چلو بحران ٹل گیا لیکن ۔ حبیب الرحمن

عدالت عظمیٰ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دے دی۔ جمعرات کی دوپہر سنائے گئے مختصر فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کا موجودہ تقرر6 ماہ کے لیے ہوگا اور اس توسیع کا اطلاق جمعرات 28 نومبر 2019 سے ہو گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا، معاملات کو قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ عدالت نے یہ کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے گی اور عدالت 6 ماہ بعد اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لے گی۔

یہ حقیقت ہے کہ معاملہ بہت سنگین صورت اختیار کرتا جارہا تھا اور اگر یہ گزشتہ کل تک حل نہیں کیا جاتا تو ملک بہت بڑے بحران کا شکار ہو سکتا تھا۔ عدالت کے اس از خود نوٹس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ موجودہ حکومت کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ایک ملک کا نظم و نسق سنبھال سکے۔

جو حکومت ایک نوٹیفکیشن ہی درست نکالنے کے قابل نہ ہو اور دو دنوں میں چاروں کے چاروں نوٹس عدالت حکومت کی جانب واپس لوٹا دے بلکہ یہ کہہ کر لوٹائے کہ آپ کی وزارت قانون یا وزارت دفاع سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی افراد ہیں ان کی تعلیمی ڈگریاں چیک کرائیں تو یہ بات کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کیلئے نہ صرف بہت شرم کا مقام ہے بلکہ حکومت کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اسے عدالت "املا" لکھوائے۔

یہی نہیں بلکہ اگر چاہتی تو موجودہ حکومت کو مزید مشکلات میں بھی ڈال سکتی تھی اور 6 ماہ کی مہلت دینے کی بجائے چند ہفتوں کی ہی مہلت دیتی اور حکومت کو یا تو عجلت میں قانون سازی کرنے پر مجبور کرتی یا پھر چند دنوں کے مہلت دیکر یہ کہہ سکتی تھی کہ جب آئین اور قانون میں کسی توسیع کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے تو چند دنوں کے اندر اندر، آرمی ایکٹ کے مطابق کوئی نیا آرمی چیف مقرر کرے اور پھر وہ چاہے تو آرمی ایکٹ میں ترمیم کرلے یا جو قائدہ قانون طے ہے، اس کے مطابق ہر مقررہ مدت کے بعد آرمی چیف کا تقرر عمل میں آتا رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے وکلا نے عدالت سے صرف 3 ماہ کی ہی مہلت مانگی تھی اور عدالت کو یقین دلایا تھا کہ حکومت 3 ماہ کے اندر اندر ہی قانونی نوک پلک درست کر لے گی، لیکن عدالت نے از خود حکومت کو 3 ماہ کی بجائے 6 ماہ کی مہلت دی۔ اس چھوٹ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ عدالت کو حکومتی وزارت قانون، وزارت دفاع اور موجودہ پارلیمانی صورت حال کا بخوبی ادراک تھا اور وہ اس بات کو سمجھتی تھی کہ حکومت نے جو مہلت (3 ماہ) مانگی ہے وہ اس مہلت کے اندر اندر ایسا نہیں کر پائے گی اس لئے عدالت نے ان کو مانگی گئی مدت سے بھی دو گنا زیادہ مہلت دے کر ایک طرح حکومت کیلئے ایک آسانی بھی فراہم کی اور یہ احساس بھی دلایا کہ وہ اپنے اندر کی کمزوریوں پر بھی نظر رکھے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتارپور راہداری امن کی جانب ایک قدم - محمد عابد زید

اس سارے عرصے میں نہ صرف پوری ریاست ایک شید دباؤ کا شکار رہی بلکہ دنیا میں بھی پاکستان کی جانب سے کوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔ خاص طور سے حکومت کی نااہلی جس طرح کھل کر سامنے آئی وہ اس سے قبل کبھی کسی بھی حکومت کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ معاشی ٹیم کی ناکامی کے بعد قانونی ٹیم کی بہت بری کارکردگی نے موجودہ حکومت کے متعلق عوام و خواص کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہوگا۔

معاشی بحران کے سلسلے میں بھی عسکری حلقوں کو سامنے آکر حالات بہتر بنانا اور تاجروں کو ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کرنا تو پوری دنیا کے سامنے تھا ہی لیکن اب جو قانونی اور آئینی بحران پیدا ہوا تھا اس میں بھی خود آرمی چیف کو بلاواسطہ مداخلت کرنا پڑی اور ایک ایسا اجلاس جس کا کوئی بھی تعلق آرمی یا آرمی چیف سے بنتا ہی نہیں تھا، شریک ہو کر حالات کو ٹھیک کرنا پڑا۔ یہ بات یقینی ہے کہ انھوں نے ہی حکومتی قانونی ٹیم کو یہ مشورہ دیا ہوگا کہ وہ اِدھر اُدھر کی بات بنانے اور غلطی پر غلطی کرنے کی بجائے عدالت سے قانون سازی کی مہلت مانگ کر قانونی راہ نکالے۔

جو حکومت مسلسل اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا مظاہرہ کرتی چلی آ رہی ہے اور ملک کے حالات کو مسلسل ابتری کی جانب لے جارہی ہے، اگر وہ جلد اپنی کوتاہیوں پر قابو نہ پا سکی تو نہ صرف حکومت کا اپنا وجود خطرے میں پڑجائے گا بلکہ ریاست بھی شدید مشکلات میں گھرتی چلی جائے گی اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے موجودہ سیٹ اپ میں نہ صرف تبدیلیاں لے کر آئے بلکہ اس بات کو یقینی بھی بنائے کہ آئندہ کسی بھی قسم کی کسی بھی کوتاہی کو نہ دہرایا جائے گا۔

موجودہ حکومت کی یہ خوش بختی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام ادارے مکمل طریقے سے ایک جمہوری حکومت کے ہاتھ پاؤں بننے کیلئے تیار ہیں بلکہ وہ مسلسل غلطیوں کے باوجود بھی ہر معاملے میں حکومت کا ساتھ دینے کیلئے تیار و آمادہ ہیں۔ یہ بات پاکستان اور حکومت کیلئے ایک بہت خوش کن ہے۔ ہر ادارے کے مکمل تعاون کے باوجود بھی حکومتی اقدامات کا ریاست کے عوام کی مشکلات میں اضافہ بنتے جانا کوئی اچھی علامت نہیں۔

اسٹبلشمنٹ اس موجودہ صورت حال سے یقیناً پریشان ہوگی کیونکہ پوری دنیا کے مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی تائید سے نہیں، اسٹبلشمنٹ کی کوششوں سے اقتدار تک پہنچی ہے۔ گو کہ ابھی تک اشٹبلشمنٹ کو دنیا کے کسی تجزیہ اور تبصرے سے کوئی سروکار نہیں اور اس کی مخلصانہ کوششیں ملک میں جمہوری اقدار و روایات کی مضبوطی پر مرکوز ہیں لیکن اگر موجودہ حکومت کی یہی روش رہی تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وقت موجودہ سیٹ اپ میں کچھ تبدیلیاں لانے پر مجبور ہو جائے جس کو ابھی تک نظرانداز کیا جارہا ہے۔

ایک جانب صورت حال یہ ہے کہ حکومت مسلسل اپنی کمزوریوں کے مظاہروں پر مظاہرے کرتی چلی آ رہی ہے تو دوسری جانب حکومتی سر براہ اور اس کی ٹیم کے اندر سے ماضی کی "اپوزیشن" نکل کر نہیں دے رہی ہے۔ حکومت جب بھی کسی بحران کا شکار ہونے کے بعد اس دباؤ سے آزاد ہوتی ہے، وہ سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی بجائے بجھتی ہوئی چنگاریوں کو اپنے طنزیہ اور دھواں دھار بیانات کی ہوا دے کر پھر سے شعلہ جوالہ بنانے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آمریت سے بغاوت کرنے والوں کو سلام - ایم سرورصدیقی

آرمی چیف کی تقریری پر عدالت کے نوٹس لینے کی وجہ سے جو دباؤ حکومت پر آ پڑا تھا، اگر اس کا جائزہ لیاجائے تو یہ واحد ایسا معاملہ تھا جس میں اپوزیشن کا نہ صرف کوئی کردار نہیں تھا بلکہ اپوزیشن نے اس معاملے میں حکومت کو بہت آڑے ہاتھوں بھی نہیں لیا تھا لیکن جونہی معاملہ کسی حد تک ٹل گیا تو موجودہ حکومت کا ماضی والا اپوزیشن "جن" بوتل سے باہر آگیا۔ عمران خان نے اسی پرانے انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اداروں میں تصادم کی سازش ناکام بنادی، بھارت کی امیدوں پر پانی پھرگیا"۔

اسلام آباد میں سفرا کانفرنس برائے افریقا سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ "پچھلے دنوں ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی، پہلے دھرنے کے ذریعے اور اب عدالت میں کیس کے ذریعے، یہ امید لگا کر بیٹھے تھے کہ پاکستان کسی طرح غیر مستحکم ہوجائے"۔عمران خان کا کہنا تھا کہ "بھارت نے عدالت عظمیٰ کا معاملہ بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا تاہم پاکستان میں ہم آہنگی سے مخالفین کو شکست ہوئی ہے، دشمن نے سوچا تھا ادارے آپس میں لڑ پڑیں گے، خوشی ہے ہم نے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ناکام بنائی"۔

ایک ایسے موقع پر جب نہ تو اس معالے پر اپوزیشن نے کوئی سیاست کی اور نہ ہی عدالت کسی سازش کا شکار ہوئی، یہ کہنا کہ یہ ملک کو عدم استحکام کرنے کی ایک عدالتی سازش تھی، کہیں سے کہیں تک مناسب نہیں۔ جس عدالت نے حکومت کو مسلسل راہ دکھائی، غلطی پر غلطی کو نظر انداز کیا، ہر مرتبہ کے غلط نوٹیفکیشن پر اصلاح کی کوشش کی اور 3 ماہ کی مہلت طلب کرنے پر بھی 6 ماہ کی مہلت دی، اس عدالت کو بھارتی سازش کا سہولت کار ہونے کا اشارہ دینا کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔

حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ مہلت صرف 6 ماہ کی ہے اور آئین و قانون میں کوئی تبدیلی بھی اسمبلی کے ممبران کی 2 تہائی اکثریت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر تناؤ کی فضا کو بڑھانا حکومت کیلئے مناسب نہ ہوگا۔ خاص طور سے ایسی حکومت کیلئے جو تمام تر اتحاد بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے پانچ چھ نشستوں کی مرہونِ منت ہو۔ ملک ایک نازک دوراہے سے گزررہا ہے اس لئے موجودہ حالات سنجیدگی مانگ رہے ہیں۔

لہٰذاحکومت کو بہت سمجھداری کے ساتھ ہر فیصلہ کرنا ہوگا اور موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنا ہوگا اور اس بات کی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ اپوزیشن کو اپنے ساتھ لیکر چلے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو حالات ہر ادارے کے قابو سے باہر ہوجائیں گے اور تباہی کے اس سیلاب میں حکومت بھی بہہ جانے سے نہ بچ پائے گی۔