ڈرامہ سیریل ”ارطغرل“ اور پاکستانی ڈرامہ - راحیلہ چوہدری

دسمبر 2014کو ترکی کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل ”ارطغرل غازی“ اس وقت عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے ۔ ڈیریلش ارطغرل 5سیزنز پر مشتمل ترکی کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ڈرامہ ہے ۔ یہ ڈرامہ 60سے زائد ٹی وی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے اوراب تک دنیا کے 78مما لک میں یہ سیریز دیکھی جا رہی ہے جس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے ۔

تاریخ کے ان عظیم کرداروں کو محمدبزداغ نے بطور مصنف اور سکرین رائیڑ بڑی مہارت اورشان سے زندہ کیا ہے ۔ ہمت و جرات کی اس عظیم الشان داستان میں دکھایا گیا ہے کہ چرواہوں کا یہ خانہ بدوش قبیلہ جو جاڑے کے بے رحم موسم میں قحط سے بچنے کے لیے حلب کے امیر سے ایک زرخیز چراگاہ میں قیام پذیر ہونے کی اجازت مانگ رہا ہوتا ہے اور پھر آگے چل کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھ دیتا ہے جو آٹھ سو سال قائم رہتی ہے ۔ چرواہوں کا یہ جنگجوقائی قبیلہ ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد کیسے رکھتا ہے اس غیر معمولی جدو جہد کی داستان کا نام ”ارطغرل“ ہے ۔ یہ ڈرامہ ایک شاہکار ہے ۔ جو دیکھنے والے کو ایک سحر میں مبتلا کر دیتا ہے اس ڈرامے کے ڈائیلاگز ، دیکھنے والے کا ایمان تازہ کر دیتے ہیں اس ڈرامے کی بہت سی خوبیوں کے ساتھ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ڈرامہ مسلمانوں پر مسلط کردہ احساس ِکمتری کا طلسم کدہ توڑ کر پھینک دیتا ہے ۔ اس ڈرامے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ تھوڑے سے خانہ بدوش چرواہے جن کے پاس نہ زمین ہے نہ چھت ایسی حالت میں وہ کس طرح دین کی طاقت سے اور اسلام کی حفاظت کرنے سے سپر پاور بن جاتے ہیں ۔ مسلم تاریخ سے شغف رکھنے والوں کو اس ڈرامے نے اپنی جانب تو راغب کیا ہی لیکن گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ایک تقریب میں خطاب کے دوران اس ڈرامے کا ذکر کیا

اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس ڈرامے کو اردو کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ مسلمانوں کو اپنی کامیابیوں اور تاریخ کا پتہ چل سکے ۔ 2017میں نیو یارک ٹائمز میں ولیم آرمسڑانگ نے لکھا کہ طیب اردغان اور ترکی کی نفسیات جاننے کے لیے ”ارطغرل“ ڈرامہ دیکھ لیجئے ۔ اس بیان نے ایک پروپیگنڈے کی شکل اختیار کر لی اوراس بیان کے جواب میں طیب اردغان نے صرف ایک فقرہ بولاکہ”جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے ۔ تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے“ ۔ طیب اردغان کا یہ جملہ پاکستانی میڈیااور سکرین رائیڑرز کے لیے بڑا توجہ طلب ہے ۔ کسی بھی ملک کا میڈیا معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔ میڈیا جو کچھ بھی دکھاتا ہے لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی زندگیوں پر اس کے مثبت او ر منفی بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ہم جس زوال کے دور سے گزر رہے ہیں اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے میڈیانے اسلام کے اصل ہیرو کو مار کر دفن کر دیا ہے ۔ پاکستانی ڈراموں نے ہیرو کی شخصیت کو مسخ کرنے میں جوکردار ادا کیا ہے اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی ۔ پاکستانی معاشرہ ان بے مقصد ، ذہن کو تھکا دینے والی اور بے روح کہانیوں سے بہت متاثر ہو چکا ہے ۔ افسوس کے ساتھ ایک تو ایسے ڈرامے بنائے نہیں جا رہے جو اسلام کے حقیقی ہیرواور مقصدِ حیات کی ترجمانی کر سکیں اور اگر ایسا کوئی ڈرامہ بن کر آگیا ہے تو اسے سرکاری یا نجی طور پر اہمیت ہی نہیں دی جا رہی ۔

پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستانی میڈیا کی اس ڈرامے کے حوالے سے خاموشی افسوس ناک ہے ۔ پاکستان میں اس ڈرامے کے پہلے سیزن کو اردو ترجمے میں پیش کرنے کے بعد پاکستان کے پرائیویٹ ٹی وہی چینل ہم ستارے نے اس کو روک دیا اور باقی کے ، 2,3,4,5سیزین کو جاری رکھنے کا بیڑا GIVE ME 5کی ٹیم نے اٹھایا ۔ ٹی وی چینل پر نہ چلنے کے باوجود لوگوں نے اسے GIVEME5.COMپر دیکھا او ر پاکستان میں بھی اسے مقبول ہونے سے کوئی نہیں روک سکا ۔ اس ڈرامے کی پسندیدگی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی ایسی کہانیاں اور کردار دیکھنا چاہتا ہے ۔ جن میں اس ڈرامے کی طرح کرداروں اور کہانیوں کامقصد ہمیشہ عدل و انصاف کا قیام ، خدا پر یقینِ کامل ، کسی بھی مشکل سے مشکل وقت میں ہمت نہ ہارنا ، حق کی خاطر اچھے فیصلے لینا اور ایسے کردار جو روحانی اصلاح کا باعث بنتے ہیں کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ہمارا پاکستانی ڈرامہ فحش اور بولڈ کہانیوں کی جیتی جا گتی مثال بن چکا ہے ۔ ٹی وہ ڈرامہ اب ہر طرح کا تعلق بلا روک ٹوک واضح دکھانے لگا ہے ۔ پاکستانی ڈرامے کا معیار بہت گر گیا ہے ۔ ڈرامے کی کہانی اور سکرپٹ پر بالکل محنت نہیں کی جارہی ۔ اصلاحی اور فکری موضوعات کی شدید کمی ہے ۔ مانا کہ ٹی وی ڈراموں میں دکھائی جانے والی بہت سی حقیقت ہمارے معاشرے کا حصہ ہے ۔

لیکن ایک ہی طرح کے موضوعات بار بار دکھانے سے کیا حاصل؟اور اب نئے آنے والے زیادہ تر ڈراموں میں نہ تو کہانی ہے نہ ڈائیلاگزاور ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے ڈراموں میں فلمی اور رومانوی رنگ بڑھایا جا رہا ہے ۔ ایک ہی طرح کے موضوع پر چار طرح کے چینل ڈرامہ بنا اور دکھا رہے ہیں اس حوالے سے سوشل میڈیا پہ اکثر لوگ مخالفت کرتے اور احساس دلاتے نظر آتے ہیں مگر افسوس ڈرامہ لکھنے اور بنانے والے بڑی ڈھٹائی سے اس بات کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ڈرامہ لکھنے اور بنانے والوں کو اپنا یہ انداز بدلنا چاہیے ۔ پاکستانی ڈرامے کے ہیرو اور ہیروئن کی شخصیت کو زندہ کرنا چاہیے ۔ جیسے اس ڈرامہ ارطغرل میں تمام مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کرداربھی انتہائی مضبوط دکھایا گیا ہے ۔ اس ڈرامے میں اکثر اوقات خواتین کو مردوں کی غیر مو جودگی میں سردار کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے ۔ وہ تلواروں اور خنجروں سے لٹرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہنر سیکھنے اور کاروباری معا ملات میں لگی رہتی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی ڈراموں کے ہیرو اور ہیروئن کومحنت ، مشقت اورمستقل مزاجی کے سانچے میں ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے ٹی وی ڈرامے کی کہانی حقیقی زندگی میں بھی کوئی کردار ادا کر سکے اور معاشرے کو تصوراتی دنیا سے نکال کر کار آمد بنا سکے ۔ اس حوالے سے پیمرا کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے ۔ پیمرا کوجب یہ اختیار ہے کہ وہ مذہب ، سالمیت ، پاکستان کی قومی سلامتی کے مفاد میں مناسب پابندیاں عائد کرکے معلومات تعلیم اور تفریح کے معیار کو بہتر بنائے . تو اسے اپنے اس حق کو استعمال کرنا چاہیے ۔ عوام کو چاہیے کہ صرف سوشل میڈیا پہ احتجاج کرنے کے بجائے پیمرا کو ڈائریکٹ مخاطب کرے ۔ وزیر اعظم عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے ڈراموں کے حوالے سے عملی طور پر بھی اقدامات کریں ۔ تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com