لے تو وسوسے اور ریا اس سے دور بھاگ جاتے ہیں‘‘۔ (مدارج السالکین، ج۲، ص۹۲مخلِص اور مخلص میں فرق مخلِص: وہ ہے جس نے اپنی عبادت کو اللہ کے لئے خالص کر لیا، جس نے اپنے نفس کو اللہ کے لئے خالص کر لیا اور اپنا سر اسکے سامنے جھکا دیا۔۔مخلص (لام پر زبر کے ساتھ): وہ ہے جسے اللہ اپنے لئے خالص کر لے، اسے رسالت اور کتاب عطا کرے، یعنی انبیاء علیھم السلام کو اللہ نے اپنے لئے خالص کر لیا۔ معبود کا بندے کو اپنے تقرب کے لئے خالص کر لینا۔

قرآن کریم میں ہے:{الا عبادک منھم المخلصین} (الحجر، ۴۰)

’’سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کر لیا ہو۔‘‘قرآن کریم میں اخلاص اور اس کے مشتقات کا استعمال اکتیس (۳۱) مرتبہ ہوا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:

’’اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر‘‘۔ (سورۃ البیّنۃ، ۵)یعنی ہر زمانے میں صحیح اور درست دین یہی رہا ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کی جائے، اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے، ہر طرف سے رخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابع فرمان بن جائے۔ (تفہیم القرآن، ج۶، ص۴۱۵)

اور فرمایا:
’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں‘‘۔ (الانعام، ۱۶۲۔۱۶۳)

اعمال میں اخلاص کی حیثیت ایک خوشبودار پھول کی ہے، جس کی خوشبو چاروں جانب پھیلتی ہے، بلکہ اس کی خوشبو ہی اس کی موجودگی کی خبر دیتی ہے۔ اللہ تعالی کا مخلص بندہ سعادت کی راہوں پر آگے آگے چلتا ہے، وہ بندوں کی خوشنودی سے بالکل پاک ہو جاتا ہے، اس پر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی دھن سوار ہو جاتی ہے، جو اسے آگے لے کر جاتی ہے، اعمال میں اللہ سے اخلاص برتنا ہی دین کی اصل ہے، اور یہی عمل کا تاج بھی ہے۔اخلاصِ عمل بندے کے وقار کو بڑھاتا ہے، اس میں بلند ہمتی پیدا کرتا ہے، یہ راہ سعادت کی راہ ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو اخلاص کا حکم دیا:

’’تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے۔ خبردار، دینِ خالص اللہ کا حق ہے‘‘۔ (الزمر، ۲۔۳)

پس عمل کی اصلاح نیت کی درستی سے ہے، اور نیت کی درستی دل کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ اس آیت میں دو نکات بیان کئے گئے ہیں، ایک مطالبہ اللہ کی عبادت کا ہے، اور دوسرا ایسی عبادت کا جو دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے کی جائے، یعنی آدمی اللہ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے، بلکہ اسی کی پرستش، اسی کی ہدایت کا اتباع اور اسی کے احکام و اوامر کی اطاعت کرے۔

اس کی تشریح درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ابنِ مردویہؒ نے رشید الرّقاشی سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: ہم اپنا مال دیتے ہیں اس لئے کہ ہمارا نام بلند ہو، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا؟ حضورؐ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پوچھا: اگر اللہ سے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لئے نہ ہو‘‘۔ (دیکھئے: نفہیم القرآن ، ج۴، ص۳۵۶۔۳۵۷)

سورۃ الاعراف میں فرمایا:

’’اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر۔‘‘ (سورۃ الاعراف، ۲۹)

یعنی رہنمائی اور تائید و نصرت و حفاظت کے لئے خدا ہی سے دعا مانگے، مگر شرط یہ ہے کہ اس چیز کی دعا مانگنے والاآدمی پہلے اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر چکا ہو۔ یہ نہ ہو کہ زندگی کا سارا نظام تو کفر و شرک اور معصیت اور بندگیِ اغیار پر چل رہا ہو اور مدد خدا سے مانگی جائے، کہ اے خدا، یہ بغاوت جو ہم تجھ سے کر رہے ہیں، اس میں ہماری مدد فرما۔ (تفہیم القرآن، ج۲، ص۲۱۔۲۲)

اخلاص سعادت کی راہ ہے

بندہ صدق ِ دل سے اللہ کی بندگی میں لگ جائے، اور اس کے پیش ِ نظر صرف اللہ کی رضا کا حصول ہو، اور لوگوں کی ملامت یا ستائش کی پرواہ نہ کرتا ہو، تو حقیقتاً اس نے سعادت کی راہ پا لی، نیک کام کی تکمیل اور اس کی برکت کا حصول اخلاص ِ نیت کے ساتھ وابستہ ہے۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ؐ کو بھی اخلاص کی تلقین صرف ایک سورہ میں تین مرتبہ کی:
’’تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوے‘‘۔ (الزمر، ۲)

’’اے نبیؐ، ان سے کہو: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے اس کی بندگی کروں‘‘۔ (الزمر، ۱۱)

’’کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے اسی کی بندگی کروںگا‘‘۔ (الزمر، ۱۴)

پس عمل کی درستی نیت کے درست اور خالص ہونے سے ہے، اور نیت کا خالص ہونے دل کے خالص ہونے سے ہے۔اللہ تعالی کے ہاں اعمال کی قبولیت میں دو چیزیں شامل ہے، ۱۔ اس عمل کا اللہ کے لئے خالص ہونا، ۲۔ اس کا طریقہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہونا۔’’محض ریا کا ظہور فرض نماز اور روزے کی ادائیگی میں نہیں ہوتا، البتہ صدقاتِ واجبہ (زکوۃ) اور حج یا ان جیسے ظاہری اعمال میں اس کا صدور ہو جاتا ہے، جن سے نفع ملنے کی توقع ہوتی ہے، اور ان میں اخلاص ہی مطلوب ہے،اور مسلمان کو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح ان کا عمل نیچے چلا جائے گا، اور اس ریا کار کو اللہ کی جانب سے سزا اور عقوبت ملے گی۔

محدیثین علماء کی اکثریت نے جن میں امام بخاریؒ نے اپنی’’ صحیح‘‘ میں، مقدسیؒ نے ’’عمدہ الاحکام‘‘ میں، بغویؒ نے ’’شرح السنہ‘‘ اور ’’مصابیح السنہ‘‘ میں، امام نوویؒ نے ’’اربعین النووی‘‘ میں،کتاب کا آغاز ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ سے کیا ہے، جو اعمال میں نیت کے اخلاص کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ سفیان ثوریؒ کہتے ہیں: ’’میں نے اپنی نیت سے بڑھ کر کسی چیز کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ یہ بار بار مجھے پچھاڑ دیتی ہے‘‘، اور اللہ کی رضا کے حصول کی نیت کے بغیر طاقت بے مصرف ہے، یہ ایک رائیگاں کوشش ہے، اور ایسا عمل ہے جو لوٹا دیا جاتا ہے، اللہ تعالی غنی و حمید ہے، جو عمل خالص اس کے لئے نہ ہو وہ اسے قبول ہی نہیں کرتا۔

ابو امامہ الباھلی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص اللہ کی رضا اور ناموری کے لئے جہاد کرتا ہے تو اسے کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، اور آپ ﷺ نے ہر بار یہی فرمایا کہ اس کے لئے کچھ نہیں ہے، پھر فرمایا: اللہ تعالی اس کے سوا کسی عمل کو قبول نہیں کرتا جو خالصتاً اسی کے لئے ہو، اور اس کی رضا مندی کی طلب میں ہو‘‘۔ (رواہ ابو داود والنسائی)

فضیل بن عیاضؒ دنیا کی امتحان گاہ میں اعمال کی درستی کا معیار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’کہ وہ عمل خالص ہو اور درست ہو، ان سے پوچھا گیا: اے ابو علی، خالص اور درست ہونے سے کیا مراد ہے، انہوں نے کہا: اگر عمل خالص ہو لیکن درست نہ ہو تو وہ قبول نہیں کیا جا تا، اور اگر وہ درست طریقے پر ہو مگر خالصتاً اللہ کی خاطر نہ ہو تو بھی قبول نہیں ہوتا، خالص ہونا یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کی خاطر ہو، اور درست ہونا یہ ہے کہ وہ کام رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم، ۴۷۷۹)

کن کاموں میں اخلاص برتنا ضروری ہے؟

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اخلاص کا تعلق عبادات سے ہیں، ہمیں خالصتاً للہ عبادت کرنی چاہئے، نماز، روزے اور تلاوت ِ قرآن اور دیگر عبادات اور دعوت الی اللہ کے کام کرتے وقت اپنی نیت میں کھوٹ کا جائزہ لے لینا چاہئے، یہ خیال درست نہیں، ہر بھلائی کرتے ہوئے نیت کو خالص کر لینا ضروری ہے، خواہ وہ ہمسائے کی خبر گیری ہو،یا صلہ رحمی، یا والدین سے احسان، کیونکہ یہ سب بھی عبادت ہیں۔

ہر وہ کام جو اللہ کی محبت میں اور اس کی رضا پانے کے لئے کیا جائے اس میں اخلاص کا ہونا ضروری ہے، حتی کہ باہمی معاملات میں خیر کا ہر رویہ بھی اخلاص کا تقاضا کرتا ہے، جیسے تجارت میں سچ کو اختیار کرنا، بیوی سے حسن سلوک، اولاد کی تربیت میں محاسبہ، اور ہر وہ کام جو بظاہر دنیا کے معاملات کہلاتا ہے، اس میں بھی اخلاص برتنا ضروری ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم جو خرچ بھی اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کرتے ہو، تمہیں اس پر اجر ملتا ہے، حتی کہ اس نوالے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو‘‘۔ (متفق علیہ؛ الریاض الصالحین، ۲۹۴)

ہر عمل جو اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے لئے کیا جائے وہ قول ہو یا فعل،ظاہری یا باطنی، تو وہ عبادت ہے، اور اس میں اخلاص کا وجود ضروری ہے، خواہ وہ کوئی معمولی عمل ہی کیوں نہ ہو۔

اخلاص کیا ہے؟
عمل کرتے ہوئے نیت کو اللہ کے لئے خالص کر لینا، کہ آپ کو اللہ کی رضا ہی مقصود ہے، نہ دکھاوا ہے نہ شہرت ، تعریف کی تمنا ہے نہ اونچا منصب درکار ہے، اور نہ کسی کی ہم نشینی۔ آپ کو اس عمل پر کسی کی مدح سرائی چاہئے ، نہ کسی کی ملامت کا خوف لاحق ہو، اور پھر جب آپ کی نیت اللہ کے لئے خالص ہو گی اور آپ اسے بندوں کے لئے مزین بنانے کی کوشش نہیں کریں گے، تو آپ نے اخلاص کے تقاضے کو پورا کر دیا۔

فضیل بن عیاضؒ کہتے ہیں: ’’کسی عمل کو لوگوں کے لئے کرنا شرک ہے، اور لوگوں کی خاطر کسی عمل کو ترک کرنا ریا ہے، اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالی آپ کو ان دونوں سے بچا دے‘‘۔
تمام اعمال میں اخلاص کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اس فرمان ِ الہی کو نگاہ میں رکھے: ’’کہہ دیجئے، میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین کے لئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں ‘‘۔ (الانعام، ۱۶۲۔۱۶۳)

اخلاص کا اثر
اللہ سے اخلاص برتنا ایک ایسا وصف ہے جو بندے کو اعلی درجات تک پہنچا دیتا ہے، ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں: ’’ابو بکر صدیقؓ کو یہ فضیلت نماز اور روزوں کی کثرت کی بنا پر نہیں ملی، بلکہ اس چیز کی بنا پر ملی جو انکے دل میں تھی، (یعنی اخلاص للہ)‘‘۔عبد اللہ بن مبارکؒ کا قول ہے: ’’بہت سے چھوٹے اعمال کو ان کی نیت بڑا بنا دیتی ہے، اور کتنے ہی بڑے اعمال کو ان کی نیت چھوٹا کر دیتی ہے‘‘۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، کہ رسول کریم ﷺ نے( پر خلوص چھوٹے عمل کی بڑائی بیان کرتے ہوئے )فرمایا: ’’کوئی شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے، اور اس کی ایسے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی اونٹنی کے بچے کو پالتا ہے، حتی کہ وہ پہاڑ جتنا یا اس سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ (رواہ مسلم، ۱۷۵۹)
’’اور اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (البقرۃ، ۲۶۱)

یعنی جس قدر خلوص اور جتنے گہرے جذبے کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرے گا، اتنا ہی اللہ کی طرف سے اس کا اجر زیادہ ہو گا۔ جو خدا ایک دانے پر اتنی برکت دیتا ہے کہ اس سے سات سو دانے اگ سکتے ہیں، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ تمہاری خیرات کو اس طرح نشو نما بخشے اور ایک روپے کے خرچ کو اتنی ترقی دے کہ اس کا اجر سات سو گنا ہو کر تمہاری طرف پلٹے۔ (تفہیم القرآن، ج۱، ص۲۰۳)

جب بندے کا اخلاص قوی ہو جائے، اور اس کی نیت خالصتاً لوجہ اللہ ہو، اور وہ اپنے عمل کا اخفاء بھی کرے (یعنی اسے پوشیدہ رکھے)، تو اسے اپنے رب کا قرب حاصل ہو جاتا ہے، اور وہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دے گا، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق : سات قسم کے لوگ اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے ۔۔ اور ان میں ذکر کیا، ایک شخص کا، جس نے صدقہ کیا تو اسے اس قدر چھپا کے دیا کہ اس کے دائیں ہاتھ کے دینے کو بایاں ہاتھ بھی نہ جان پایا۔(متفق علیہ)

تھوڑے عمل کی کثیر برکت
جب بندہ خالص نیت کے ساتھ عمل ِ صالح کرتا ہے، اگرچہ وہ کوئی آسان سا عمل ہو، تو اللہ اسے قبول کرتا ہے، اور اسے بڑھا دیتا ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے جنت میں ایک شخص کو پھرتے دیکھا، جس نے ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا، جو راستے میں چلنے والے لوگوں کو تکلیف دیتا تھا۔ (رواہ مسلم، ۴۷۸۴)

خالص نیت کا اجر
اللہ تعالی اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے، یہ اس کا کرم ہی ہے کہ بندہ نیک عمل کا ارادہ باندھتا ہے، اور اسے کرنے کے وسائل نہیں پاتا تو وہ اسے اس کی نیت ہی پر اجر سے نواز دیتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوے پر جا رہے تھے، راستے میں آپؐ نے فرمایا: ’’مدینہ میں ایسے کچھ لوگ موجود ہیں، کہ تم نے کوئی راستہ یا وادی ایسی پار نہیں کی، مگر وہ (اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، ان کو مرض نے روک لیا تھا۔

(رواہ مسلم، ۱۹۱۱) ایک روایت کے مطابق ’’وہ اجر میں تمہارے شریک ہیں ‘‘۔حضرت انسؓ کی روایت ہے، کہ ہم رسول ِ کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے، جب آپؐ نے فرمایا: ’’ہم نے مدینہ میں کچھ ایسے لوگ چھوڑے ہیں، ہم نے کوئی درہ یا وادی طے نہیں کی جس میں وہ ہمارے ساتھ نہ ہوں، ان کو عذر نے روک لیا تھا‘‘۔ (رواہ البخاری، ۲۶۸۴)

حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب اللہ تبارک وتعالی سے بیان کرتے ہیں(حدیث قدسی): ’’اللہ تعالی نے نیکیاں اور برائیاں لکھ رکھی ہیں، اور انہیں بیان کر دیا ہے، پس جس نے نیکی کا ارادہ کیا، اور اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ اس کی ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے، اور جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ کے ہاں اس کی دس سے سات سو گنا تک بڑھا چڑھا کر نیکیاں لکھی جاتی ہیں‘‘۔(متفق علیہ)

داود الطائی کا قول ہے: ’’میں نے تمام بھلائیوں کو حسن ِ نیت میں جمع دیکھا ہے‘‘۔

یحیی بن کثیر کہتے ہیں: ’’نیت کرنا سیکھو، کیونکہ یہ عمل سے زیادہ وقعت رکھتی ہے‘‘۔

اخلاص کے ثمرات
کوئی نیک عمل اخلاص کے بغیر قبول نہیں ہوتا، اور اخلاص نہ ہو تو بڑے سے بڑا نیک عمل بھی رد کر دیا جاتا ہے، خواہ وہ عالم کا علم اور اس کی اشاعت ہو، یا مالدار کا راہِ خدا میں خرچ، حتی کہ شہید کی شہادت بھی رائیگاں چلی جاتی ہے۔مخلص شخص پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے، وہ شیطان کے تسلط اور اغوا سے محفوظ رہتا ہے، اللہ تعالی نے شیطان کا قول ذکر فرمایا ہے:
’’اس نے کہا: تیری عزت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو بہکا کر رہوں گا، بجز تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے‘‘۔ (ص، ۸۲۔۸۳)

اللہ تعالی اپنے مخلص بندوں کو نافرمانوں اور ان کی مکاریوں سے محفوظ رکھتا ہے: ’’ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں، درحقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا‘‘۔ (یوسف، ۲۴)اخلاص سے خیر کے دروازے کھلتے ہیں؛ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم جو بھی کام اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرو گے، تمہارا ایک درجہ بلند اور رفیع ہو جائے گا‘‘۔(رواہ البخاری،۲۲۵۶)

اخلاص قلب و شعور کو طمانیت عطا کرتا ہے، رحمن کا خالص بندہ ایسی راحت اور سرور محسوس کرتا ہے جو کسی اور کو نہیں ملتی، کیا یہ راحت کم ہے کہ تمام انسان اس کے لئے نیچے ہو گئے، اور ایک رب ہے جس کی رضا کے حصول کے لئے وہ بھاگ دوڑ کر رہا ہے، اور اس کی راحت کا کیا بیان جب اسے معلوم ہو جائے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اسے نفع اور نفصان پہنچانے پر قادر نہیں ہے۔

مخلص کیسے بنا جائے؟
شیطان بندے پر نظریں لگائے بیٹھا ہے، وہ اس کے نیک اعمال کو کسی طرح ضائع کروا دینا چاہتا ہے، اگر بندے سے نیک عمل نہیں چھڑوا سکتا تو وہ اس میں کجی اور کوتاہی کروانے کی کوشش کرتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اعمال ِ صالح کے صدور کے ساتھ انکی حفاظت کا خصوصی اہتمام بھی بندے پر لازم ہے، اور اخلاص کو قائم رکھنے کے عوامل درج ذیل ہیں۔

٭۔ دعا
ہدایت اللہ کی جانب سے ملتی ہے، بندے کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، وہ جس جانب چاہے اسے موڑ دے، پس بندے کو اللہ سے ہدایت کی دعا مانگنے کا اہتمام کرنا چاہئے، اور اس پر دوام کا بھی۔ اس سلسلے میں رب سے دعا مانگنی چاہئے:

۔ اللھمّ مصرّف القلوب صرّف قلوبنا علی طاعتک۔اے اللہ، دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی جانب پھیر دے۔)

۔ یا مصرّف القلوب ثبّت قلبی علی دینک۔ (اے دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔)

حضرت عمر بن خطابؓ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے:
’’اللھم اجعل عملی کلہ صالحاً، واجعلہ لوجھک خالصاً، ولا تجعل لاحدٍ فیہ شیئاً‘‘۔ (اے اللہ، میرے تمام اعمال کو نیک بنا دیتا، اور انہیں اپنے لئے خالص بنا دے، اور کسی کا اس میں کوئی حصّہ نہ رکھنا‘‘۔

٭اخفائِ عمل
ہر نیک عمل کی تشہیر اخلاص کو خطرے میں ڈال دیتی ہے، فرائض اعلانیہ ادا کئے جائیں، تاکہ نیکی کی فضا بنے، لیکن نوافل کو اخفاء میں رکھنا بھی اخلاص برقرار رکھنے کی ایک تدبیر ہے، جس طرح برے اعمال کی تشہیر نہیں کرنی چاہئیے، اسی طرح نیکیوں کا بھی اشتہار نہیں لگانا چاہئے، کہ ریا، شہرت اور تذکرہ اخلاص کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

٭۔ نیکی میں اوپر والوں پر نگاہ
اعمال ِ صالحہ میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں پر نگاہ رہنی چاہئے، نیکی کا معیار اپنے زمانے کے لوگ نہیں بلکہ قرون ِ اولی کے صالحین، صدیقین،
شہداء اور انبیاء علیھم السلام کو بنائیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہیں کے راستے پر تم چلو‘‘۔ (الانعام، ۹۰)

٭۔ عدم قبولیت کا خوف
عمل ِ صالح کے ہر مرحلے پر اس بات کا خوف رہے کہ کہیں یہ عمل ضائع نہ ہو جائے، سلف صالحین اللہ تعالی سے نیک اعمال کی توفیق کے ساتھ اس کی حفاظت کی دعا مانگا کرتے تھے، اللہ تعالی نے بھی متنبہ کیا:’’تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔‘‘ (النحل، ۹۰)

حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہﷺ، (قرآن کی آیت) ’’اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور ان کے دل اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی طرف پلٹنا ہے‘‘ (المؤمنون، ۶۰) اس شخص کے بارے میں ہے جو چوری کرتا ہے، زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے، اور اسے اللہ عزو جل کا خوف لاحق ہوتا ہے؟ فرمایا: نہیں اے بنتِ ابوبکر صدیقؓ، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جونماز پڑھتے، روزے رکھتے، اور صدقہ دیتے ہیں،اور وہ ڈرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال قبولیت کے درجے پر نہ پہنچیں‘‘۔ (رواہ الترمذی و امام احمد)
اخلاص یہ ہے کہ بندہ عمل سے پہلے، اس کے دوران اور اسکے بعد بھی اپنی نیت کو خالص رکھے۔

٭۔ بندوں کی پزیرائی سے بے پرواہ
مخلص شخص اپنے نیک اعمال کی بندوں سے پزیرائی سے پھولتا نہیں، بلکہ اسے یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ یہ عمل ضائع نہ ہو جائے، وہ پہلے سے بڑھ کر اللہ کی بندگی میں لگ جاتا ہے، اور اس میں اللہ کی خشیت بڑھ جاتی ہے، وہ یقین رکھتا ہے کہ بندوں کی مدح بھی ایک فتنہ ہے۔وہ رب سے اس فتنے سے بچنے کی دعا مانگتا ہے۔

؎ دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو

عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی