چھوڑو بھی گلہ جو ہوا سو ہوا عوام کی زبان سمجھو نہ - محمد طیب زاہر

ملک میں کرپشن کا راج ہے کرپٹ لوگوں کا گروہ ملکی وسائل پر قابض ہے ۔مافیاز کریہ کریہ نگر نگر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں ۔اور ان سے چھٹکارا ناگزیر ہے ۔ ملکی معیشت کا ستیاناس کرنے والے اور موجودہ معاشی بحران کے ذمے داران این آر او کے متلاشی ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کسی صورت این آر او نہیں دوں گا تو دوسری جانب نواز شریف بیماری کی آڑ لئے لندن کی آزاد فضاؤں میں پنشی بنوں اُڑوں آزاد فضاؤں کے متصادق دوڑتے پھرتے نظر آرہے ہیں ۔

ان کی شریانیں 90 فیصد تک بند تھی۔گردے متاثر تھے ۔طرح طرح کی بیماریاں انہیں لاحق تھیں پھر ایک دم سے پردیس کے ماحول نے رُت بدل دی اور دل کے وزیر اعظم لندن کے (بل)میں جا گھسے۔مرحومہ کلثوم نواز کی موت پر بھی سیاست کرنے والے خود مسلم لیگ ن کے چمچے اور درباری ہی تھے جن کے منفی رویوں کی آڑ میں تاثر باہم پہنچا کہ کلثوم نواز کی بیماری اور ان کی موت کو لے کر سیاست کی جا رہی ہے گو کہ اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ ان کی بیماری پر سیاست کی جاتی یا پھر جملے بازی کی جاتی اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے اور کروٹ کروٹ جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے آمین ثم آمین ۔

مسلم لیگ ن کے ترجمانوں کی جانب سے کہا گیا کہ یہاں کسی کی بیماری کو ثابت کرنے کے لئے اُس کا مرنا لازم ہے ۔ عرض ہے کہ اس کے لئے قطعی طور پر مرنا شرط نہیں لیکن اس کی آڑ لے کر خود کو مظلوم ثابت کرنا غلط ہے ۔نواز شریف کی حالت اتنی نازک بتلائی گئی کہ خود احسن اقبال یہ کہہ اُٹھے کہ میاں صاحب کی حالت اتنی ناساز ہے کہ وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کرسکتے ۔پھر یک دم سے میاں صاحب کمر بستہ ہوئے اور لندن کے لئے رختِ سفر باندھ بیٹھے۔ شک و شبہات کی دیوار کھڑی کرنے کے معمار خود نواز شریف اور ان کے حواری ہیں۔یہ ابہام اور اگر مگر کے امکانات کو جنم دینے والے کوئی اور نہیں خود میاں صاحب اور ان کے حامی ہیں ۔

پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی بیماری پر سیاست ہو رہی ہے ۔سابق وزر اعظم اگرچہ دو مرتبہ بیرون ملک سے واپس آئے ایک تب جب ان پر پاناما کی تلوار لٹک رہی تھی اور اُس وقت یہ قیاس آرائی بھی کی جاتی رہی کہ ان کا اب واپس آنا مشکل ہے لیکن پھر انہی آنکھوں نے ان کو واپس اپنے ملک لوٹتے بھی دیکھا۔پھر جب کلثوم نواز کی زندگی کے آخری آیام میں جب احتساب عدالت نے ان کو سزا سنائی تو اُس وقت بھی غالب گمان یہی تھا کہ وہ اب کی بار واپس نہیں آئیں گے لیکن پھر سارے گمان ہوا ہوگئے اور سابق وزیر اعظم اپنی صاحبزادی کے ہمراہ وطن واپس لوٹے اور نیب کو گرفتاری دے دی۔

یہاں ٹائمنگ بہت اہم ہے میاں صاحب جب پہلی مرتبہ لندن سے وطن واپس لوٹے جس وقت پاناما جیسا خوفناک سانپ ان کی سیاست کو ڈستے چلا جا رہا تھا ایسے میں ان کے پاکستان آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اُس وقت ملک کے سپریم عہدے پر براجمان تھے۔اور تمام تر مشکلات کے باوجود ان کے ہاتھ میں بہت کچھ تھا۔اور اسی اعتماد کے چلتے انہوں نے پاناما کی تحقیقات کا بال سپریم کورٹ کی کورٹ میں ڈال دیا اور بعد میں 5 مخالف گولز نے ان کا سیاسی بستر بھی گول کر ڈالا۔

اسی طرح جب وہ نا اہل ہوئے اور احتساب عدالت میں اپنے ریفرنسز بھگتنا شروع ہوئے یہاں تک کہ اُن کو سزا سنادی گئی تو اُس دوران بھی وہ لندن میں ہی مقیم تھے اور اُس وقت نواز شریف کے ہاتھ خالی تھے وہ جس تخت پر بیٹھے تھے وہ اُلٹایا جاچکا تھا ۔اب ان کو گرفت میں لانا زیادہ سہل تھا یہی وجہ تھی کہ یہ خیال کیا جانے لگا کہ اب کی بار میاں صاحب وطن واپس نہیں لوٹیں گے جبکہ میاں صاحب اس کے باوجود واپس لوٹے اس کی دو بڑی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ایک وجہ یہ کہ جب 12 اکتوبر 1999 کو آمر پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ اُلٹا تو اُس وقت میاں صاحب این آر او کرکے ملک سے باہر راہِ فرار اپنا گئے تھے۔

اور ان کو اسی سبب بھگوڑے ہونے کے طعنے بھی سہنے پڑے اور اب کی بار وہ سیاسی ہیرو بننے کیلئے گرفتار ہونے کو تیار تھے سو گرفتار ہوئے تاکہ ماضی کی غلطی کو وہ ٹھیک کرسکیں اور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ نواز شریف کو یہ خوش فہمی تھی کہ خود گرفتاری دینے سے وہ عوام میں زیادہ مقبول ہوں گے اور ائیرپورٹ پر عوام کا ہجوم ان کو احتساب عدالت کے شکنجے سے لے اُڑے گا اور کسی طرح اداروں کو دباؤ میں لاکر کیسز کو ختم کروا دیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا ۔

پھر جب جیل میں چند دن ہی گزرے تو تب سے اب تک نواز شریف کی طبعیت میں اسٹاک مارکٹ کی مانند اتار چڑھاؤ بھی آتے رہے۔اللہ پاک ان کو صحت دے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے لیکن ان کے ترجمان جو رہبر کم رہزن زیادہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ 4 ہفتے تو صرف میاں صاحب کی بیماری کو دریافت کرنے میں ہی گزر جائیں گے ۔سوچتا ہوں کہ اگر چار ہفتے لندن کے جدید ترین سہولیات سے مزئین اسپتال کو میاں صاحب کی بیماری ڈھونڈنے میں لگ جائیں گے۔

تو اس حساب سے اگر وہ پاکسان کے اسپتال میں مستقل علاج کرواتے تو ان میں موجود آلات کا صابن تو لندن کے اسپتال سے بھی سلو ہوتا اور بیماری ڈھونڈنے میں سالوں لگ جاتے ۔اس کا مطلب صاف ہے کہ نواز شریف 4 ہفتے سے زیادہ ہی رہیں گے اور اگر ن لیگ کی یہ حکمت عملی رہی کہ بیماری کو جتنا کھینچ کر آگے لے جا یا جاسکے اور مہینوں میاں صاحب کو کسی طرح سے یہاں روکا جاسکے توپھر معاملہ اور ہوگا اور نواز شریف کے وطن واپس نہ آنے اور کیسز سے راہِ فرار اپنانے کا خدشہ درست ثابت ہوجائے گا۔

دوسری جانب اس سارے معاملے پر حکومت کا رویہ بھی قدرے مشکوک تھا ایک طرف صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد کہتی ہیں کہ نواز شریف بہت بیمار تھے جبکہ وزیر اعظم نے ایک تقریب میں محوِ گفتگو ہوتے ہوئے فرمایا تھا کہ سمجھ نہیں آتا کہ مجھے بتایا گیا نواز شریف اتنے بیمار ہیں کہ اگر ان کو بیرون ملک علاج کی غرض سے نہ بھیجا گیا تو اُن کی جان جاسکتی ہے اور لندن جاتے ہی وہ ٹھیک ٹھاک ہشاش بشاش ہوجاتا ہے اللہ کی شان ہے ۔

وزیر اعظم کے اس طرح کے ریمارکس دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کیا ان کو اپنی ہی صوبائی وزیر صحت پر یقین نہیں تھا ؟ وہ تو یہ کہتے نہیں تھک رہی تھی نواز شریف بیمار ہیں۔حکومتی نمائندوں کی آپس میں تضاد رائے نواز شریف سے کسی ڈیل کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے۔اسی طرح گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھی نشانے پر رکھا اور قانون کے بے توازن ہونے کا رونا بھی رویا اور وزیر اعظم کو چیف جسٹس کا جوابی وار بھی ملا۔

وزیر اعظم کا اشارہ ہو نہ ہو شریفوں کے لئے خصوصی طور پر عدالت کا ہفتے کو لگانے اور نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بغیر بانڈ کے جانے دینے کی طرف تھا۔وزیر اعظم کو ایک پیغام ہے کہ چھوڑو بھی گلہ جو ہوا سو ہوا عوام کی زبان سمجھو نہ اور بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری پر بھرپور توجہ دو نہ کیونکہ اب آپ پر نواز شریف کو لے کر جو دباؤ تھا وہ کم ہوگیا باقی جو بچا ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا لہذا اب آپ کا فوکس عوامی مسائل پر ہونا چاہئے ورنہ مستقبل قریب میں آپ کے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */