اطمینان موت ہے - عالیہ زاہد بھٹی

آج استاد محترم کی جانب سے ایک پیغام وصول ہوا جو کافی طویل تھا مگر اس کے حاصل مطالعہ نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ، اس مضمون کے مطابق انسانی صلاحیتوں میں اضافہ اس کے مشکل ترین حالات کےدوران ہوتا ہے اس کی مثال یوں دی گئی کہ جیسے شارک کی موجودگی مچھلیوں کو متحرک اور چاق وچوبند رکھتی ہے ویسے ہی ۔

مشکلات میں انسانی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں،یہ تمام تحقیق کسی اسلام پسند ادارے کی نہیں بلکہ اہل مغرب سے وابستہ ہے اور ساتھ ہی جارج برنارڈ شا کا قول بھی کہ " اطمینان موت ہے"میرے ذہن میں میرے رب کا وعدہ رس گھول رہا ہے کہ "مشکل کے بعد آسانی ہے" . کتنا پیارا وعدہ ہے ناں مگر میں اس پر فتن دور کی باج گزار کہ میری سانسیں تک رواں نہیں ہوتیں حالات کے پیچ و خم میں الجھ کر، میرے شکوے،شکایتیں، مجھے ہی کیوں۔؟

مجھ پر ہی کیوں؟ کیا میں ہی رہ گئی تھی آزمانے کو؟ وہ بھی تو ہے!اس کو بھی تو دیکھیں! !س پیغام نے تو گویا میرے دل کی دنیا زیر وزبر کر کے رکھ دی کہ یہ مشکلات کے شارک میری حیات کے مشکیزے میں میرا رب اس لئے ڈالتا ہے کہ وہ مجھے پژمردہ اور نڈھال نہیں دیکھنا چاہتا وہ مجھے ہمہ وقت متحرک اور رواں دواں دیکھنا چاہتا ہے اس نے ہر اس شخص کو چن لیا ہے کہ جو زندگی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے اور پھر یہ سارا کا سارا منظر دیکھ رہا ہے اور منتظر ہے کہ ان مشکلات کو پا کر میرا بندہ نکھر کر میرے پاس آتا ہے۔

یا گردش دوراں کا شکار ہو کر فقط حالات کی چکی میں پستا چلا جاتا ہے، اصل امتحان ہی یہ ہے،یہ مشکلات کا آنا یہ رات و دن کا ہمیں اپنی تاریکی و روشنی میں لینا،یہ مشکل و آسانی ،خوشی و غم، نرمی گرمی سب میرے رب کے اسی وعدے کے ساتھ جڑے ہیں ،وہ وعدہ، وہ ندا،وہ بلاوہ جو دن بھر کی مشکلات اور پریشانیوں کے بعد میرا رب عرش تلے بسنے والے ہر ذی نفس سے کرتا ہے، اسے پکار کر کہتا ہے کہ آجا کہ میں تجھے تھام لوں،ہے کوئی جو میری طرف رجوع کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ارے مانگ تو آسان نہ کردوں تو کہنا، مگر مجھ سمیت سب کو سامنے آتی مشکلات تو دکھائی دیتی ہیں اس کا وعدہ سنائ نہیں دیتا کہ "ہر مشکل کے بعد آسانی,،" اس پیغام کے اندر ایک اور پیغام ہے کہ اگر مجھے ناگوار مشقت سے بچنا ہے تو اطاعت کی خوشگوار مشقت کو اپنا لوں ،میں اس کے راستے پر اس کے بندوں کے کانٹے اپنی پلکوں سے چنوں گی تو وہ میرے راستے کے کانٹے سمیٹ کر ہواؤں کو بھی میرے لئے مسخر کر دے گا یہ کہہ کر کہ آہستہ چلو میری بندی ،میری بندگی کا حق ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر رہی ہے ۔

میں نے تاریخ کا دھارا بدلنے والے ہر شخص کو دیکھا کہ اس نے جب خود بڑھ کر مشکلات کو قبول کیا اپنی بندگی کا ثبوت دینے تو رب نے اس کی وہ مشکل بھی آسان کی اور دیگر مشکلات سے محفوظ بھی کر دیا، عمر رضی اللہ، اپنا آدھا مالدیکر،ابوبکر صدیق رضی اللہ،اپنا پورا مال دیکر ، آگے کی نسل میں طارق بن زیاد کشتیاں جلا کر،اس سے اور آگے چل کر محمد علی جناح خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر ہر آسانی کو چھوڑ کر خود کو جب مشکل میں ڈال کر گھلاتے ہیں۔

تو وہ سب تو آسان ہوا ہی ساتھ ہی ان کی اپنی مشکل ترین بیماری ٹی بی آسان ترین کرکے سہل موت جو ہر نفس کی خواہش ہے ،ان کے رب نے بتادیا کہ اصل میں مشکل ہی میں آسانی ہے بس شرطِ وفا درکار ہے . "تم اپنے وعدے کو پورا کرو میں اپنا عہد نبھاؤں گا" مگر اس صدا کو دل کےکانوں سے سننا ہوگا۔