تلخ حقیقت - حبیب الرحمن

ڈرو نہیں تم کہ ہم کھڑے ہیں
ہر اک گلی اور راستوں پر
ہرایک بستی کی شاہراہوں کے چوک
اوراس کے سگنلوں پر کھڑے ہوئے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ اک قیامت گزر رہی ہے
تمہارے مردوں پہ عورتوں پر
تمہارے نو زائیدہ جو بچے ہیں رو رہے ہیں

بلک رہے ہیں کہ دودھ ان کو نہیں ملا ہے
مگر یہ سچ ہے کہ ہم مسلسل
تمہارے چاروں طرف کھڑے ہیں

تمہاری گلیوں میں بہنے والے لہو کے دھارے
تمہار ی آنکھوں سے بہنے والے یہ اشک دریا
سسکتی مائیں
تڑپتے بچے
لہو میں لت پت جوان لاشے
جگر کے گوشے تڑپ رہے ہیں

یہ سب مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں
مگر ذرا بھی نہ غم کرو تم
تمہارے ہمراہ ہم کھڑے ہیں

یقین جانو
ہمارا یہ عہد ہے کہ یوں ہی
ہر اک ستم ، ظلم، جبر تم پر
عذاب بن کر جو آ پڑا ہے

تمہارے رستے ہوئے یہ کھاؤ
یہ بہتا خون اور تڑپتے لاشے
یہ ماؤں بہنوں کی چیخیں آہیں
یہ سسکیاں اور یہ بہتے آنسو

بلکتے بچے
یہ بھوک سے سب نڈھال چہروں کو ہم یونہی دیکھتے رہیں گے
بس اس سے زیادہ نہ کچھ کریں گے
جگہ سے اپنی نہیں ہلیں گے

یقین جانو
مری رگ جاں میں رہنے والے
تمہارے سارے غموں میں دکھ میں مصیبتوں میں
ڈرو نہیں کہ ازل سے یونہی تمہاری خاطر
کھڑے ہوئے تھے، کھڑے ہوئے ہیں، کھڑے رہیں گے

مگر یہ سچ ہے
تمہاری خاطر
نہ ہم لڑے تھے نہ ہم لڑیں گے