اک احمقانہ سوچ - محمد سلمان اسلم باجوہ

محترم قارئین کرام آج کل ناپختہ ذہنیت اور رشتوں کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے جہاں ہمیں اور مسائل سے دور چار ہونا پڑ رہا ہے وہیں پر ہم ہر کسی کے خراب تجربے کو سامنے رکھ کر اسے اپنی زندگی کی ڈھال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثلاً شادی کے بعد طرفین کی جانب سے اپنے گھر میں پرانے شادی شدہ جوڑوں کو مثال بنا کر زندگی گزارنے کی ٹھان لی جاتی ہے لڑکا لڑکی کو نیچے لگانے کے چکر میں ہوتا ہے اور اسی طرح لڑکی میکے سے اپنی بہن کے ستم ذہن میں رکھتے ہوئے کوشش میں ہوتی ہے کہ پہلے وہ حاوی ہو جائے۔

کیونکہ جس طرح ہر انسان کی پیدائش الگ الگ ہے اسی طرح اس کے سوچنے کا معیار بھی الگ الگ ہے ہمیں زندگی کا معیار اور محور فطرت کو بنانا ہے نہ کہ فطرت سے ہٹے ہوئے انسانوں کو اپنانا ہے، جس طرح جگاڑی انسان کو باکمال نہیں کہا جا سکتا اسی طرح رشتوں میں انانیت اورعدم پہچان والے شخص کو عقل مند یا شائستہ نہیں کہا جا سکتا۔

رشتوں کی مٹھاس لیجیے نہیں تو تربیت لیجیے نہ اپنی زندگی خراب کیجئے اور نہ کسی ہونے والے شوہر یا ہونے والی بیوی کی، یہ زندگی بہت قیمتی ہے یہ جگاڑ سے نہیں بلکہ پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والے اخلاق سے چلتی ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */