جہالت کے اندھیرے - نیلم اسلم

یہ کیسی تعلیم ہے جو شعور نہیں دے سکی؟ یہ کیسا علم ہے جس سے آگہی نہیں آسکی؟ یہ کس قسم کے تعلیمی مراکز ہیں جہاں طلبہ کو اُردو ادب تو پڑھایا جاتا ہے۔ جہاں انگریزی ادب کی تو بہت سی کتابیں ہیں، لیکن جہاں حقیقی ادب کا تصور نہیں۔ جہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ استاذ کا احترام کیا ہے؟ جہاں اس پر ایک باب، ایک لیکچر شامل نہیں۔ کسی نے درست ہی کہا کہ آدمی بننا تو آسان ہے لیکن انسان بننا بہت مشکل۔ بدقسمتی کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے آدمی تو نکل رہے ہیں، انسان نہیں۔

مجھے تو بچپن سے ایک ہی بات معلوم ہے کہ آپ کے والدین کو آپ کو عرش سے فرش پر لاتے ہیں اور اساتذہ فرش سے عرش تک پہنچاتے ہیں۔ ہمیں یہی بتایا گیا کہ استاذ پتھروں سے ہیرا تراشتے ہیں۔ استاذ چشم بصارت کو نگاہِ بصیرت عطا کرتے ہیں۔ اوراستاذ ایک ایسی ہستی جس کی کوشش ہوتی ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے، اسے اپنے شاگرد کی جھولی میں ڈال لوں۔ بخل سے بھری دنیا میں کیا اس سے بڑھ کر کوئی جذبہ ہوسکتا ہے؟ ایسا سخی آپ کو کسی فیلڈ میں مل سکتا ہے؟

مگر کیا کریں ان لوگوں کا بھی جو کہتے ہیں ایسی باتیں نہ کریں، اب تو وہ استاذہی نہیں رہے۔ استاذ آج بھی وہی ہیں۔ ان کے انداز میں کچھ تبدیلی ضرور آسکتی ہے، وہی تبدیلی جو معاشرے کے ہر طبقے اور ہرفرد میں ہے۔ مگر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آج جتنے کامیاب لوگ ہیں، ان کی کامیابی کی پشت پر یہی اساتذہ ہی ہیں۔ حضرت علیؓ کا قول یاد آرہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا، میرا آقا بن گیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اساتذہ اس سے بھی گئے گزرے ہیں؟ کیا وہ اپنے اسٹوڈنٹس کو ایک لفظ بھی نہیں سکھا پاتے؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں۔ یہی بات تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یہیں سے جہالت شروع ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عزیز ہم وطنو ، مر جاؤ-آصف محمود

ملتان میں ہمارے محترم استاذ پروفیسر اعجاز صاحب کے ساتھ جو ہوا، اس پر دل خون کے آنسو رورہا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ آج کل کے دور میں انہوں نے اپنی فیمیل اسٹوڈنٹس کو بیٹیاں سمجھا۔ ان کے فنکشن میں جانے کی جب چند اوباش لڑکوں نے کوشش کی تو وہ چٹان بن کر ان کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ انہیں بھلا اس سے کیا غرض ہوسکتی تھی؟ بس صرف یہی کہ وہ ایک عزت دار استاذ تھے۔ عزت کا مطلب سمجھتے تھے۔ ورنہ آج کل پرائی عزت کے لیے کون کھڑا ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی بے حرمتی ہوجاتی، انہیں بے آبرو کردیا جاتا ہے اور زمانہ تماش بین بنا کھڑا رہتا ہے۔

پروفیسر اعجاز نے معاشرے کے ڈگر سے ہٹ کر کیا۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا۔ وہ تعلیم کی شمع جلانے والا، دیے سے دیا جلانے والا۔ وہ خدا کا سپاہی تھا۔ اس نے کسی اوباش کو اپنی فیمیل اسٹوڈنٹس کے فنکشن میں جانے نہیں دیا۔ بس یہی قصور کافی تھا کہ زمینی خداؤں نے اپنے راستے میں کھڑی اس علم کی دیوار کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ پھر سب نے دیکھا کہ پروفیسر اعجاز پر ان کے جہالت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ میڈیا پر خبر چلی۔ خوب تماشا ہوا۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے نوٹس لیا۔ پولیس نے اتنی پھرتی دکھائی کہ کارروائی تو کیا کرنی تھی، دونوں پارٹیز کی صلح کروادی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ اس کیس میں صلح کیسے ہوسکتی ہے؟ کیا ہم اتنے بے حس ہیں کہ ہم اپنے کسی استاذ کی بے حرمتی کو آسانی سے معاف کردیں گے؟ ہم کوئی مثال قائم نہیں کریں گے؟ ہم اسے ٹیسٹ کیس نہیں بنائیں گے؟

پروفیسر اعجاز کا کیرئیر داؤ پر لگ گیا ہے۔ ان کی فیملی کرب میں مبتلا ہے۔ ان کی ویڈیو وائرل ہے۔ لوگ ان سے اس تذلیل پر سوال کررہے ہیں۔ ان کو سمجھایا جارہا ہوگا یقینا کہ تمہیں کیا ضرورت تھی پرائے جھگڑوں میں پڑنے کی؟ تم جانے دیتے ان لڑکوں کو۔ ان اوباشوں کو کرنے دینا تھا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ کیا یہ سوچنا مشکل ہے کہ اس وقت انہیں کس قسم کے مشورے دیے جارہے ہوں گے؟ وہ کیسے جملوں کا سامنا کررہے ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   وہ ہورہا ہے جو نہیں لکھا کتاب میں - ماہین خان

ہم اچھائی کی اور اچھے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں ماہر قوم ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں جو کسی اور کے لیے قربانی دیں۔ جو کسی اور کے حق کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم ایسے لوگوں کو جذباتی سمجھتے ہیں۔ پر مجھے فخر ہے پروفیسر اعجاز پر۔ آپ کو بھی فخر کرنا چاہیے ایک ایسے استاذ پر۔ آئیے ہم ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ موم بتی مافیا سے بھی گزارش ہے کہ پروفیسر اعجاز کے حق میں بھی ایک چھوٹی سہی، مگر ریلی ضرور نکالے۔ کالج انتظامیہ کو چاہیے کہ انہیں بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازیں۔

جاتے جاتے ایک واقعہ ضرور آپ کو سنانا چاہتی ہوں۔ ڈرامہ نگار، افسانہ نگار اشفاق احمد نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ اٹلی میں رہائش کے دوران انہیں کوئی جرمانہ ہوا، بروقت ادا نہ کرسکے تو مجسٹریٹ کے سامنے جانا پڑگیا۔ جج نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے تاخیر کیوں کردی؟ تو اشفاق صاحب نے بتایا کہ میں ایک استاذ ہوں اور کچھ مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ یہ سنتے ہی جج اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: عدالت میں استاذ تشریف لائے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ عدالت میں موجود ہر شخص اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اشفاق صاحب نے لکھا کہ اس دن مجھے معلوم ہوا اس قوم کی ترقی کا راز۔

کاش ہم بھی ترقی کا یہ راز سمجھ جائیں!