امت پر واجب ہے احترامِ صحابہؓ - عنایت کابلگرامی

’’امت پر واجب ہے احترام صحابہ ؓ کا ‘‘ کون صحابہ ؓ؟ وہی صحابہؓ جنہیں نبی پاکﷺ کی صحبت حاصل ہیں۔ جنہوں نے حضور پاک ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھا اور ایمان پر ہی خاتمہ ہوا ۔صحابہ ؓ صحابی ؓ کی جمع ہے جس کے معنی ساتھی کے ہیں۔

شریعت کی اصطلاح میں صحابیؓ اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺکی زیارت کی ہو ،آپ ؑکی پاک صحبت کا شرف حاصل کیا ہو اور اسی حالت میں وہ دُنیا سے رخصت ہو گیا ہو۔ پوری اُمت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ دُنیا کا بڑے سے بڑا ولی، قطب، ابدال، غوث بھی ایک ادنیٰ صحابیؓ کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ صحابی ؓرسول ؐ کو نبی محترمﷺ کی جو قربت کا جو شرف حاصل ہے اس کا مقابلہ کوئی اور مسلمان ہرگز نہیں کر سکتا۔

انبیاء کرام ؑکے بعد روئے زمین پر مقدس ترین جماعت صحابہ کرام ؓ کی جماعت ہیںاورمیں اسی جماعت کا نوکر و غلام ہوں ۔ صحابہؓ جنہوں نے حضو رپاک ر ﷺ کے فانی دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد مذہب اسلام بنا کسی کمی وبیشی کے ہم تک من وعن پہنچا کر احسان عظیم کیا۔ جنہوں نے قیصر وکسری کو تباہ و برباد کیا۔ ان کے غرور کو خاک میں ملایا۔ جن کی حکومت کا دائرہ کار انتہائی وسیع تھا۔ جن کی خلافت 64لاکھ 65 ہزار مربع میل پر قائم تھی۔

جنہوں نے عراق فتح کیا، مصر و لیبیا فتح کیا، خراسان میں داخل ہوئے، یروشلم فتح کیا، شام فتح کیا،عموریہ، شمشاط، طرطوس، کی حدود میں اسلامی جھنڈے گھاڑے، براصغیر پاک و ہند میں بھی ان برگزیدہ ہستیوں کے قدم مبارک پڑے اور اسلام کا پیغام امن آیا۔صحابہ ؓجنہوں نے پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ جنہوں نے حق وباطل کی معرکہ آرائی میں تعداد و وسائل کم ہونے کے باوجود اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کا پرچم بلند کیا۔ جی ہم ان صحابہ ؓ غلامی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

وہ اصحاب رسولﷺ جن کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے، جن کی افضلیت قرآن نے بتائی ہے، جن کی برتریت احادیث سے واضح ہے، جن کے بارے میں قرآن کہیں کہتا ہے ’’ یہیں لوگ سچے ہے‘‘ کہیں کہتا ہے ’’اور یہیں کامیاب لوگ ہے‘‘ کہیں کہتا ہے اولئک علی ھدی من ربہم و اولئک ھم المفلحون ’’یہی لوگ اپنے رب کی جانب سے سیدھے راستے پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ (البقرہ)اور کہیں بشارت سناتا ہے’’ رضی اللہ عنھم ورضو عنہ‘‘، ہاں میں ان ہی صحابہ کا غلام ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   رؤوف و رحیم رسول ﷺ -ڈاکٹر میمونہ حمزہ

جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے’’' وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو رسول خدا ﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں‘‘۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ان لوگوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(سورہ حجرات)۔ وہ صحابہؓ جو کافروں کے لیے سخت اور آپس میں رحم دل تھے۔ (سورہ فتح)۔جن کے ایمان کو قرآن نے معیار حق اور کسوٹی قرار دیا’’سو اگر اہل کتاب اسی طریق سے ایمان لے آئیں جس طریق سے تم ایمان لے آئے تو وہ بھی راہ حق پر لگ جائیں گے‘‘(بقرہ)۔

ہاں میں اہل بیت و صحابہ ؓکا نوکرہوں، مہاجر صحابہ ؓکا نوکر، انصار صحابہ ؓکا نوکر، بدری صحابہ ؓکا نوکر، اُحدی صحابہ ؓکا نوکر، یرموک کی جنگ لڑنے والے اصحاب نبیﷺ کا نوکر، عرب صحابہ ؓکا نوکر، غیر عرب صحابہ ؓکا نوکر، غزوہ حنین میں شریک صحابہ ؓکا نوکر، عشرہ مبشرہ میں شامل خلیفہ اور یارغار ابوبکر صدیقؓ، خلفیہ دوم فاروق اعظم عمربن خطابؓ، خلیفہ سوم ذوالنورین عثمان غنیؓ، خلیفہ چہارم فاتح خیبر حضرت علیؓ، طلحہؓ وزبیرؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، سعد بن وابی قاصؓ، سعد بن زیدؓ اور ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا نوکر۔

حضور اقدس ﷺ کے چچا سیدالشہدا حضرت حمزہؓ و حضرت عباسؓ کانوکر،فاتح عرب و عجم، کاتب وحی، بحری بیڑے کے موجد،خال المومنین و امیر المومنین حضرت امیر معاویہ ؓکا نوکر مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرانے والے حسن ابن علی ؓکا نوکر اور یزید کی امارت تسلیم نہ کرکے اور باطل کے آگے نہ جھک کر بھوکے پیاسے اپنے بچوں سمیت اپنی جاں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے حضرت حسین ابن علیؓ کا نوکر ہوں۔ حضرات حسنین کریمین ؓ کے علاتی بھائی محمد بن حنفیہ ؓکا نوکرہوں،کم وبیش ایک لاکھ چالیس ہزار صحابہ وصحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا نوکر ہوں اور اس نوکری پر مجھے بے انتہا فخر ہے۔(الحمدللہ)

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ ہم سے لاکھ درجہ بہتر ہیں ہماری کوئی اوقات نہیں ان کے آگے۔ وہ اعلیٰ ہیں، بہتر ہیں، ارفع ہیں، ان کا مقام ومرتبہ ہماری سوچ وفکر سے کافی بلند ہے۔ ہم انہیں عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کا احترام ہمارے دلوں میں بستا ہیں۔ ان کے صادق و عادل ہونے میں ہمیں کوئی شک نہیں، ان کی شان میں گستاخی کرنا ہم گناہ عظیم سمجھتے ہیںاور علی الاعلان کہتے ہیں صحابہ ؓکا جو غلام ہے،ہمارا وہ امام ہے اور جو صحابہؓ کا نہیں وہ ہمارا نہیں۔

گر صحابہ ؓکی تنقیص کرنے والا، ظاہری طور پر اسلامی حلیے میں ملبوس کوئی فرد خود کو اسلامی علوم وفنون کا ماہر کہتا ہے۔ ہم اسے ماہر نہیں جاہل و اجہل سمجھتے ہیں۔ اگر وہ خود کو محدث کہتا ہے ہم اسے مُحْدث (ناپاک) سمجھتے ہیں۔ اگر وہ خود کو خطیب العصر کہتا ہے تو ہم اسے تنقیص صحابہؓ کے جرم میں ذلیل العصر انسان گردانتے ہیں، ہم غلامان صحابہؓ ایسے لوگوں کو دھتکار دیتے ہیں، انہیں صحابہ ؓکی تنقیص کے جرم میں مجرم سمجھتے ہیں، جو ان کے ایمان کا محاسبہ کرتا ہے، انہیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   معمولات نبوی ﷺ - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

صحابہ ؓکو تو ’’کلہم عدول‘‘ کا پروانہ حاصل ہے۔ وہ تو بخشے بخشائے ہیں انہیں رضی اللہ عہنم ورضو عنہ کا پروانہ نجات حاصل ہے۔ لیکن توہین صحابہؓ کے مجرمین تو دنیا میں رسوا ہوہی رہے ہیں آخرت میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے۔’’ہاں میں ان ہی صحابہ ؓکرام کا غلام و نوکر ہوں ‘‘جن کے بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ہم اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہؓ سے محبت کرتے ہیں‘‘، ان میں سے کسی کی محبت میں بھی غلو نہیں کرتے، نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے برأٌّٰت کرتے اور نہ ہی کسی پر تبرّا کرتے ہیں اور ہم ہمیشہ اُن کا ذکر فقط اچھائی، خیر و بھلائی ہی کے ساتھ کرتے ہیں، اُن (صحابہؓ) سے محبت کرنا دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے ’’بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے‘‘ ۔

’’ہاںمیں نوکر ہوں صحابہ ؓ کا‘‘ ان صحابہ کا جن کے بارے میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒلکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم اور ان کی مدح سرائی کرنا واجب ہے، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ تکملہ فتح الملہم میں لکھتے ہیں کہ ’’اہل سنت والجماعت ‘‘کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء کرامؑ کے بعد سب سے افضل وبرتر حضرات صحابہ کرام ؓکی جماعت ہے، کوئی بھی ولی خواہ عبادت وتقوی پرہیزگاری کے کتنے ہی اعلی مقام پر فائز ہو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام کونہیں پہنچ سکتا ۔تو پر ہم کیوں نہ کہیں کہ’’ امت پر واجب ہے احترم ِصحابہ ؓ ‘‘’’اور ہم ہے نوکر صحابہؓ کے‘‘۔

نوٹ : صحابہ کرامؓ کی مدح بیان کرنا کہاں میرے بس میں ہے مگر آج کل مسلسل سوشل میڈیا پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین و ازواج مطہرات ؓ کی توہین امیز پوسٹوں کے مقابلے میں یہ مضمون تحریر کی، اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام ؓ کی نقش قدم پر چلنے کی اور ان کی توہین سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں(آمین)