ناروے میں مسلمان اور قرآن - فضل ہادی حسن

نظر آنے والی تصویریں اسلامک کلچرل سنٹر ناروے کے زیر اہتمام نارویجین میں شائع ہونے والے ترجمہ قرآن مع مختصر حواشی کی تین جلدوں (منزل کے حساب سے) کی ہیں، جو سورہ فاتحہ سے سورہ نحل تک کے ترجمہ کیساتھ شائع ہوچکی ہے، جبکہ سورہ لقمان تک ترجمہ قرآن مکمل ہوچکا ہے۔ سنٹر نے چند ماہ قبل ہیleskoranen.no کے نام سے ایک الگ پراجیکٹ کا آغاز کر دیا تھا جس میں قرآن کا ترجمہ نارویجین سمیت مختلف زبانوں میں کچھ اہم فیچرز کیساتھ پیش کرنا شامل ہے۔

اس وقت مذکورہ ویب سائٹ پر سورہ لقمان تک ترجمہ آپ لوڈ ہوچکا ہے۔ رضاکارانہ طور اپنی خدمات پیش کرنے والے چند بھائی اور بہنوں پر مشتمل گروپ نے باریک بینی سے یہ ترجمہ اس مقام تک پہنچا دیا، فلله الحمد، جبکہ نئے پراجیکٹ کے بعد اس کے لئے خصوصی فنڈ مقرر کرنے اور مستقل طور پر دو بہنوں کی ذمہ داری لگائی گئی جس سے ہم پُر امید ہیں کہ آئیندہ سال ترجمہ قرآن پراجیکٹ مکمل ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز ۔ ناروے میں قرآن کا ترجمہ اسلامک کلچرل سنٹر کے علاوہ سب سے پہلے ایک نارویجین Einar Berg نے 80 کی دہائی میں کیا تھا جو اس وقت کافی مشہور اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ترجمہ تھا، لیکن ترجمہ میں کچھ کمزوریوں اور مشکل زبان کے استعمال کیوجہ سے تارکین وطن مسلمانوں کے لیے باعث کشش نہ بن سکا تھا، اگرچہ اس سے استفادہ کیا جاتا ہے، نیز منہاج القرآن انٹرنیشنل ناروے نے بھی ترجمہ قرآن کیا ہے۔ یہاں مسلمانوں کے بارے میں مختصرا بتانا چلوں کہ ناروے میں سب پہلے پہنچنے والے مسلمان، پاکستانی تھے جو 1968 میں یہاں آئے تھے البتہ بعد میں ستر کی دہائی میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہوگئی۔ نارویجین سنٹر برائے شماریات کے مطابق 2104 تک مسلمانوں میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانی تارکین وطن کی تھی۔

90 کی دہائی میں صومالیہ کی خانہ جنگی کی وجہ سے صومالی یہاں پہنچے تھے جو 2014 سے افرادی تعداد کے لحاظ سے سب زیادہ بطور مسلمان مہاجرین ہیں۔ نیز اس وقت ناروے میں عراقی، افغانی، فلسطینی، ترک، مراکشی، شامی، ایرانی، انڈین اور سری لنکن سمیت دیگر مختلف ممالک کے مسلمان آباد ہیں۔ 2017 کی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ناروے میں دولاکھ سے کچھ اوپر ( 2%) مسلمان آباد ہیں (پیو رسیرچ سنٹر کے 2017 کی رپورٹ کے مطابق تقریبا تین لاکھ ہیں)۔ جس کے مطابق عددی لحاظ سے صومالی، عراقی، افغانی اور پاکستانی بالترتیب پہلا، دوسرا، تیسرا اور چوتھا بڑا گروپ ناروے میں آباد ہے۔ 70ء کے اوائل میں جب چند ہی مسلمان یہاں پہنچے تھے ان میں سے چند بزرگوں نے ایک مشترکہ جگہ پر تفہیم القرآن کے اجتماعی مطالعہ سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا جو 1974 میں باقاعدہ ایک تنظیم، "اسلامک کلچرل سنٹر ناروے" کے نام سے ناروے میں مسلمانوں کی پہلی اور باقاعدہ تنظیم کی صورت میں رجسٹرڈ ہوگئی۔ آج ناروے میں مختلف عرب ممالک، پاکستانی، بوسنیا، کوسوا، سمیت دیگر ملکوں کی لگ بھگ 150 رجسٹرڈ مذہبی تنظیمیں ( Tros og livssynssamfunn) موجود ہیں۔ نیز ناروے بھر میں تقریبا 170 کے قریب مساجد اور مصلے ہیں۔ سب سے زیادہ مسلمان دارالحکومت اوسلو میں آباد ہیں، جہاں 70 کے قریب مساجد اور مصلے ہیں جن میں پانچ بڑی باقاعدہ مساجد بھی شامل ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */