سکھ ہندوؤں کے بعد اب بدھ مت کی ترویج - محمد عاصم حفیظ

سکھوں کے لئے کرتارپور گوردوارے کی تعمیر ۔ ہندوؤں کے لئے شاردہ کوریڈور اور 400 مندروں کی بحالی کے منصوبے کے بعد اب تھائی لینڈ کوریا و دیگر ممالک سے بدھ مت بھکشوؤں کے وفود پاکستان پہنچ رہے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے ان وفود سے خصوصی ملاقاتیں کی ہیں۔ انہیں سرکاری پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ پشاور گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں ان کےلئے خصوصی انتظامات کئے گئے۔اعلی ترین حکام ان کی خدمت کے لئے وقف ہیں، سکیورٹی مہیا کی گئی ہے اور پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں اور خصوصاً شمالی علاقہ جات میں بدھ مذہب کے آثار قدیمہ اور پیشواؤں کی مورتیاں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان نے مہاتما بدھ کی مورتی کو سوئٹزرلینڈ،کوریا اور سری لنکا میں نمائش کے لیے پیش کیا تھا ۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق 348بعدازمسیح میں جنوبی کوریا میں بدھ مذہب کو متعارف کروانے والے راہب کا تعلق پاکستان صوابی سے تھا۔ وزیراعظم عمران نےبدھ وفد سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان سکھ ہندو اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی بحالی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کر رہا ہے کرتاپور گوردوارے کی تعمیر بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔پاکستان تہذیبوں کا گہوارہ ہے ، جس سے اس نے تین بڑے مذاہب ، بدھ مت ، سکھ اور ہندو مت کے پیروکاروں کی عقیدت کے مقامات موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے بودھی ورثے پر فخر ہے اور ان کی حکومت سیاحت خصوصا مذہبی سیاحت کے فروغ پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوریا کیساتھ بدھ تاریخی مقامات کے تحفظ اور فروغ کے لئے باہمی تعاون کو بڑھانا ہوگا۔ بدھ مذہب کے سب سے بڑے فرقے جوگے آرڈر کے صدر موسٹ وینی ایبل وان ہینگ نے بدھ مت کے مذہبی ورثے کے تحفظ و بحالی کے لئے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے جمہوریہ کوریا میں پاکستان کے بدھ ورثے کو فروغ دینے اور مزید مذہبی زائرین کو پاکستان آنے کی ترغیب دینے کے لئے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایسا لگ رہا کہ ایک پالیسی کے تحت ملک میں دیگر ممالک کے مذہبی مقامات کی تعمیر و بحالی کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ اس سے معاشی سرگرمیاں منسلک کی جا رہی ہیں تاکہ اس کی اہمیت کو بڑھا دیا جائے اور سوسائٹی تسلیم کرے ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ایک طرف حکومت معاشی بدحالی کا رونہ روتی ہے ۔ صحت ، تعلیم ، سکالرشپس ، معذور افراد ، مفت ادویات سمیت کئی منصوبے ختم کر دئیے گئے ہیں ۔ کچھ عرصے سے کوئی بھی عوامی فلاح و بہبود کا ایک بھی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا لیکن کرتارپور ، ہندو مندر اور بدھ مت کی خاطر اربوں کے خرچے کئے جا رہے ہیں ۔ ان وفود کی رسائی وزیر اعظم ہاوس اور اعلی ترین حکام تک ہے ۔ کیا عوامی وسائل اور ٹیکسوں کی رقم صرف اقلیتی عبادگاہوں کے لئے ہی استعمال ہو سکتی ہے ؟؟ کیونکہ پاکستان میں اسلامی تعلیم و تدریس ، مساجد و مدارس کی تعمیر ، انتظام و انصرام سمیت تمام تر مذہبی سرگرمیاں پرائیوٹ طور پر سرانجام پاتی ہیں ۔ حکومت نے کبھی کسی بھی سرگرمی کے لئے فنڈز تو دور کی بات سہولت فراہم نہیں کی ۔ حتی کہ حج کے لئے معمولی سبسٹڈی تک کو ختم کر دیا گیا تھا ۔

حکومت نے سرکاری خرچے سے کبھی کوئی مسجد و مدرسہ بھی تعمیر نہیں کرایا؟ دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بڑی مسجد بھی سعودی عرب کا تحفہ ہے ۔ بحریہ ٹاون نے مساجد بنائی ہیں ۔ لیکن حکومت نے کبھی کوئی خرچہ نہیں کیا ۔ کوئی ایسا فنڈ موجود نہیں جو کہ مستقل مساجد و مدارس کو ملتا ہو ۔ صرف ایک مثال موجود ہے کہ مولانا سمیع الحق کے مدرسہ کو فنڈز ملے تھے جن کے مقاصد سیاسی حمایت تھے نہ کہ دینی تعلیم و تبلیغ کا فروغ ۔ کوئی بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں عبادت کی آزادی و سہولیات پر اعتراض نہیں کرتا لیکن ایک ریاستی پالیسی کے تحت ملک کی ایک خاص پہچان بنا دینا اتنا بھی مناسب نہیں ۔ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال اور وزیر اعظم اور وزیر اعلی تک کی ملاقاتیں کیا پیغام دے رہی ہیں؟؟ ۔ معاشی مقاصد کی خاطر کیا سب کچھ ہی داو پر لگا دیا جائے گا ۔ کیا ملک کی پہچان تک بدل دی جائے گی ۔ کیا اب ارض پاکستان کی پہچان دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ ، شاردہ کوریڈور نئے 400 مندر اور بدھ مت کی نو تعمیر شدہ عبادگاہیں ہوں گی کیونکہ شائد ہی کوئی اور ملک اس حوالے سے اتنا خرچہ کر رہا ہو ؟ نئی مورتیاں اور نئے بھگوان نصب ہوں گے، مندروں کے لئے پنڈت رکھے جائیں گے۔ کیونکہ ہمیں تو یہ یہی بتایا گیااور پڑھایا گیا کہ " پاکستان کا مطلب کیا ۔۔ لا الہ الا اللہ " اور باقاعدہ حکومتی پالیسی کے تحت پروموٹ کرکے سکھ ، ہندو اور بدھ مت کی عبادگاہوں کی تعمیر و بحالی ، نئے مورتیوں کی تنصیب اور بہت کچھ ۔

معاشرتی طور پر پرائیوٹ انداز میں یہ سب ہونا شائد اتنا محسوس نہ کیا جاتا لیکن حکومتی پالیسی، سرکاری سرپرستی اور عوامی وسائل و خزانے کا بے دریغ استعمال کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ ایک اور اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ بدھ مت ، ہندو عبادگاہیں ایسے علاقوں میں ہیں جو کہ نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے بھی اہم اور دور دراز قدرے پسماندہ علاقے ہیں۔ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر غیر مسلم معاشی سرگرمیاں کیا دیگر مسائل کو جنم دے سکتی ہیں ۔ اگر یہاں کے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ مذہب تبدیل کرنے لگے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟؟ یقینا ایسے واقعات ہوں گے ۔ اگر کسی کو اس بارے کوئی شک و شبہ ہے تو وہ سندھ کے صحرائی علاقوں ، چولستان ، تھر وغیرہ میں کرسچن مشنری اور قادیانی تبلیغی نیٹ ورک کے بارے معلومات لے تو پتہ چلے گا کہ ایک قابل ذکر تعداد میں انتہائی غریب اور متوسط طبقے کے گھرانے اپنا مذہب تبدیل کر چکے ہیں ۔ کیا سنجیدہ حلقوں کو اس بارے غور نہیں کرنا چاہیے ؟؟ کیا دولت کی فراوانی اور معاشی سرگرمیاں یہاں کے لوگوں کو متاثر نہیں کریں گی ؟ تعلقات بنیں گے اور کئی طرح کے مسائل پیدا ہوں گے ۔ جیسا کہ چینی باشندوں کی شادیوں کے حوالے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بارے ایک مربوط پالیسی بنائے اور اس معاملے کو انتہائی حکمت و سنجیدگی سے دیکھے نہ کہ صرف معاشی مقاصدکی خاطر باقی سب پہلو نظر انداز ہی کر دیے جائیں جن سے مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔