یہ بات ضروری ہے جو اب تک ادھوری ہے - حسین اصغر

پاکستان میں ہر “منتخب وزیراعظم “وہ وزیراعظم جس کا گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر آیا ہے اور عوام بھی اس ہی خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ یہ حکمران ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوکر آرہے ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ یہ ہر حکمران سب سے پہلے سرکاری دورے کے لئے امریکہ کو ہی کیوں پسند کرتا ہیں ؟

اور ہر منتخب حکومت آنے کے بعد پاکستان کا آرمی چیف آف اسٹاف سب سے پہلے امریکہ انہیں کیا خبر دینے جاتا ہے ؟ یا کیا خوش خبری لے کر آتا ہے ؟یہ اور اس طرح کے سوالات کا جس دن پاکستانیوں کو جواب مل گیااس دن پاکستانی واقعی آزاد ہوجائیں گے اور ترقی کی نئے منزلیں طے کریں گے یہ امریکی بھی ہمارے مزاج اور حیثیت سے واقف ہیں اسی لئے ‎یہ امریکی “الو کے پٹھے “بلاتے ھمارے “منتخب” وزیراعظم کو ہیں اور اکیس توپوں کی سلامی دیتے “ باجوا “کو ہیں ‎لیکن جس قوم میں سالوں کی غلامی نے احساس آزادی چھین لیا ہو وہاں پڑھے لیکھے بھی اس ہی فکر میں ہوتے ہیں کہ ‎قمیض یا شرٹ کیسی تھی؟

پینٹ کا کلر کیسا تھا؟

شلوار میں ناڑا تھا یا نہیں؟

کس پر بیٹھا ہوا تھا؟

ساتھ والا کیسا لگ رہا تھا؟

کس کی بیوی کس کے ساتھ کھڑی ہے ؟

اور وغیرہ وغیرہ

مگر ،
اگر
‎کے ساتھ صرف اتنا ہی کہ اگر عمران کوبھی ساتھ کھڑا کردیتے تو ان کا کیا جاتا پاکستان اور اسکے سیلکٹڈ وزیراعظم کا کچھ برھم رہ جاتا، جب سارے اھم فیصلے انہی سے کروانے ھیں اور اھمیت بھی انہی کو دینی ھے تو پاکستان کے وزیراعظم کو شلوار قمیض اور پشاوری چپل پہنا کر کیوں ساتھ لے گئے کیا اس سے پتلی تماشہ کروانا مقصود تھا؟‎ آئندہ پاکستان کو بھی کسی ملک کے سربراہ کو اکیس توپوں کی سلامی نہیں دینی چاہئے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت - محمد عاصم حفیظ

‎مگر میر ا یہ مطالبہ بھی کس سے ہے ! اس قوم سے جو خود خودی کا مطلب نہیں جانتی ۔خیر عمران اس قابل نہ سہی اور جیسا ہی سہی امریکا کادورہ بحیثیت پاکستانی وزیراعظم تھا، مگر میں یہ احتجاج اپنی فوج اور امریکہ کے حکمرانوں کو ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں کہ ‎پروٹوکول تو پروٹوکول ھوتا ھے فرد کا نہیں منصب کا ھوتا ہے۔

مگر میرا احساس میرا دکھ کس کے لئے اس قوم کے لئے جو مر چکی ،جو زندگی کے ہر احساس سے آزاد ہو چکی یہ موت ایک دن میں نہیں ہوئی اس قوم کو مارنے میں ستر سال لگے ہیں اس قوم نے اس وقت بھی ایک نا مانی اس مولانا مودودی کی جب ہر فرد اور قومی رہنما باآوز بلند کہتا تھا خدمت ایمانداری اور management اس پر ختم ہے مگر ہمارا اجتماعی رویہ اس قدر منافق ہے کہ اس مولانا مودودی کو بھی بری طرح شکست ہوئی !

اس قوم نے تو بانئے پاکستان کی اپنی سگی بہن فاطمہ جناح کی ایک نا مانی اور اسے بھی غدار وطن کے لقب سے نواز دیا اور اس قائد ملت کی بہن کو بھی بری طرح شکست ہوئی، اس قوم کا حال یہ ہے کہ اسے ہر چور اور اچکے لفنگے اور کرپٹ جو کبھی ان کے اپنے سپوٹروں کو منہ تک نہ لگاتے ہوں جو اپنے آپ کو اپنے ہی سپورٹر وں سے حدفاصل کا فاصلہ رکھتے ہوں ان میں تبدیلی کی جھلک نظر آجاتی ہے مگر ساتھ کھڑے ہر دکھ درد میں شامل رہنے والوں کو دیکھتے وقت آنکھیں بند اور دیکھنے سے آزاد اور کان سنے سے آزاد ہوجاتا ہے ۔

تو ایسے میں اس مردہ قوم کو بتادوں جب لوگ نظریات سے آزاد ہوجائیں اور افراد مرکز نظر ہوجائیں تو صدام حسین جنم لیتا ہے اور اس صدام کے محل سے اٹھنے والی وبا عراق کو جہنم خانہ بنادیتا ہے ۔اور جب لوگ نظریات سے آزاد ہوجائیں اور افراد مرکز نظر ہوجائیں تومصر کا سیسی جنم لیتا ہے اور اس سیسی کے محل سے اٹھنے والی وبا مصر کو جہنم خانہ بنادیتا ہےاور جب لوگ نظریات سے آزاد ہوجائیں اور افراد مرکز نظر ہوجائیں توشام کا بشار الاسد جنم لیتا ہے اور اس بشار الاسد کے محل سے اٹھنے والی وبا شام کو جہنم خانہ بنادیتا ہےاور جب لوگ نظریات سے آزاد ہوجائیں اور افراد مرکز نظر ہوجائیں توفلسطین کا یاسرعرافات جنم لیتا ہے اور اس یاسرعرافات کے محل سے اٹھنے والی وبا فلسطین میں لاشوں کے انبار لگا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف ایک ہی راہ نجات ہے- حبیب الرحمن

اور جب لوگ نظریات سے آزاد ہوجائیں اور افراد مرکز نظر ہوجائیں تووہی سعودی عرب جس کی حرمت “ مکہ اور مدینہ “کی وجہ سے قائم ہے اس کے بادشاہ کو بھرے محفل میں ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ کر ان کی اوقات یاد دلاتا ہے کہ ہم سعودی عرب کی بادشاہت چند دنوں میں زمین بوس کرسکتے ہیں تو ساری مسلم دنیا میں ایک قبرستان جیسی خاموشی چھا جاتی ہے ۔مگر اے قوم کے مردہ لوگوں جن سے ملنے کی خوشی میں، ان کے ساتھ چند تصویروں ،اور چند گھنٹوں ان کے ساتھ گزارنے کی خوشی میں جو زہر کا پیالا پیتے ہو وہ اپنے مفاد حاصل کر تے ہی تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔

مگر خود آج بھی “سپر پاؤر “مانے جاتے ہیں جو کبھی Soviet Union اور کبھی United States of America کے نام سے جانے جاتے ہیں جو ہمارے سروں سے بنے یہ سپر پاور کے محلات ہماری غلامی کا پتہ دیتے ہیں