داستانِ نو - مُبشرہ ناز

میں کئی گھنٹوں سے گُم سم حیران، آج کی ڈاک سے ملنے والی چٹھی اور چٹھی میں لپٹی تصویر ہاتھ میں پکڑے یقین کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور وہ آگے اور آگے ۔چِٹھی سے اُٹھتی الائچی کی خُوشبو گرم چاۓ کی پیالی اور ایک مہکتا آنگن آنکھوں کے صحن میں یادیں مل بیٹھی تھیں جیسے کئی سالوں کے بعد بچھڑی سہیلیاں ۔ ہنستی بھیگتی خنک اور سُنہری یادیں ۔ اور امّاں ، امّاں بھی تو وہیں تھیں ۔

یاد نے میرا ہاتھ تھاما اور ماضی کی پگڈنڈیوں پر تیزی سے بھاگنے لگی ۔ آنسو خط پر گرتے رہے گنگناہٹیں من میں سُر بکھیرنے لگیں ” تو میرے مَن کا موتی ہے ان نینن کی جوتی ہے۔ مُجھے یاد ہے بھول بھی کیسے سکتا ہے “ امّاں کو گئے چند دن ہی تو ہوۓ تھے کہ میرا تبادلہ مری ہسپتال میں ہو گیا۔ آخری سانسوں تک میں امّاں کے ساتھ رہا تھا۔ ان کا اچانک چلے جانا، دِل مانتا ہی نہ تھا، میرا تھا بھی کون امّاں کے سوا۔ جیسے تیسے سامان سمیٹا گھر کو تالا لگایا۔ اگلے دن صبح چارج سنبھالنا تھا۔ مُجھے امّاں کی خُوشبو اور یادوں سے بھرا گھر چھوڑ کر جانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ خنک رات کی چھت پر مدھم سانسیں لیتا سویا سویا چاند اور مہکتے خاموش راستے مری کو حسین تر بنا رہے تھے۔ مگر ایک خاموش دروازہ اور اُس پر شکوہ کُنہ تالا نظر کے سامنے سے ہٹتے ہی نہیں تھے ۔ ”تُو میرے مَن کا موتی ہے اِن نینن کی جوتی ہے“ کوئی مَن میں گنگنایا دِل ہی دِل میں سسکی بھرتے کئی بار میں نے دِھیان کو فریب دینا چاہا حسیں موسم چاند اور خنک رات پر تالے کی آ ہوں اور میری سسکیوں کی اوس گرتی رہی اور رات کی خنکی بڑھتی رہی۔ لیں جی صاحب جی یہ ہے آپ کا گھر دین محمد نے سامان رکھتے ہوۓ کہا۔ آپ منہ ہاتھ دو کر فریش ہو جائیں کھانا ڈاکٹر صاحب کی طرف ہے میں آپ کو لیئے چلتا ہوں۔

میرے کولیگ ڈاکٹر خالد کافی عرصہ سے مری میں رہائش پزیر تھے۔ کھانے کا سنتے ہی بھوک کا شدید احساس ہوا۔ امّاں کے جانے کے بعد بھوک مٹانے والا مہربان چولہا کب سے ٹھنڈا پڑا تھا۔ مسکین چولہا ایک کونے میں پڑا جانے والی کو یاد کرتا پُرانْی خوشبوؤں سے میری طرح دِل کو بہلاتا ہو گا۔ چولہے کی مسکینی نے بھوک کے احساس کو زور سے ٹھوکر مار دی۔ امّاں، دِل نے پھر سسکی بھری آنکھ نے امّاں کی فوٹو کو سینے سے لگایا۔ مری میں میری پہلی رات بہت خنک بہت غمگین تھی۔رہائش کے لیئے کاٹیج اور خدمت کے لیئے دین محمد موجود تھے۔ کاٹیج اچھا تھا کُھلا اور ہوا دار۔ سامان رکھنے کے بعد دین محمد کی قیادت میں ڈاکٹر صاحب کی طرف پہنچے۔ ایک عجیب سا احساس تھا۔ جو گھر کے اندر داخل ہوتے ہی ہوا گھر میں نُور تھا ایک خُوبصورت سی مہک ،شاید کسی نیک روح کا بسیرا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بہت محبت سے ملے ان کی اہلیہ پردہ دار خاتون تھیں گھر کا ہر کو نہ خاتون خانہ کے سلیقے کی گواہی دے رہا تھا۔ اچانک امّاں پھر سے پاس آ کر گئیں ۔ پُتر شادی کرلے میں بوڑھی جان کتنا جی لُوں گی تیری فکر رہتی ہے مُجھے۔ کمر پر مہربان ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا۔ میں نے چونک کر دیکھا امّاں کی خُوشبو آس پاس موجود تھی مگر امّاں کہیں نہیں تھیں وہ مہربان وجود بہت دور جا چکا تھا۔

کمرے کا منظر دھندلا پڑ گیا۔ آنکھیں چھلکنے کو بیتاب تھیں میں اُداس خاموش بیٹھا تھا یوں جیسے بچے کا سکول میں پہلا دن۔ ڈاکٹر صاحب کی محبت اور شگفتہ طبیعت نے میرے اندر کے غمگین بچے کو بہلا ہی لیا۔ کچھ ہی دیر بعد ملازم نے کھانا لگنے کی اطلاع دی۔ کھانا انتہائی لذیذ تھا اور بعد میں الائچی والی چاۓ نے جو لُطف دیا۔ واہ ساری تھکن اُتر گئی امّاں کے جانے کے بعد آج پہلی مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ رات کے دس بج رہے تھے ڈاکٹر صاحب سے اجازت لی، واپسی پر میں کسی حد تک ہشاش بشاش تھا۔ آہستہ آہستہ میں اس نئے ماحول میں ر چنے بسنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب اکثر کھانے پر بلا بھیجتے۔ کھانے سے زیادہ کھانے کے بعد ملنے والی الائچی دار چائے مُجھے وہاں لے جاتی۔ امّاں کے ہاتھ کی الائچی دار چائے بہت یاد آتی تھی۔ سانسوں کو اُس مہک سے عِشق تھا۔ یہاں کی چائے سے ویسی ہی مہک آیا کرتی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر صاحب کہنے لگے میاں شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ میری اہلیہ کی ہمشیرہ اور میری خالہ زاد ہیں شوہر کی وفات ہو چکی ہے۔ بہت نیک اور سگھڑ خاتون ہیں۔ والدین وفات پا چکے ہیں اس لیئے ہمارے آبائی گھر میں میری امّاں کے پاس ہی ہوتی ہیں۔ یہ اُن کی تصویر ہے دیکھ لو ملنا چاہو،تو بھی بتا دو۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر کے طریقے سلیقے کا تو میں دِل سے معترف تھا ہی،

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا حق - بشارت حمید

موصوفہ ڈاکٹر صاحب کی خالہ زاد تھیں اور ان کی اہلیہ کی ہمشیرہ بھی اور پھر تصویر دیکھنے کہ بعد انکار کی گنجائش ہی نہ رہی۔ تصویر ہو بہو وہی تھی جو چند روز قبل امّاں نے مُجھے خواب میں دکھائی تھی۔ سوچ لے پُتّر اس سے اچھی لڑکی تُجھے کہیں نہیں ملے گی انکار نہ کریں پُتّر ، تیرا گھر نُور سے بھر دے گی ۔ بچی بہت نیک ہے ۔ امّاں کے الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے۔ خواب تھا یا شاید حقیقت۔ تقریباً پانچ ماہ بعد سادگی سے ڈاکٹر خالد صاحب کے گھر سے رخصتی ہونا قرار پائی۔ ڈاکٹر صاحب نے سب معاملات طے کیئے اور چھٹیوں پر اپنے آبائی گھر چلے گئے جہاں انہیں شادی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ اپنے کچھ زمینوں کے جھگڑے وغیرہ بھی نپٹانے تھے۔ صبا کو رخصت کروا کر میں سیدھا اپنے گھر لے گیا امّاں کے گھر، دروازے پر پڑا تالا کھولا دروازے نے میری بلائیں لیں صدقے واری جاتا ہو جیسے ۔ ”گھر آیا میرا پردیسی پیاس بجھی میری اکھین کی “ ۔ جب بھی میں ہوسٹل سے گھر آتا امّاں گنگنایا کرتی، آنگن میں کپڑے پھیلاتی، روٹی بیلتی امّاں، آنگن جو کبھی رنگوں سے بھرا رہتا آج پھیکا پڑا تھا۔ امّاں کے اتنے رنگ تھے میں نہیں جانتا تھا زندگی میں سارے رنگ ہی امّاں سے تھے میری پڑھائی کے دوران دودھ کا گلاس دینا سر میں تیل کی مالش کرنا اور رات کے پچھلے پہر کتنی کتنی دیر مصلّے پر پڑے رہنا۔

صبا کے آنے کہ بعد آنگن کے رنگ لوٹنے لگے تھے۔ ویران مُنڈیر پر موتیوں جیسی چمکتی دُھوپ پھر سے رقص کرنے لگی تھی ۔گھر میں ہر طرف امّاں کی خُوشبو محسوس ہوتی۔ کچھ دن وہاں رہنے اور محلے والوں سے خوب لاڈ اُٹھوانے کے بعد ہم واپس چلے آۓ اب کی بار صبا میرے ساتھ تھی اُداسی قدرے چین میں تھی اور دِل مطمئن ۔ اگلے دن جب میں گھر واپس آیا تو گھر میں قدم رکھتے ہی اسی نُور نے اور سکون نے میرا استقبال کیا جیسا چھ ماہ پہلے ڈاکٹر صاحب کے گھر داخلہ ہوتے ہی میں نے محسوس کیا۔ ایک عجیب سا احساس تھا جسے میں کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ صبا نے کھانا لگا دیا وہی ذائقہ وہی لذت زباں جس سے آشنا تھی دِل نے جس کی تمنا کی تھی۔ میں دِل ہی دِل میں شُکر ادا کرتا کھانا کھانے لگا۔ کھانے کہ بعد وہ چاۓ بنانے چلی گئی۔ صبا کچھ خاموش خاموش رہا کرتی میں اُسے کچھ وقت اور بہت محبت دینا چاہتا تھا۔ وہ میری امّاں کی پسند تھی۔چاۓ کا پہلا گھونٹ بھرتے ہی میں حیران رہ گیا ارے بالکل وہی ذائقہ وہی الائچی دار چاۓ صبا! لگتا ہے سب ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ سے سیکھا تم نے۔ میں کچن سمیٹ لُوں جلدی سے کہہ کر وہ باورچی خانے میں چلی گئی مُجھے لگا وہ رو رہی تھی ۔ میں اُس کا اور زیادہ خیال رکھنے لگا، اس کے آنے کے بعد میں بہت خوش اورمطمئن تھا ، ہم ویک اینڈ پر اکثر گھر سے بھی ہو آتے وہ ٹھنڈا پڑا چولہا آنگن میں خُوشبو بکھیرتا رنگوں سے بھرے آنگن میں امّاں کی مہک رچ جاتی گنگناہٹیں سنائی دینے لگتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک معاشرتی عنصر، میرے پاس تم ہو! - شیخ خالد زاہد

“گھر آیا میرا پردیسی پیاس بجھی میری اکھین کی”۔ چھٹی گزار کر ہم خوشی خوشی واپس آ جاتے۔ ڈاکٹر صاحب ابھی تک واپس نہیں آئے تھے۔ کئی بار فون بھی کیا بات نہیں ہو سکی صبا کی خالہ سے بات ہوئی یہی بتاتیں کہ ڈاکٹر صاحب بہت مصروف ہیں ۔ پھر پتہ چلا ڈاکٹر صاحب کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ بہت تلاش کیا مگر کہیں سے ان کا پتہ نہ چل سکا میں ان کے آبائی گھر بھی گیا لیکن وہ اُسے بیچ چکے تھے۔ زندگی ہار سنگھار کے پیڑ سے جھانکتے چاند جیسی تھی۔ بچے بڑے ہو گئے صبا میرا سُکھ چین تھی وہ میرے آنگن کی جوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی پھر کبھی خیر خبر نہ ملی ۔ آج اچانک کئی سال کے بعد ڈاک سے ملنے والی چِٹھی ان کی خبر لائی تھی ۔ صبا کی آنکھوں میں ر کے کھارے پانیوں کی خبر ۔ چِٹھی میں لپٹی تصویر میں صبا ڈاکٹر صاحب کی دُلہن بنی بیٹھی تھی کھانے کا ذائقہ چائے کی لذت سب یاد آنے لگا گھر میں بکھرا نُور مہکتا آنگن سب ویسا ہی تو تھا۔ کتنا انجان تھا میں ہی سمجھ نا پایا متاع حیات ہی لُٹا ڈالی ڈاکٹر صاحب نے ۔ بھلا کوئی ایسے بھی کرتا ہے ۔آگہی جان لیوا تھی آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے ۔ ڈاکٹر صاحب اولاد پیدا کرنے سے قاصر تھے اور اوپر سے کینسر جیسے مرض نے آن لیا۔ ان کے پاس چھ ماہ کا وقت باقی تھا۔ شادی کی تاریخ طے کرتے ہی ڈاکٹر صاحب کا اپنے آبائی گھر چلے جانا۔

صبا نے طلاق کے بعد کا وقت اپنی ساس کے گھر گزارا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے صبا کی شادی کی ۔ عظیم تھی وہ ماں جس نے بہو کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا۔ ڈاکٹر صاحب جانے سے پہلے معاشرے کہ بے رحم ہاتھوں کے سپرد کرنے کی بجاۓ اپنے ہاتھوں سے صبا کو مُجھے سونپ گئے تھے ۔ محبت اب نئی داستانیں مانگتی ہے ۔ زمانے کا یہی تقاضا ہے ۔ڈاکٹر صاحب محبت کی پہلی سچی داستان لَکھ گئے تھے ۔جانے سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے میرے نام لکھی چِٹھی میں سب تفصیل لَکھ کر صبا کو خوش رکھنے کی التجا کی تھی ۔ جسے مجھ تک پہنچنے میں زمانے لگے شاید یہی بہتر تھا ۔ صبا میرے لیئے رَبّ کی طرف سے انعام ہے میری امّاں کی دُعاؤں کا ثمر ۔میرے گھر کا نُور اللہ نے ہمیں نیک اور صالح اولاد سے نوازا ۔ وہ خالص اللہ کی رضا تھی اُسے اللہ نے میرے لیئے چنا تھا ۔ پہلی بار مری جاتے وقت میں بہت ناخوش تھا وہ میری زندگی کا بدترین سفر تھا۔ میں پگلا جانتا ہی نہیں تھا وہ سفر میری زندگی کا سب سے خُوبصورت تحفہ دینے والا تھا ۔ برسوں پہلے آدھی رات کو ہونے والے ریل کے حادثے میں کھو جانے والا ڈاک کا تھیلا جس میں میرے نام کی ایک چِٹھی بھی تھی اس پیارے انسان کا نامہ جو محبت کی انوکھی داستان لَکھ گیاتھا ۔چٹھی کی راکھ بہاتے ہوۓ میں نے عقیدت کے کئی آنسو اس پیارے انسان کی نظر کیئے
صبا کی آنکھوں جیسا کھارا پانی میری آنکھوں میں بھی ٹہر سا گیا ہے۔۔۔۔!