آمریت سے بغاوت کرنے والوں کو سلام - ایم سرورصدیقی

پاکستان کی65سالہ سیاسی تاریخ میں صرف تین کردار ایسے ہیں جنہوں نے آمریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریزہونے سے انکارکردیا تھا ورنہ کوئی اسلام کے نام پر حکومت کا حصہ بن گیا۔۔۔تو کسی نے جمہوریت کوفروغ دینے کے چکرمیں وزارتیں قبول کرلیں۔یا۔کوئی مفاہمتی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا لیکن جھنڈے والی گاڑی ہی مقصود ِ آرزو تھا۔

آمریت کو للکارنے والے ان تین سیاستدانوں فضل حسین راہی ،غلام حیدر وائیں اور مخدوم جا وید ہاشمی کو آج بھی جمہوریت کی آبرو کہا جا سکتاہے جب بھی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ڈکٹیٹروںسے مفاہمت کے نام پر مل مکا کرنے والوںکا تذکرہ ہوگا وہاں یقینا ان تینوں سیاستدانوں کو لوگ عقیدت سے سیلوٹ بھی کریں گے ۔

مفاہمت نہ سیکھا جبرِ ناروا سے مجھے

سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے فضل حسین راہی کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے تھا وہ جھنگ بازار کے قریب قلفہ بیچا کرتے تھے ذہین ، فطین ۔۔۔بہترین شاعر اور اس سے بڑھ کر ایک اچھے انسان ۔۔ان کا بنیادی طورپر تعلق پیپلز پارٹی سے تھاوہ فیصل آبادکے ایک بے تاج بادشاہ کو شکست دے کر کونسلر منتخب ہوئے پھر انہوںنے غیر جماعتی عام انتخابات میں بڑے مارجنMPA منتخب ہوکر سیاسی بزرجمہروں کو چونکا دیا فضل حسین راہی کی شہرت کا سبب دو باتیں بنیں غالبا ً وہ پنجاب اسمبلی کے پہلے ممبر تھے جنہوں نے اپنی مادری زبان پنجابی کے حق کیلئے اسمبلی فلورپر آواز بلندکی دوسرا جب صدر ضیا ء الحق مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کیلئے آئے تو یہ فضل حسین راہی ہی تھے۔

جنہوں نے ایک ڈکٹیٹرکو اس کے منہ پر للکارتے ہوئے کہا تھا ’’تمہاری وردی سے مجھے بھٹو کے خون کی بو آرہی ہے ــ‘‘ شنیدہے اس اجلاس کے بعد فضل حسین راہی کو بدترین تشددکا نشانہ بنایا گیا۔۔۔لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں خودکو جمہوریت کی علمبردار بلکہ چمپئن سمجھنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے فضل حسین راہی کو ٹکٹ تک نہ دیا جمہوریت اور سیاست کیلئے قربانیاں دینے والوں کا شاید یہی انجام ہوتاہے ۔پنجاب کے سابق وزیر ِ اعلیٰ مرحوم غلام حیدروائیں نے بلدیاتی سیاست سے اپنی عملی زندگی کاآغاز کیا آپ میاں چنوں کے پہلے وائس چیئر مین منتخب ہوئے ان کا تعلق بھی ایک غریب خاندان سے تھا کونسلر۔۔وزیر۔۔قومی اسمبلی میں قائد حزب ِ اختلاف اور وزیر ِ اعلیٰ پنجاب تک کے سفر میں انہوںنے کئی اچھی مثالیں قائم کیں انکا اپنا ذاتی مکان تک نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ دفاعی نہیں تباہی کے اسباب ہیں - حبیب الرحمن

ان کی بیوہ محترمہ مجیدہ وائیں دو بار ایم این اے بننے کے باوجودآج بھی اپنے والدین کے مکان میں رہائش پذیرہیں۔۔جب صدر ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو یک جنبش قلم ختم کیا تو غلام حیدر وائیں نے اس اقدام کو پسند نہ کیا ۔۔ان کو پنجاب کی وزارت ِ اعلیٰ کی پیش کش کی کئی لیکن انہوںنے انکار کردیا لوگ چھوٹے چھوٹے عہدوںکیلئے ہر قسم کی اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں لیکن غلام حیدر وائیںنے یہ پیشکش قبول نہ کی بعدازاں انہیں میاں نواز شریف نے عام انتخابات کے انعقاد کیلئے نگران وزیر ِ اعلیٰ بنوایاپاکستان میں غلام حیدر وائیں جیسے ایک عام اور غریب آدمی کا سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیر ِ اعلیٰ بننا پہلی اور شایدآخری مثال ہے ۔

ساری زندگی ایک بھی الیکشن نہ ہارنے والا کرائے کے قاتلوںکے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارگیا سیاست اور جمہوریت کیلئے غلام حیدر وائیں کی بہت سی خدمات ہیںمسلم لیگ ن کوقریہ قریہ گائوں ،گائوں منظم ،فعال اور متحرک کرنے کیلئے پرائمری سطح تک تنظیم سازی مرحوم کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔۔۔۔ڈکٹیٹرکے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر استقامت سے ڈٹ جانے والی تیسری شخصیت مخدوم جا وید ہاشمی کو کون نہیں جانتا۔ پرویز مشرف کی چھتری تلے قائم ہونے والی ق لیگ کے دو ر ِ حکومت میں مخدوم جا وید ہاشمی کو غداری کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا اور ’’بغاوت ‘‘ کے الزام میں کئی سال قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں۔

لیکن انہوں نے آمریت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جیل کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی کی لکھی کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ نے بہت شہرت حاصل کی ۔دل کو یقین ہے ایک نہ ایک دن یقینا جمہوریت کی سربلندی کیلئے ان کی قربانیوںکو سنہری حروف سے لکھا جائے گاگذشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے جب زرداری گورنمنٹ میں وزارتیں لینے کا فیصلہ کیا تو مخدوم جا وید ہاشمی واحد سیاستدان تھے جنہوںنے کسی بھی اندازمیں جنرل پرویز مشرف سے حلف لینے سے انکار کردیا اور اصولوں کی خاطروفاقی وزیر بننا قبول نہ کیاآج کی حکمران جماعت کے کئی رہنمائوںنے بازوئوںپر سیاہ پٹی باندھ کرپرویزمشرف سے حلف لے لیا جو آج روز مشرف کے خلاف بیان داغ رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا سے نمٹنے کیلیے چین نے کیا کیا - محمد سلیم

سچی بات یہ ہے کہ وقت گذرجاتاہے لیکن کردار زندہ ہمیشہ رہتاہے یہ کردار ہی ہے جو مستقبل میں لوگوںکی رہنمائی کرتاہے اسی سے مؤرخ فیصلہ کرتے ہیں کس نے کیا فائدہ لیا۔ اور۔قربانیاں دینے والے کون ہیں؟ ۔۔۔ اپنی گراںقدر خدمات سے نئی تاریخ لکھنے اور تاریخ پر احسان رقم کرنے والوںکی چرچا کرنا ہم سب پر فرض ہے آمریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریزہونے سے انکار جرأت کا بہت بڑا اظہارہے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کیلئے انتہائی ضروری ہے ان تمام سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں ، ججز یا دیگر شخصیات جنہوں نے ماضی میں آمریت کے خلاف مزاحمت کی،قربانیاں دیں قیدو بند کی مشکلات سے دو چارہوئے ۔

ان سب کو ہر قسم کے تعصبات اور امتیازسے بالاترہوکر ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے اوران کو مراعات،اعزازات اور تمغہ ٔ جمہوریت سے نوازا جائے حکومتی سطح پر ایسا کرنے سے لوگوںکو جمہوریت سے دلی لگائو محسوس ہوگا اس اقدام سے جمہوریت مزید مضبوط ہوگی ۔۔ جس کسی نے بھی ڈکٹیٹروںکے سامنے ڈٹ کر جمہوریت کی بات کی، قربانیاں دی ہیں انہیں قومی ہیروقراردیا جائے۔۔ایک اوربات آمریت کا مقابلہ کرنے والوںکی خدمات کو عام آدمی تک اجاگرکیا جائے اس کیلئے ایک قومی ادارے کے قیام ناگزیرہے ۔۔۔اور آخری بات فضل حسین راہی ،غلام حیدر وائیں اور مخدوم جا وید ہاشمی کی تصاویر پاکستان کی پانچوں صوبائی اسمبلیوں،پارلیمنٹ اور سینٹ بھی آویزاں کی جائیں۔

وقت کا تقاضاہے کہ جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والوں کو خراج ِ تحسین پیش کیا جائے یہ بات آنے والوںکیلئے مشعل ِ راہ ثابت ہوگی آئیے ہم سب آمریت سے بغاوت کرنے والے باغیوںکو عقیدت سے سلام پیش کریں۔

اپنی جاں نذرکروں اپنی وفا پیش کروں

قوم کے مرد ِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں