یادوں کی صندوق - افشاں نوید

سردیوں کے کپڑوں کا صندوق کیا کھولا کہ یادوں کے صندوق کھلتے چلے گئے۔۔کچھ یادیں یونہی موسموں سے جڑی ہوتی ہیں۔ یوں کروٹ لی وقت نے کہ سب ہی کچھ بدل گیا۔
بچپن کی سردی تو امی کی مصروفیت کا نام ہوتی تھی۔۔تام چینی کے بڑے بڑے مرتبان ان میں ایک سے سائز کی گاجریں کاٹ کر پھر کٹی سرخ مرچ ، رائی اور نمک وغیرہ ڈال کر مرتبان کے منہ پر ململ کا کپڑا لپیٹ کر چھت پر دھوپ میں رکھنا ، رات کو نیچے لانا کہ اوس خراب نہ کردے۔

ایسے ہی شلجم مولی وغیرہ کا اچار جو پڑوس میں بھی بھیجا جاتا،کبھی آنے جانے والوں کے تحفتاً ساتھ کردیا جاتا۔ باجرے کی روٹی امی کے ساتھ ہی ہماری زندگیوں سے رخصت ہوگئی۔سرما میں کبھی یہ روٹی ساگ کے ساتھ اور کبھی روٹی کے ملیدے میں کٹے ہوئے گڑ اور دیسی گھی کے ساتھ چولھے پر چڑھا دی جاتی۔ چند سیکنڈ میں گھی پگھلا اور ملیدہ تیار۔ اس ملیدے کا ذائقہ اب بھی کہیں یادوں کے ساتھ زبان پر بھی محفوظ ہے۔ہاں یہ ملیدہ بھی طشتریوں میں آس پڑوس کے گھروں میں لازمی بھیجا جاتا۔ ایک بات جو سمجھ میں نہیں آتی کہ اس وقت چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں پڑوسیوں کو شامل کیا جاتا تھا اب لوگ بڑے ہوگئے شائد! بڑے لوگ چھوٹی خوشیاں تقسیم نہیں کرتے!!! آج یاد آرہا ہے کہ اون کی سلائیوں کے بھی نمبر ہوتے تھے۔امی بھائی سے کہتیں تم سولہ نمبر کی سلائیاں لے آئے میں نے بیس نمبر کی منگوائی تھیں۔ساری سردیاں امی ہم آٹھ بہن بھائیوں کے سوئیٹر بناتے گزارتیں۔پرانے سوئیٹر ادھیڑنا۔پھر رنگ والا دیگچا چولھے پر چڑھا کر انھیں رنگنا(ہماری امی کا رنگ کا دیگچہ الگ تھا۔زیادہ تر کپڑے گھر میں رنگتیں)اسوقت ایک رنگ بیچنے والا لوھے کا چھوٹا صندوق کندھے پر رکھے گلیوں میں آواز لگاتا تھا اور بیشتر دروازوں کی اوٹ سے وہ رنگ کی پڑیاں خریدی جاتی تھیں۔ امی ادھیڑے ہوئے سوئیٹروں کے اون کو لچھوں کی شکل میں رنگ کر سکھا کر پھر ان کے گولے بناتیں۔ پھر سوئیٹر کی بنائی کا مرحلہ ، بچپن کی یادوں میں جب ہم بستروں میں لحافوں میں دبکے ہوتے امی کے ہاتھ تیز تیز سوئیٹر بنانے میں مصروف ہوتے۔ جب رات کو آنکھ کھلتی امی اور سوئیٹر کی بنائی۔ اسوقت ذھن میں آتا کی شائد امیاں راتوں کو سوتی نہیں ہیں!!!

تب سرکاری نلوں میں پانی ہمارے گھر رات کو تین یا چار بجے آتا، آنکھ کھلتی امی کو کپڑے دھوتے دیکھ کر کبھی خیال بھی نہ آتا کہ کپڑے بھی کوئی اخیر رات کو دھلنے کی چیز ہیں؟؟
ہمارے گھر کی راتیں بھی عجب راتیں تھیں۔ ہم نے کبھی رات کو اندھیرا نہیں دیکھا اپنے گھر میں کیونکہ اباجی رات بھر تلاوت میں مصروف ہوتے ساتھ چائے کے دور۔ کبھی خود بناتے کبھی امی کی خدمات۔اسلئے شائد امی کو بھی رات کی نیند سے خاص دلچسپی نہ تھی۔ امی کے رت جگے ہمارے جسموں کے نئے سوئیٹرز کی صورت میں امر ہوجاتے۔ آٹھ بچوں کے سوئیٹر ، کسی کی پوری آستین،کوئی بن آستین ،کسی کے یونیفارم کے مطابق کوئی آسان تھا بھلا؟؟ وہ امی جو والدین کی لاڈلی زمیندار گھرانے میں پلی بڑھیں۔ جن کی شادی اس شرط پر ہوئی تھی کہ نازوں میں پلی ہیں گھر کے کام نہیں کریں گی۔ پانچ برس کی عمر میں چلنا سیکھا تھا۔ بچپن سے کمزور تھیں۔ یہ اس دور کی قناعت پسندی تھی کہ عورتیں خود کو ہر ماحول و حالات میں ڈھال کر اولاد کی خاطر اپنی ذات کی نفی کردیتی تھیں۔۔۔ ہم نے کبھی بازار کے سوئیٹر پہنے نہ درزی کے سلے کپڑے ۔ امی کی سلائی مشین بھی بغیر موٹر والی ہاتھ کی تھی۔ جسکی مرمت بھی وہ بڑے پیشہ ورانہ انداز میں خود کرتیں ۔ حکیم برکاتی کے خاص مربے سردیوں میں اباجی منگواتے جن میں امی کے سوا کوئی دلچسپی نہ لیتا ۔ امی چونکہ ٹی بی کی موزی بیماری سے زندگی کی جنگ ہارتے ہارتے بچی تھیں اس لیے اباجی ان کی صحت کا خاص خیال رکھتے۔

خالص شہد گاؤں سے منگواتے۔ سردیوں کی صبح درجن بھر انڈے اباجی اذان فجر کے ساتھ ہی ابال لیتے،جی چاھے نہ چاھے سب بچوں کو کھانا ہوتے پھر دار چینی اور لونگ و ادرک کی چائے۔اباجی روز اسکے فوائد گنواتے مگر ہم بچوں کے حلق سے نیچے نہ اترتی۔ انگیٹھی دہکانا ہمیں کبھی نہ آیا۔ہر کمرے میں انگیٹھی۔کچھ سائز میں چھوٹی،کچھ بڑی۔اباجی سلگا کر کبھی صحن میں رکھتے کبھی کمروں میں۔اس کی راکھ سے کتنی یادیں جڑی ہیں۔اس راکھ کو احتیاط سے محفوظ رکھا جاتا جو دیگچیاں مانجھنے کے کام آتی۔اسی راکھ میں ہم چمٹے کی مدد سے کبھی آلو،کبھی شکرقندی اور کبھی بھٹے دبا دیتے۔پھر ان انتظار کی گھڑیوں کی بے چینی نہ پوچھیں۔گھنٹہ بھر میں وہ کوئی شے تیار ہوتی تو جس کے مالکانہ حقوق ہوتے وہ جاگیرداری دکھاتا اور باقی خوشامدی ٹہرتے۔۔ اسوقت کراچی میں سردی بہت پڑتی تھی مگر امی کہتیں یہ تو پنڈی کی سردی کے مقابلے میں کچھ نہیں ،وہاں تو نلوں میں پانی اور سل پر بٹہ جم جاتا ہے۔ رت اب بھی بدل رہی ہے مگر رت کے ساتھ سب ہی کچھ بدل چکا۔ اب کے مائیکرو ویو والے بچے کیا جانیں انگیٹھی میں شکر قندی رکھنا،نہ ہم رنگ والے کو آواز دیکر دروازے کی اوٹ سے رنگ خریدتے ہیں۔ نہ کبھی اون رنگی نہ سوئیٹر بنا۔نہ کسی گھر میں اون سلائیاں ۔ نہ اچار مربے، ملیدے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ اڑوس پڑوس سب سانجھا ہے سب اپنا ہے۔ تب ذائقے بھی سانجھے تھے اور دکھ درد بھی۔ زمانہ کو آگے ہی بڑھنا چاہیے۔ہر زمانے کے تقاضے بھی جدا۔۔۔۔مگر کبھی کبھی۔۔۔۔یادوں کے صندوق کھلنے میں حرج بھی کیا ہے!!!!