نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور- روف کلاسرا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر تین دن تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا۔ اس سے زیادہ حکومت کی لیگل ٹیم‘ جس کے سربراہ اٹارنی جنرل انور منصور اور سابق وزیرقانون فروغ نسیم ہیں‘ سے سیکھنے کو ملا‘ کہ جب آپ نے حکومت کورسوا کروانا ہو تو کیسے کروانا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میرے جیسے رپورٹرز کو رپورٹر بنانے میں پارلیمنٹ کے دو اداروں کا بڑا ہاتھ ہے‘پبلک اکاونٹس کمیٹی اور اسمبلی میں وقفۂ سوالات۔ مجھے ہمیشہ سے یہ شکوہ اپوزیشن سے رہا ہے کہ انہوں نے ان دونوں اہم فورمز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ میں محمود خان اچکزئی کا شدید ناقد رہا ‘ لیکن ایک بات کی انہیں داد دینے دیں کہ پچھلی پارلیمنٹ میں پانچ سال تک اگر کسی کو میں نے صبح سویرے اٹھ کر اسمبلی کے وقفۂ سوالات میں بیٹھا ہوا اور وزیروں سے سوالات پوچھتے دیکھا تو وہ اچکزئی ہی تھے۔ اس کے بعد اپوزیشن میں سے جو ایم این اے پوری دلچسپی سے وقفۂ سوالات میں شرکت کرتے‘ وہ تحریک انصاف کے رکن مراد سعید تھے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی سے بہت کچھ سیکھنے کو موقع ملا۔ وہاں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے بیوروکریٹس اور ایم این ایز کو ایک دوسرے سے بحث کرتے دیکھا‘آڈٹ افسران کو اُلجھتے دیکھا۔ جب جنرل مشرف نے 2001 ء میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کو میڈیا کے لیے اوپن کیا تو ہمیں وہاں پیش ہونے والے فیڈرل سیکرٹریز کی اہلیت اور قابلیت کا اندازہ ہونا شروع ہوا۔ بڑے بڑے قابل سیکرٹری وہاں آتے‘ ایم این ایز ان سے سوالات پوچھتے اور آڈٹ افسران انہیں چارج شیٹ کرتے اور پھر وہ افسران اپنا مؤقف دیتے اور آخر میں کمیٹی کے ارکان فیصلہ کرتے ۔ایک دن مجھے احساس ہوا کہ بیوروکریسی کے ساتھ اچانک کچھ مسئلہ ہوگیا تھا‘ بیوروکریٹس کی وہ کلاس ریٹائرڈ ہوگئی تھی جنہیں سننے ہم کمیٹی میں جاتے تھے۔ کسی بھی بیوروکریٹ یا سیکرٹری کو جانچنے کا معیار یہ تھا کہ وہ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں کیسے پرفارم کرتا ہے ‘کیونکہ جہاں پندرہ‘ بیس ایم این ایز کی کمیٹی آپ پر تابڑ توڑ حملے کررہی ہو‘ آڈٹ والے آپ پر وار کر رہے ہوں‘وہاں کوئی بھی بیوروکریٹ خود کو نہیں چھپا سکتا ‘ اس لیے میرا کسی بھی بیوروکریٹ کو جج کرنے کا یہی کلیہ تھا کہ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کیسے پرفارم کررہا ہے۔ لیکن اب میں نے محسوس کیا کہ بیوروکریٹس کی وہ کلاس نہیں رہی تھی ۔

اب نچلے لیول سے ایسی لوگ ترقی کر کے گریڈ بائیس میں پہنچ رہے ہیں‘ جن کے پاس وہ معیار نہیں جس کے لیے گریڈ بائیس ضروری تھا۔ اب بابوز کو بھی پتا چل گیا ہے کہ اس ملک میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو قابلیت کی ضرورت نہیں‘ بلکہ کسی نہ کسی سیاسی خاندان کا وفادار بننا پڑے گا۔ دھیرے دھیرے بیوروکریٹس نے کہنا شروع کردیا کہ اس ملک کا مستقبل نہیں۔ پہلے بچے بیرونِ ملک شفٹ کیے ‘ پھر خود غیر ملکی شہریت لینے کا کلچر پروموٹ کیا اور اب بیس ‘پچیس ہزار بابوز کے پاس غیر ملکی شہریت ہے۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی کہ وہ بیرونِ ملک شہریت لے سکیں اور اپنے بچوں کو بھی وہیں گھر لے دیں۔ اب‘ آپ کو لگتا ہے کہ دو‘ تین فیڈرل سیکرٹریز کو چھوڑ کر باقی سب کلرک ترقی کر کے اوپر پہنچ گئے ہیں اور گورننس بہترہونے کی بجائے نیچے جارہی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کے بیوروکریٹس کے پاس وہ قابلیت نہیں رہ گئی جس کی ضرورت تھی‘ لیکن اندازہ نہ تھا کہ حالت اتنی خراب ہوچکی ہوگی۔ کوئی یقین نہیں کرسکتا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہے اور پوری فیڈرل بیوروکریسی کو علم بھی نہیں کہ اس کے لیے کیا طریقہ کار ہوگا۔

پہلے وزیراعظم نے ایک کاغذ پر دستخط کر کے میڈیا کو انیس اگست کو ریلیز کر دیا کہ انہوں نے جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع دے دی ہے۔ اس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ کیا وزیراعظم محض ایک کاغذ پر دستخط کر کے توسیع دے سکتے ہیں؟ اُس وقت وزیراعظم کی لیگل ٹیم نے انہیں کیا ایڈوائس دی کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم نے ان سے بات کیے بغیر خود ہی جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دے دی؟کیاانہیں کسی نے نہیں بتایا کہ پورا پراسس کیا ہے؟ سب سے پہلے تو وزیراعظم کے سٹاف کو علم ہونا چاہیے تھا۔ اگرانہیں پتہ نہیں تھا توکابینہ ڈویژن کا کام تھا کہ وہ گائیڈ کرتے۔ اگر انہیں بھی نہیں پتہ تھا تووزارت قانون کا کام تھا کہ وہ وزیراعظم آفس کوبتاتے کہ پورا پراسس کیا ہے۔ اگر کچھ کسر باقی تھی تو پھر ایوانِ صدر میں باقاعدہ ایک لیگل ڈیپارٹمنٹ ہے جو اس معاملے کو دیکھتا ہے اور صدرِ پاکستان اس طرح کی سمریوںپر دستخط کرنے سے پہلے بھی اس لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رائے لے سکتا ہے۔
جو کچھ سپریم کورٹ میں ہم نے تین دن تک دیکھا‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں گورننس کہاں جا گری ہے اور قابلیت کا معیار کتنا پست ہوچکا ہے۔ اس سے بڑی پشیمانی کیا ہوگی کہ کابینہ کے تین اجلاس صرف ایک معاملے پر ہوتے ہیں کہ آرمی چیف کو توسیع دینی ہے اور پوری کابینہ‘ وزیراعظم اور صدر ِپاکستان تین دفعہ سمریوں اور نوٹیفکیشن غلط طور پر پڑھتے اور اس پر دستخط کرتے ہیں۔

پچاس وزیروں کی کابینہ سے لے کر سینکڑوں بیوروکریٹس اور وزیرقانون اور اٹارنی جنرل اور ان کی فوج ظفر موج کے باوجود بھی سپریم کورٹ میں پوری حکومت کی سبکی ہوتی ہے۔ صرف ایک دفعہ نہیں‘ بلکہ بار بار سپریم کورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ پوری بیوروکریسی اور حکومت میں کوئی ایک بھی قابل بندہ نہیں ہے جس پر اعتبار کیا جا سکے۔ باقی چھوڑیں جب پہلے دن سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کی توسیع پر سوالات اٹھائے اور حکومت نے کہا کہ وہ اگلے دن کابینہ کا اجلاس بلا کر پھر سے منظور کر کے نیا نوٹیفکیشن لائے گی تو اس میں بھی بہت سی غلطیاں سامنے آئیں۔ سوال یہ ہے کہ پوری حکومت اتنی ناسمجھ ہے کہ تین ججز بیٹھ کر تین منٹ میں ان کی غلطیاں نکال لیتے ہیں‘ جبکہ وزیرقانون سے لے کر اٹارنی جنرل اور صدرِ پاکستان تک کسی کو علم نہیں کہ یہ سب کام ہم نے کیسے کرنا ہے؟
اندازہ کریں کہ پہلا کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے‘ جس میں جنرل باجوہ کی توسیع کی جاتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ پورا پراسس فالو نہیں کیا گیا ۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر دوبارہ کابینہ کا اجلاس بلایا گیا تو جو سمری صدر کو بھیجی گئی اس میں لکھا گیا کہ وزیراعظم جنرل باجوہ کی Reappointmentکرنا چاہتے ہیں۔ صدرعارف علوی نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا اس پر لکھا گیا انہیں Extensionدی جارہی ہے اور قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے‘ جس کے تحت مدتِ ملازمت میں توسیع دی جاسکے۔

اب جب اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کررہے تھے تو سب کو احساس ہوا کہ بندہ جب پوری تیاری کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش نہ ہو تو کیا حشر ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل تین دن تک عدالت کے سامنے پرفارم کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ جہاں حکومت ایکسپوز ہوئی‘ سرکاری بیوروکریسی ایکسپوز ہوئی اسی طرح اٹارنی جنرل بھی ایکسپوز ہوئے۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ اٹارنی جنرل کی پوری تیاری نہ تھی جس سے معاملات بگڑتے گئے۔ ویسے اندازہ کریں کہ ملک کی اتنی اہم پوسٹ ہے اور اس کے لیے قانون میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ آرمی چیف کی اگر مدتِ ملازمت میں توسیع کرنی ہو تو پھر کیا پراسس ہوگا؟ بہتر سال سے بغیر کسی قانون اور قاعدے کے ماضی میں جنرل ضیا‘ جنرل مشرف اور جنرل کیانی مدت ملازمت میں توسیع لیتے رہے اور ابھی اٹارنی جنرل نے چھکا مارا جب انہوںنے عدالت کو بتایا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا: اس سے مراد ہے کہ دس سال پہلے جو جنرل ریٹائر ہوا تھا وہ بھی آج آرمی چیف بن سکتا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے فرمایاجی بالکل۔ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
عدالت میں جس طرح حکومت اور بابوز اورعمران خان کی لیگل ٹیم کی نالائقیاں دیکھیں تو حیرت ہوئی‘ واقعی ہمارا ملک بہتر سال سے ایسے ہی چل رہا ہے اور کیسے نالائق لوگ اسے چلا رہے ہیں۔ وہی پرانا شعر یاد آگیا۔ ؎
نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے