سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

پرسکون زندگی میں سب سے اہم کردار گھر کے افراد کا ہوتا ہے۔ نہ جانے کس نے کہا تھا کہ اُس کو شادی کے بعد حقیقی خوشی نہیں ملی، پھر اس نے دوسری اور پھر تیسری شادی کی۔ شاید گھر کے ماحول کی وجہ سے اُس کے لفظوں میں تلخی زیادہ شیرینی کم ہو، لیکن ماہرین متفق ہیں کہ حقیقی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔

مشرقی ماحول میں مشترکہ خاندانی نظام نے کئی خامیوں کو چھپانے میں مدد کی ہے لیکن مغربی نظام میں پلنے بڑھنے والوں کو اپنے بڑوں کی قربت کا کم میسر آنا کئی نفسیاتی الجھنوں کا سبب بن جاتا ہے۔عموماََ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی کے شہرت کے حساب سے اُس سے توقعات بھی بہت بڑھ جاتی ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے افراد کے تعلقات تو ہوتے ہیں لیکن اس کی مختلف مدارج ہوتے ہیں۔اگر سامنے والا صرف یہ کہہ دے کہ میرے تعلقات تو ہیں لیکن اس نہج کے نہیں ہیں جیسا آپ سمجھتے ہیں تو شاید اس کا یقین کرنا مشکل ہو۔

ماحول ہمیں کچھ سیکھنے، سمجھنے اور جاننے کے موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنا سیاسی ماحول دیکھیں تو یہ عمل بڑا مقفود نظر آتا ہے۔ ہم میں کچھ پوچھنے کی ہمت بہت کم پائی جاتی ہے۔ میں اب یہ پوچھنا چاہوں کہ فضل الرحمن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کیا اور دو ہفتے بعد واپس چلے گئے تو اس سے انہیں کیا حاصل ہوا، تو میں یہ بات نہیں پوچھ سکتا کیونکہ مجھے بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، ان کی تقاریر کے اقتباس دینے کا موقع نہیں ہے اس لئے میں سوال زنبیل میں ڈال لیتا ہوں۔ ابھی یہ پلان ”اے“ کا اختتام ہو کر بلان ”بی“ شروع ہوا تھا کہ اس کی حکمت عملی نے مجھے چونکا دیا، کیونکہ یہ سب موجودہ ملکی حالات میں ناممکن سا تھا۔

اس لئے پلان ”بی“ جیسا شروع ہوا، ویسا ختم ہوگیا۔ اب پلان ”سی“ میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ مجھے یہ ان سب کو پوچھنا تھا اور اپنے قریبی احباب سے اس پر بات کرنا تھی، لیکن جانتا ہوں کہ بحث بے مصرف ہے۔ نہ جانے فضل الرحمن کو اسلام آباد سے کیا ملا ہے کہ انہوں نے گیڈر سنکھی کی طرح اُس کو چھپا رکھا ہے۔ چلیں میرا تعلق تو کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، کچھ احباب کی ناراضیوں کی وجہ سے بھی مروت سے کام لے لیتا ہوں۔

مجھے ایک کہاوت نہ جانے کیوں یاد آگئی کہ جب تک آپ میں سوال و جستجو کا مادہ نہ ہو تو بھیڑ چال پر چلتے رہیں گے۔ یہ کہاوت شاید آج کے حالات پر موافق آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں کسی غریب بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن اہل علم سے تعلیم کا حصول اس کو مالی وسائل کی وجہ سے اجازت نہیں دیتا تھا۔ پھر اُس نے اپنیگاؤں میں شاندار گھوڑے پر سوار، اچھے لباس کے ساتھ ایک شخص کو معروف شخصیت کے گھر جاتے دیکھا، روزانہ آنے جانے کے ماحول سے جلد علم ہوگیا کہ دولت مند نے اپنے بچے کے لئے ایک معروف و صاحب علم کی خدمات حاصل کی ہیں۔

اب اس غریب بچے کی اتنی استطاعت نہیں تھی، اس لئے وہ روز گھر کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا اور عالم کو گھوڑے کی سواری پر جاتے دیکھتا۔ ایک دن عالم نے پوچھ لیا کہ صاحب زادے کیا وجہ ہے کہ مجھے یوں روز دیکھتے ہوں، طالب علم نے اپنا مقصد شوق بیان کیا۔ آنکھوں میں طلب علم کی چمک تھی۔ عالم نے کہا کہ میں تو صبح تا شام مصروف ہوتا ہوں، میرے لئے تو ممکن نہیں کہ تمھیں وقت دے سکوں، بچے نے کہا کہ حضرت، آپ یہاں سے جتنا سفر گھوڑے پر سوار ہو کر کرتے ہیں۔ میں اس دوران چلتے چلتے آپ سے سوالات پوچھ لیا کرونگا۔ عالم رضا مند ہوگئے۔

اگلے دن طالب علم اچھی طرح تیار ہو کر جب عالم کے ساتھ چلا تو اُس کے پاس اتنے سوالات تھے کہ بارہ میل کے سفر کے دورا ن ختم ہی نہیں ہوئے۔ یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ کئی برسوں تک یہ سلسلہ جاری رہا اور سولات ختم نہ ہوسکے۔ اس طالب علم کو دنیا آج امام غزالی ؒ کے نام سے جانتی ہے۔ہمارے علما اور اساتذہ بھی صاحب علم ہیں، ہمیں بھی اُن سے سوال کرنے کی ہمت ہونے چاہیے کہ ایسا کیا ملا کہ اے بی سی ڈی شروع کردی ہے۔کبھی کبھار نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ کسی مچھیرے کے پاس شکار کی ہوئی مچھلیاں و کیکڑیہیں، جنہیں وہ ا الگ الگ رکھتا ہے۔ مچھلیوں کو ڈرم میں بند کرتا ہے اور کیکڑے کو ڈرم میں آزاد رکھ کر اُس پر ڈھکن نہیں رکھتا۔

شاید وہ جانتا ہے کہ مچھلی میں تڑپ ہے وہ اچھل کود کرکے آزاد ہونے کی کوشش کرنا چاہتی لیکن اس کے نکلنے کے راستے روک دیئے گئے ہیں، لیکن کیکڑے کو اس لئے آزاد رکھا کیونکہ جب بھی کوئی کیکڑا اسیری سے باہر نکلنا لگتا ہے تو دوسرا کیکڑا اس کے ٹانگیں کھینچ لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکل پاتا۔ شاید ہماری سیاست کا بھی یہی حال ہوگیا ہے کہ ہم رونما ہونے والے واقعات و حالات پر اگر اچھل کود کریں تو ہمیں کنوئیں کا بیل بنا کر آنکھوں پر پٹی باندھ جاتی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ”نازک دور“ سے نکل رہے ہیں اور بس ترقی کی جانب بڑھتے جا رہے ہیں۔

شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں وہ سکھایا جائے جو ہم سیکھ نہیں سکتے۔جیسے ہمارے اداروں، سیاسی جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مچھلی کو درخت پر چڑھانے سیکھایا جائے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے۔۔مچھلی کو پانی سے باہر نکالیں تو وہ مَر جائے گی۔ اخلاق و کردار ہی ایک انسان کی خصلت کو بناتا ہے۔ہمیں سوال پوچھنے چاہیں کہ یہ سب کچھ پہلے ہوتا رہا اب وہی کچھ دوبارہ کیوں ہورہا ہے۔ اگر آپ کچھ پوچھیں گے نہیں تو بھیڑ چال میں چلتے چلتے اپنی چال بھی بھول جائیں گے۔

ہم اور ارباب و اختیار کو یہ ضروریاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ حیات ہو۔ اگر کسی کو گرا کر اُس کی جگہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آنے والا وقت اُس کوشش کے کردار بدل دیتا لیکن عمل یہی رہتا ہے۔ اخلاق و کردار کا بہترین نمونہ نبی اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ سیاست دان ہو یا ارباب اختیار کے ساتھ عوام اگر ہم صرف گفتار کے غازی بننے پر خوش ہورہے ہیں تو شاید احمقوں کی جنت میں ہی جگہ ملے گی۔

معاشرے میں تبدیلی کے لئے ہمیں نرم لب و لہجے اور مخالفین تک کو مخاطب کرنے میں اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ جب تک ترش لہجہ رہے گا عمل میں انتقام جھلک دکھائی گا تو پھر اس کا واضح نتیجہ مکافات عمل کی صورت میں ہی نکلے گا۔ زندگی کی بہترین تربیت گھر سے شروع کریں، احباب تک پھیلائیں، کارکنان کو پابند کرائیں لیکن سب سے پہلے اس پر خود عمل کیجئے۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن اخلاقیات کا ایک ایسا پیمانہ ضرور ہو کہ وہ دنیا کے لئے مثال بن سکے۔