ترکی کی حاکمیت کی بے حرمتی ہر گز قابل قبول نہیں، وزیر خارجہ

امریکہ ہو یا پھر کوئی دوسرا ملک ہم ڈپلومیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاملات کو نمٹانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے متحدہ امریکہ سے ایس۔400 میزائل نظام کے حوالے سے ہونے والی ملاقات میں واضح کیا ہے کہ ترکی ہر معاملے پر مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے تا ہم ، کسی بھی جبری فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ چاوش اولو جی۔20 وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے دورہ جاپان کے دوران مختلف مذاکرات کر رہے ہیں۔ ناگویا میں اخباری نمائندوں کو اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے ترک وزیر نے بتایا کہ انہوں نے ایس ۔ 400 کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ترکی کے اس ضمن میں موقف کو دہرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی بھی ملک ہی کیوں نہ ہو، ہم ہماری حاکمیت کا احترام کرنے کی بنیاد پر ہر معاملے پر مذاکرات کر سکتے ہیں۔ ہم امریکہ ہو یا پھر کوئی دوسرا ملک ڈپلومیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاملات کو نمٹانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ تا ہم ، ہم کسی بھی زبردستی کو قبول نہیں کر سکتے۔ چاوش اولو نے 3 تا 4 دسمبر لندن میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے حوالے سے ترکی کے ایجنڈے کو دریافت کیے جانے کے جواب میں بتایا کہ نیٹو کی وسعت اور نئے خطرات کے پیش نظر تنظیم کو مزید مستحکم کیے جانے کی ضرورت پر مبنی معاملات میں ترکی اپنے نقطہ نظر کو زیرِ لب لائے گا۔

جاپان کے ساتھ مشترکہ تجارتی معاہدے طے پانے کی توضیح کرنے والے وزیر ِ خارجہ نے بتایا کہ ترک شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس لینے کے لیے اب ترکی آنا لازمی نہیں ہو گا ، یہ جاپان میں رہتے ہوئے بھی اس کو حاصل کر سکیں گے۔