علامہ نہ بنیں، ایکسٹینشن چلنے دیں - نیلم اسلم

چار سے پانچ دن ہوگئے۔ شکر ہے کہ سیاسی تبصروں کا بھونچال بالآخر تھم گیا۔ جب یہ بریکنگ نیوز میرے سامنے آئی تو پڑھتے وقت خود بھی یقین نہیں آرہا تھا۔ کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ پر یہ تمام سوال اُٹھانےوالی میں کون ہوتی ہوں، جب ملک کی سب سے بڑی اور معزز ترین عدالت ایسا کوئی فیصلہ کرنے جارہی ہے۔

میرے اطمینان کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ پاکستانی تاریخ کے قابل ترین چیف جسٹس اگر ایک چیز پر مطمئن نہیں تو یہ یقیناً Healthy debate ہوگی، جس کا آغاز ہونا چاہیے تھا۔ ملک کے معتبر ترین ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کا یقینی طور پر انتخاب ایک واضح اور زیادہ شفاف طریقے سے ہونے میں حرج ہی کیا ہے؟ پر معلوم نہیں تھا کہ یہ صحت مندانہ بحثیں منفی debate کا رنگ اختیار کریں گی؟ مثبت سرگرمی تو تب سے ہی منفی میں بدلنا شروع ہوئی ہے جب سے کچھ کم عقل، موقع پرست، خودغرض اور ہر چیز میں سازش کی بُو سونگھنے والے، ہر بات کا منفی پہلو اُجاگر کرنے والوں کے ہاتھ میں موبائل آگیا ہے۔

بہت سے لوگ وہ تبصرے کررہے تھے کہ آئین وقانون کی ٹھیک سے حکمرانی ہوتی تو اگلے لمحے مقدمات کا سامنا کررہے ہوتے۔ جن کو آئین اور قانون کے معنی نہیں آتی، وہ بھی بڑھ بڑھ کر ان دونوں کی تشریح میں جتے نظر آرہے تھے۔ جن کو معاملے کی حساسیت، ادارے کے وقار، ادارے کے سربراہ کی اہمیت کا دور دور تک اندازہ نہیں ہوتا، اپنی تسکین کے لیے ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ایسے میں ہمارے سوشل میڈیا کے افلاطون، اسکالرز، آئن اسٹائن، سقراط بقراط اور مفکرین سبھی متحرک ہوگئے۔ کسی نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جس کے منہ میں جو آیا، بول پڑا۔ ایسے میں ایک کریڈٹ دینا چاہوں گی الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو بھی، جن پر تنقید تو بہت کی جاتی ہے۔ ابھی بھی کی جارہی ہے۔ لیکن اس کا انداز بہت مختلف تھا۔ رپورٹنگ میں غیرذمہ داری کا عنصر نہ ہونے کے برابر۔ رپورٹرز جو رپورٹ کررہے تھے، وہ بھی اس حساس ایشو پر اپنے چینلز کو اس انداز سے جیسے انہیں تربیت کے کٹھن مراحل سے گزارا گیا ہو۔ کسی چینل پر کہیں بھی کوئی منفی رپورٹنگ نہیں دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے- آصف محمود

سوشل میڈیا پر جھانک کر دیکھا تو بہت سوں نے کہا اگر جنرل باجوہ ہی اگلے تین سال آرمی چیف رہتے ہیں تو باقی جنرلز کی حق تلفی ہوگی۔ کسی نے کہا انہیں خود مستعفی ہوجانا چاہیے۔ کسی نے کہا گورنمنٹ سازشیں کررہی ہے۔ کوئی دور کی کوڑی لایا کہ نادیدہ قوتیں سازشیں کررہی ہیں۔ کسی کو گمان گزرا تو اس نے تجزیہ داغ دیا یہ تین سال میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کرنے کا پلان تھا۔ تجزیے پر تجزیے، اور بدقسمتی سے یہ سب وہ لوگ کررہے تھے جنہیں فوج کے قوانین سے متعلق کوئی علم تھا نہ ہی انہوں نے آئین پاکستان کی کتاب کبھی تصویروں میں دیکھی ہوگی۔

محض ایک ٹویٹ، ایک فیس بک اسٹیٹس، ایک یوٹیوب ویڈیو پر علامہ بننے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نہ بھولیں۔ وہ ذمہ داریاں جو پاکستانی شہری ہونے کے ناتے آپ پر ہیں۔ اپنے ملک کے اداروں، ان کے سربراہان، ان کے کام، ان کی ذمہ داریوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ عدلیہ کے کردار پر جن اسکالرز نے اُنگلیاں اٹھائیں، انہیں بھی شرم آنی چاہیے۔ عدلیہ نے بہت مثبت کردار ادا کیا۔ ایک نئی بحث ایک نئی سوچ دی اور یقینی طور پر ہمیشہ کے لیے ایک نظام وضع کرنے کا فیصلہ دے کر ثابت کردیا کہ اس ملک میں آپ کچھ بھی کہیں، قانون کی بالادستی موجود ہے۔

دلائل یہ بھی دیے گئے کہ کسی کی حق تلفی ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، کوئی جلدی ریٹائر ہوتا ہے یا کوئی زیادہ دیر گزارتا ہے۔ یہ فوج کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے، میرا اور آپ کا نہیں۔ یقیناً جس طرح میری اور آپ کی حب الوطنی پر شک آپ کو برا لگتا ہے۔ ہمیں بھی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ تمام تر فیصلے ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں ہورہے ہیں۔ اگر آپ کو بہت تشویش ہورہی ہے تو ملک کے لیے دُعا کریں اور جو کام آپ کے ذمے ہیں، انہیں احسن طریقے سے انجام دیں۔ آپ کے کام سے ملک روشن نہ بھی ہوا تو آپ کا اپنا نام ضرور روشن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی ٹیم پر تنقید کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

جہاں تک بات ہے حکومتی طرزِ عمل کی، یقیناً اسے بھی اپنی غلطیوں سے مزید سیکھنے کا موقع ملا ہوگا اور پتا چلا ہوگا کہ حکومت کرنا پھولوں کی سیج نہیں، یہ کانٹوں کا بستر ہے۔ اور یہ بھی کہ نیا پاکستان بنانے کے لیے بہت سی چیزوں میں نئی قانون سازی ضروری ہے۔ جس پلِ صراط سے حکومت گزری ہے، اس نے اسے بہت کچھ سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہوگا۔

اس لیے انہیں اپنا کام کرنے دیں۔ بس آپ تو ذرا ہوش کے ناخن لیجیے (Take a chill pill man) کہیں تو ذمہ داری کا مظاہرہ کیجیے۔ موجودہ حکومت آپ کو کتنی بھی ناپسند ہو، اگر اس نے ایکسٹینشن کا فیصلہ کیا تو سوچ سمجھ کر کیا ہوگا۔ غلط بھی ہے تو یہ اس کا حق ہے کہ یہی حق اسے پاکستان کے عوام نے دیا ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے گزارش کی گئی ہے تو یقیناً اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی۔ جو شاید آپ کی سمجھ میں نہ آئے اور سمجھ میں آنا ضروری بھی نہیں۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ اس ملک کی تمام حساس معلومات آپ سے شیئر کی جائیں۔ اس پر آپ کے تبصرے لیے جائیں یا پھر سارے فیصلے آپ سے پوچھ کر کیے جائیں۔ ہر پانچ سال بعد آپ کو ضرور زحمت دی جاتی ہے، ووٹ کی صورت۔ وہاں سوچ سمجھ کر اپنے اس حق کا استعمال کریں۔ وہاں درست فیصلہ کریں گے تو بعد میں ایسے جذباتی اور غیرضروری تجزیے کرنے کی فرصت نہیں ملے گی۔