والذین امنوا اشد حب للہ - ماہین خان

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف عطا کیا ۔ ہر ذی روح کو ادنیٰ کردیا گیا انسان کے سامنے اور فرشتوں سے سجدہ کروایا۔۔۔۔۔اللہ نے انسان کو یہ اعلیٰ و عرفہ مقام ایسے ہی نہیں دے دیا ۔فرشتوں نے اعتراض کیا: "اے رب العالمین!کیا آپ زمیں پر ایک ایسا خلیفہ بنانے والے ہیں جو خون ریزی اور فساد برپا کرے گا ؟۔۔۔لیکن اللہ کی حکمتیں ..اس اعتراض کا انتظام پہلے ہی کیا جاچکا تھا۔ انسان کے وجود میں آتے ہی اس حکیم رب نے اس مٹی کے پتلے کو علم و شعور عطا کیا اور فوقیت کا سبب سامنے رکھ دیا۔

یہ سب اللہ نے کیوں کیا؟ کیا ضرورت تھی اللہ تعالیٰ کو انسان کی تخلیق کرے؟کیا باقی مخلوقات کم تھیں ؟کیا ملائکہ کم تھے ؟ کیا کائنات کم تھی اس واحدہ لا شریک کی عبادت کے لئے؟
نہیں ۔۔۔۔۔ بالکل نہیں انسان کی تخلیق کے پیچھے ایک الگ سی وجہ تھی ۔۔بہت ہی خوبصورت سی ۔۔اور وہ وجہ تھی محبت ! ہاں۔۔۔ محبت اللہ تبارک تعالیٰ کو انسان کی تخلیق سے پہلے سے ہی محبت ہو گئی تھی۔ اس نے یہ کائنات انسان کے لئے ہی تو بنائی تھی ... وہ علم انسان کے لئے ہی تو رکھا گیا تھا ...اور عظیم رتبہ بھی صرف انسان کو ہی دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ ، یہ محبت!
پھر رفتہ رفتہ انسان کو بھی اس کی اللہکی محبت سمجھ آنے لگی ۔ وہ اس اختیاری محبت کو سمجھنے لگا غورو فکر کرنے لگا انسان۔۔۔۔ اور اپنے آقا غلام کے رشتے کو سمجھتا گیا۔ پھر کہیں موسیٰ ؑ نے طور پر رب کی تجلّی دیکھنے کی فرمائش کی ،کہیں داود ؑنے رب کی حمد بیان کی، کہیں ابراہیمؑ نے رب سے وفا نبھائی، کہیں اسماعیلؑ نے رگڑ کھا کر زم زم حاصل کیا ،کہیں یعقوب ؑ نے اپنے بیٹے کی جدائی کا غم رب کے لئے برداشت کرلیا اور انہیں کے بیٹے نے بھی اپنے رب کے لئے صبر کرلیا .....پھر نبی مہرباں صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے بھی اپنے رب کی خاطر طایف کی وادی میں پتھر کھائے
احد میں خود کی کڑیاں کھائیں باتیں سنیں لیکن محبت کم نہ ہوئی۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   داستانِ نو - مُبشرہ ناز

انسان نے پیدا ہوتے ہی کان میں اس رب کی محبت کی شہادت سنی اور اپنا پہلا تعلق بھی اسی کا جانا۔۔۔! اللہ نے ہم پر بہت احسانات کئے ہیں جو محبت میں کیے ... ایسے میں اللہ تعالیٰ نے(ابراہیم) کہا، "مسلم ہو جا" اور انسان مالکِ کائنات کا مسلم ہو گیا ۔۔۔۔۔ مسلم ..... کون ہے یہ مسلم ؟ کیا کرتے ہیں مسلم ؟ مسلم وہ ہوتا ہے محبت کا جواب محبت دے۔ احسان کا جواب احسان دے۔ اطاعت میں سر جھکا دےجو صرف اللہ کو الہٰ مانے۔۔۔صرف ایک معبود! مسلم وہ ہوتے ہیں جو رب سے اس کی محبت میں چمٹ جاتے ہیں تعلق رکھتے ہیں اور اس کی کسی بات کو انکار نہیں کرتے۔۔ مسلم فرماں بردار ہوتا ہے پھر اللہ اس کے ساتھ تنہائی میں بھی ہوتا ہے اس کا کچھ بھی اپنا نہیں رہتا سب کچھ اس غلام کے آقا کا ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ رب کا ہونا آسان نہیں مشکل ہے پر خطر ہے جب بندہ بندگی پر آجاتا ہے تو اس کی محبت اور عبادت لامحدود ہو جاتی ہے ایک نشہ چڑھ جاتا ہے اس پر اپنے مہربان رب کا جو اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے۔ بس ڈھونڈیں اپنے آپ کو انہیں مسلم لوگوں میں جو اپنے رب کی محبت میں گم ہیں جو اپنے رب سے وفا نبھا رہے ہیں اور ڈھونڈلیں اپنے رب کو۔۔۔۔۔۔۔۔!

ٹیگز