ناروے کا ابابیل - راجہ کاشف علی خان

مسلم دنیا کے حکمران جتنے مرضی اچھے بچے بن جائے، آپ ان کی ہر قسم کی شرط پوری کردیں، آپ زندگی کے ہر معاملے میں ان کی اتباع کرلیں، آپ نجی و معاشرتی، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے ان کا رنگ ڈھنگ اختیار کرلیں! لیکن مغربی دُنیا آپ کی اس اعتدال پسندی کو کسی صورت قبول کرنے والی نہیں!کیونکہ وہ جانتے ہیں وہ کیا کررہے ہیں! وہ بڑی باریکی سے بنائے گئے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے۔

ابھی تو طاغوت نے اپنے ایجنڈے کا کچھ فیصد حصہ ہی دنیا پر نافذ کیا۔ ابھی تو اِن فتنہ سامانیوں کا عروج باقی ہے۔ یہ کھیل غیر محسوس طریقے سے کھیلا جارہا ہے۔ طاغوت کے اس ایجنڈے کو نافذ اور ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے ہزاروں افراد دن رات جدوجہد میں مصروف ہیں۔ سینکڑوں مختلف تنظیمیں پوری قوت سے پوری دُنیا کے لوگوں کی ذہن سازی میں مصروف ہیں۔ یہ ذہن سازی بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب کی جارہی ہے تاکہ اُن کے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں کسی بھی طرف کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہ رہے۔ یہ تو طے ہے اُن کا آخری مقابلہ مسلمانوں سے ہی ہونا ہے۔ ان کا ابتدائی کام دُنیا کے ہر مذہب کے خلاف تھا۔ ان کا پہلا ہدف عیسائیت تھی پھر آہستہ آہستہ ہندو، بدھ مت، چین مت اور وہ تمام ادیان جو کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں موجود ہیں، میں نقب لگائی۔ مذاہب سے بیزاری پیدا کرکے لوگوں کو لادینیت کی طرف راغب کیا۔ دُنیا کا کوئی مذہب شراب نوشی، زنا، جھوٹ، جنسی بے راہ روی، ہم جنس پرستی اور اس جیسی دیگر خرافات کی اجازت نہیں دیتا ہے لہذا ضروری تھا کہ مذہبی بیزاری پیدا کی جائے۔ مذہب سے بیزاری کی اس لہر نے تمام مذاہب کے ماننے کو متاثر کیا۔ لبرل ازم کے نام لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔ چند مذہبی رہنماؤں، پیشواؤں کی بشری کوتاہیوں کمزوریوں کو بنیاد بنا کر پورے مذہب کو ہی اس رنگ میں پیش کیا کہ کم علم اور سادہ لوگ ان کے بہکاوے میں آجائیں۔

ایک پڑھا لکھا طبقہ اخلاقی اقدار کو قید کے طور پر دیکھتا تھا۔ اس کے نزدیک انسانی خواہشات فطری ہیں اس لئے فطری خواہشات کی تکمیل کیلئے کوئی اخلاقی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ خاص طور پر جنسی تعلقات کے معاملے میں مذہب کی پابندیاں بالکل غیر فطری ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا یورپ، امریکہ سمیت پوری دنیا کو ان نظریات نے اپنی لپٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا میں لبرل ازم کے نام پر ہر طرح کی فحاشی و عریانی کو اتنا فروع مل چکا ہے کہ اس کے خلاف آواز اُٹھانے والے کو مذہبی شدت پسند قرار دے کر ایسی درگت بنائی جاتی ہے کہ اُسے اپنے اور اپنے مذہب و عقیدے کے بارے میں وضاحتیں دینا پڑھ جاتی ہیں۔اسلام کے پیروکاروں کو یہ فضیلت حاصل کہ وہ اس مکروہ پروپگنڈہ سے متاثر تو ایک حد تک بے شک ہوئے ہیں لیکن قرآن کریم اور حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی برکت سے ان طاغوتی طاقتوں کے پروپگنڈے، شیطانی و سفلی جذبات کے سامنے بند باندھے کھڑے ہیں! طاغوت کے سامنے بڑے بڑے حاکم اور لیڈر خود کو پڑھا لکھا کہنے والے سلنڈر کرچکے ہیں لیکن عام اور سادہ نظر آنے والے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور آخری جنگ تک لڑیں گے! اسی لیے ابلیس نے اپنے سیاسی فرزندوں سے کہا!


وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

ناروے میں ہونا والا حالیہ واقعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں کی حکمتِ عملی کا ایک تسلسل ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اُن کے پروپگنڈے سے آج کا مسلمان کتنا متاثر ہوچکا ہے؟ لیکن الحمدللہ ان کو جواب بھی ان کے اپنے ہی گھر سے ملتا ہے۔ناروے کا وہ مردِ قلندر اُسی تحریک کا رکن ہے جن کے بارے میں اقبال نے کہا!


بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی


سینکڑوں افراد کے موجودگی میں قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے پر جھپٹنے والا نوجوان جانتا تھا کہ اُس کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں؟ لیکن اس نے طاغوت کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی!میڈیا پروپگنڈے کے زریعے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ان کے اپنے ہجوم میں ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے بتا دیا تمہارے اس شیطانی ایجنڈے سے میں متاثر نہ ہوسکا تو دنیا میں بسنے والے کروڑوں فرزندان توحید کیسے متاثر ہوسکتے ہیں؟ عوامیِ ردعمل آنا ایک فطری بات ہے اور اس مزید شدت آنی چاہیئے تاکہ طاغوت کو پتا چل سے ناروے میں جھپٹنے والا نوجوان اکیلا نہیں ایک کے پیچھے پوری امت مسلمہ کھڑی ہے!حیف تو ان مسلم دنیا کے حکمرانوں پر ہے جن کی زبانیں اس ڈر سے ہمیشہ خاموش رہتی ہیں کہ کہیں ہمارے سرپرست ہم سے ناراض نہ ہوجائیں، ڈالر آنا بند نہ ہوجائیں، کہیں ہمارا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل نہ ہوجائے؟ کیا وہ نوجوان نہیں جانتا تھا کہ سینکڑوں کا ہجوم میری تکہ بوٹی کرسکتا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتا تھا مجھ پر دہشت گردی کا لیبل لگ جائے گا؟لیکن جب دل میں ایمان کی حرارت موجود ہو تو پھر ظاہری اسباب پر کون تکیہ کرتا ہے؟


حرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے!
جوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے!


طاغوت بظاہر بڑا طاقتور نظر آرہا ہے۔ دُنیا کے پورے مسائل اس کی گرفت میں ہیں۔ جہاں چاہتا ہے معاشی بحران پیدا کردیتا ہے۔ پوری دنیا میں اپنی مرضی کے حکمران لاتا ہے خاص طور مسلم دنیا اس کے نشانے پر ہے۔ باقی ممالک اور مذاہب تو کب کے فرمانبردار بن چکے۔ مسلم دنیا میں اپنی مرضی کے حاکم ہونے کے باوجود مسلم دنیا کا مسلمان یا دنیا میں کہیں بھی بسنے والا مسلمان پوری طرح زیر ہو نہیں پا رہے۔ اور یہ مسلمان زیر ہوسکتا بھی نہیں۔ طاغوت پوری منصوبہ بندی کررہا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ نے طاغوت کا رستہ روکنے کیلئے اپنی حکمت عملی تیاری نہیں کرنی؟ وہ چاہے تو آسمان سے فرشتے اتر سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ یہ عمر الیاس جیسے نوجوان ہی ہونگے جو طاغوت کے سامنے سینہ سپر ہوتے رہیں گے!طاغوت اپنی تمام تر تیاری کے باوجود ناکام و نامراد ہورہا ہے۔ اس کی ساری کی ساری منصوبہ بندی ایک جھپٹ کی مار ہے۔ مگر پوری امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اپنی اپنی حیثیت میں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اس فخر کے ساتھ کہ ہم ہی ہیں جو طاغوت کے راستے کی اصل رکاوٹ ہیں! اس عزم کے ساتھ کہ طاغوت ہر منصوبے کو ناکام کرنا ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */