ہم مسلمان اور میلاد شریف کی محفلیں - سمرہ ملک

جیسا کہ ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی مسلمان میلاد شریف کی محفلیں سجاتے ہیں ۔ ۔ چند دن پہلے ہمارے جاننے والوں نے بھی محفلِ میلاد کا انعقاد کیا ۔ ۔ ہم بھی مدعو تھے۔ جہاں اللّٰہ اور اس کے محبوبﷺ کا ذکر ہو وہاں جانا تو باعثِ برکت ہوا کرتا ہے۔ لہذٰا جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کا ماحول کچھ یوں تھا ۔ ۔ کمرے کی دائیں جانب نعت خواں کے لیے میز لگائی گئی تھی اور زمین پر فلورکشنز لگا کر بیٹھنے کا انتظام تھا ۔

کچھ لوگ آچکے تھے , کچھ آرہے تھے ہر طرف گہماگہمی کا ماحول تھا ۔ سلام دعا اور میل میلاپ جاری تھا ۔ ۔ تقریباً پندرہ منٹ کے بعد نعت خواں نے درخواست کی کہ سب خاموشی کا اہتمام کریں ۔ ۔ مجفل کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ ۔ آغاز حمدِ باری تعالیٰ سے ہوا پھر نعت شریف پڑھ کر محبوبِ خدا کے اوصاف بیان کیے گئے۔ ایسے میں یکے بعد دیگرے لوگ آرہے تھے مگر وہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جانے پر اکتفا کیے بغیر ایک عالمِ شور برپا کیے ہوئے تھے ۔ ۔ پڑھنے والے نعت شریف پڑھ رہے ہیں مگر نئے آنے والے اپنے آپ میں مگن تھے۔ ۔ نئی آنے والی ہر خاتون پیچھے کی خواتین سے سلام دعا کرتیں پھر گھر والوں کا حال احوال دریافت کیا جاتا ایسے میں سرگوشیاں ہوتیں اور چند لمحوں بعد کمرے میں شور برپا ہوجاتا نعت خواں اور درس و تدریس کرنے والی خواتین کو بار بار انہیں ٹوکنا پڑتا کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور بعد میں ملاقات کریں اور محفل میں بخوبی شریک ہوں۔ ۔ اکثر و بیشتر یہی حال دیکھنے میں آتا ہے ۔ ۔ محفل خصوصی ربیع الاول میں رکھی جائے یا عام دنوں میں ۔ ۔ جشنِ عید میلادالنبی ہو یا روزمرہ کی جانےوالی نعت خوانی ۔ ۔ سکوت اور خاموشی کا پایا جانا کچھ مشکل ہی ہے ۔ ۔ (یوں تو کہا جاتا ہے جہاں چار عورتیں جمع ہوں وہاں خاموشی کا ہونا مشکل ہی ہے ۔ ۔ مگر میں پوچھتی ہوں کیا سمجھ بوجھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ؟

یہ بھی پڑھیں:   جشن یا مشن؟ - خواجہ فہد اقبال

کیا ہم سب کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم کہاں ؟ کس لیے؟ اور کیوں جارہے ہیں ؟ جب ہمیں اس بات کا علم ہے ! تو پھر کیوں ہم اپنی زندگیوں میں اپنے ہی ہاتھوں سے بے برکتی ڈالنے کا سبب بنتے ہیں ؟ کیوں پھر ہم الله تعالیٰ سے شکوے کرتے پائے جاتے ہیں؟) کیا ان جیسی تمام خواتین کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ وہ اس محفل میں رسول ﷺ کی تعریف بیان کرنے کے لیے تشریف فرما ہیں؟ انہیں خبر نہیں کہ وہ ان کی بات کرنے آئے ہیں ان کی سننے اور ایک عہد کرنے کہ جو وہ ﷺ کا فرمان سنیں گے اس پر عمل کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ تو پھر کیوں؟ آخر کیوں وہ ایسے اعمال کرتی ہیں ا س با برکت ماحول سے کچھ فائدہ نہیں لے پاتیں؟ ایمان اور عمل تو سب کا اپنا ہی ہے اور سب اپنے حصے کی جوابدہی کریں گے ۔ ۔ مگر تہذیب کے بھی تو کچھ تقاضے ہیں؟ یوں کوئی خبر چلے تو خود کو عاشقان رسول ﷺ کہہ کر ہم مارنے مرنے پر اترآتے ہیں ؟ ان کے خلاف نہیں سن سکتے ۔ ۔ مگر ہم نے انکی سننا بھی کب سیکھا ہے ۔ ۔ ؟ کیا ہم انکی سنتے ہیں , انکی سن کر مانتے ہیں, ہ مارے اعمال انکی تعلیمات کے مطابق ہیں ؟اگر نہیں تو پھر کس حق سے ہم خود کو عاشق کہیں؟ ہم روز محشر کیا جواب دینگے ؟ ہم نے خود تو عمل نا کیا مگر تبلیغ کردی حالانکہ آپکی تعلیمات تھیں کہ پہلے عمل پھر تبلیغ ۔ ۔ مگر ہم تو ایسے لوگوں میں سے ہوئے جہاں سب اپنی غلطیاں پس پشت ڈال کر کہتے ہیں زمانہ خراب ہے ۔ ۔ !

"عشق کا تقاضا تو عزت و احترام ہے , ادب و تہذیب ہے ۔ ۔ " ایسا کوئی بھی عمل بے ادبی نہیں تو اور کیا ہے؟ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام لیا جارہا ہو تو آپ اپنی باتوں میں مشغول ہوں ۔۔
پھر محفل میلاد میں شامل ہونے کا ہی کیا فائدہ ۔ ۔ یہ شرم کی بات ہی تو ہے کہ آپکو احساس دلایا جائے آپ کہاں موجود ہیں ۔ ۔ اگر حاضر ہیں تو آداب کیا ہیں ۔ ۔
ہاں ٹھیک ہے کہ حال احوال دریافت کرنا اخلاقی فرض ہے لیکن یہی کام اختتام پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یا ضروری تو نہیں ہے کہ آپ جس وقت تشریف لائیں تب ہی سب سے بات چیت کریں ۔ ۔
ایسا بھی تو ہو سکتا کہ جو جب آرہا ہے وہ آکر خاموشی سے شریک ہوجائے اور موقع محل دیکھ کر چند ایک سے سلام دعا کا تبادلہ کرلے ۔ ۔ بے ادبی کرنے سے برکت تو آپکے حصے میں آ نا سکے گی اور ساتھ ہی یہ بدقسمتی بھی ہوگی کہ آپ وہاں ہونے کے باوجود کچھ سیکھ کر نا جائیں۔ ۔ اس مسئلے کا آسان سا حل کیا جاسکتا ہے۔ ۔ بہت ہی سادہ بات ہےکہ جب بھی آپ کسی ایسی محفل میں شریک ہوں جہاں اللہ اور اس کے نبی کا ذکر ہو تو ادب و احترام کا مظاہرہ کریں اور ماحول کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے . اپنے لیے برکتیں سمیٹنے کا سامان کریں اور اللہ کے ہاں اس کے بہترین بندوں میں شمار ہوجائیں ۔۔ الله پاک ہم سب کو بے حرمتی و بےادبی کرنے سے بچائیں اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا کریں۔ ۔ آمین۔