مسئلہ کشمیر ہمارے دل... ترکی

مسئلہ کشمیر ہمارے دلوں میں چھید کرنے والا ایک خنجر ہے، ترک حکام کشمیر کو عالمی طاقت کی جنگ میں قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں .انقرہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک اہم سرگرمی کی میزبانی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی کانفرس میں مسئلہ کشمیر کے حل پر بات چیت ہوئی اور ترکی کی اس حوالے سے خدمات پر توجہ مبذول کرائی گئی۔

سیاستدان، اکیڈمیشنز اور تھنک ٹینک کے نمائندے دنیا کے چاروں گوشوں سے خصوصی دعوت پر انقرہ تشریف لائے اور انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے منعقدہ بین الاقوامی کانفرس میں شرکت کی۔ کانفرس میں کشمیر میں در پیش انسانی المیہ پر بات کی گئی اور جھڑپوں کے ماحول سے راہ فرار اختیار کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی ایر باش نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ میرے نزدیک"کشمیر میں امن و امان کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت سمیت اسلامی مملکتوں پر مشتمل ایک امن کمیشن کو اپنی خدمات ادا کرنی چاہییں۔" آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نےاپنے خطاب اس مسئلے کے حل میں ترکی کے ادا کر سکنے والے کردار پر توجہ مبذول کراتے ہوئے بتایا کہ "ان تاریک ایام میں ہم نے اپنا چہرہ ترکی کی جانب کر رکھا ہے۔ ترکی بات چیت کے عمل کو جاری رکھا جا سکنے والا ہمارا ایک چینل بن سکتا ہے، یہ ثالثی کا کردار بخوبی انجام دے سکتا ہے۔ از راہ ِ کرم کشمیری عوام کو اس نسل کشی سے بچائیں۔ " کانفرس میں ترکی کی مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے فراہم کردہ حمایت و تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستانی پارلیمانی سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ"سچ بولنا ہمیشہ عظمت کی نشانی ہے۔

ترکی اسی پر عمل پیرا ہے، یہ مسئلہ کشمیر کے حقائق پر بات کرتا چلا آیا ہے۔" سپریم کورٹ کے سربراہ اسماعیل رشتو جیرت کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اور وہاں پر در پیش انسانی المیہ عالمی برادری کے مملکتی حقوق کے اصولوں اور انسانی حقوق کے معاملات میں کسقدر مخلص ہونے کے ایک امتحان کے مترادف ہے۔ ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے قائمقام اسپیکر ثریا صادی بلگچ نے بھی اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے 70 سالوں سے زائد چلے آنے والے ایک ناسور کے طور پر عالمی رائے عامہ کے ایجنڈے میں شامل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر بات کرتے وقت عالمی نظام اور اداروں کے عملی نظام پر بھی بحث لازم و ملزوم ہے ۔ آق پارٹی کے گروپ قائمقام صدر محمد امین آک باش اولو کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر دنیا کے جنت نظیر مقامات میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ جھڑپوں اور ہلاکتوں کی خبروں کے ساتھ ایجنڈے میں رہنے والا ہمارے دلوں میں چھید کرنے والا ایک خنجر بھی ہے ۔ نیشلسٹ موومنٹ پارٹی کے گروپ قائمقام صدر ایرکان آکچائے نے بتایا کہ کشمیر کو عالمی طاقت کی جنگ میں قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، اس مسئلے نے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین عالمی کشمکش کے ایک پلاٹ کی ماہیت حاصل کر رکھی ہے ۔