اساتذہ کے اوقات ایک ٹینشن - لطیف النسا ء

اساتذہ معاشرے کا ایک فعال طبقہ ہوتا ہے ہر وقت مستقبل کے معماروں کی صلا حیتوں کو نکھار کر معاشرے کا مئوثر مفید اور مہذب شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اساتذہ کی ذمہ داریاں بہت اہم ہوتی ہیں خا ص طور پر خوا تین اساتذہ اس ذمہ داری کو ہر طرف نبھاتی ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تر بیت اور اوقات کی تقسیم کار بچے اپنے بڑوں ہی سے سیکھتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ معلم بنا کر بھیجے گئے تو اس نسبت سے اساتذہ کا پیشہ ایک اہم منصب ٹھہرا ! ایک اولین ذمہ داری !دین ودنیا کی ابیاری اسی کی مرہون منت ہوئی۔

تمام اساتذہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ منصب عطا کیا ۔ پچھلے چند مہینوں سے خوا تین اساتذہ کی بے چینی حکومتی اداروں کی توجہ چاہتی ہے ۔ جب سے اسکولوں کے اوقات تبدیل ہوئے ہیں ۔ سارا سیٹ اپ ہی بگڑ گیا ہے۔ صبح سات چالیس سے بارہ تیس تک کے اوقات بہت مناسب تھے ۔ بچے بڑے سب جلدی صبح اٹھکر نماز سے فارغ ہو کر قر آن وغیرہ پڑھکر سب ایک ساتھ یا آگے پیچھے آفیس اور اسکولز کیلئے نکلتے تھے والدین بچوں کو خود اسکول چھوڑ کر کام پر چلے جاتے تھے ۔ اس طرح صرف درمیان میں پندرہ منٹ کی تفریح اور کلاسز ہوتی تھیں ۔ ریسیس(وقفہ) سے پہلے اہم مضامین اور اس کے بعد باقی مضامین کے پیریڈ ہوتے تھے ۔ بچے اور اساتذہ انتہائی فعال اور انرجیٹک رہتے تھے۔ بچے اور اساتذہ بھی گھر پہنچ کر ان کے لئے کھانے پینے نہلانے دھلانے کے انتظامات میںجت جاتی تھیں ۔

نماز بھی سب کو وقت مل جاتی تھی تھوڑا سا آرام کرے بچوں کو کام کر وا نا سا تھ ہی مولوی صاحب قر آن سکھانا اور دیگر گھر کے کام ساتھ ساتھ ہو جاتے بہت سی خواتین کو ٹیوشن کے اوقات بھی مل جاتے تھے ۔ لیکن جب سے حکومت نے انکا بے تکا وقت کردیا ہے ، معاملہ منتظم نہیں رہا۔ صبح آٹھ بجے سے تین بجے کا وقت ناقابل ہضم ہو گیا ہے بچے اور اساتذہ دونوں تھک جاتے ہیں ۔ آدھے گھنٹے کا درمیانی وقفہ اور پھر نماز کی تیاری اور ادائیگی کا ہر ایک کو خیال رکھنا پڑتا ہے واپسی میں گھر پہنچتے پہنچتے چار پانچ بج جاتے ہیں ۔ پیچھے گھر میں دیگر چھوٹے بچے ، دادا دادی ، نانا نانی اور ادیگر افراد الگ تنگی کا شکار ہوتے ہیں۔ کھانے پینے دوا دارو اور دیگر انتظار میں بہت بور ہوتے ہیں ۔ جن کی ماسیاں ہیں وہ الگ مشکلات کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ انہیں بھی گھر جانا ہوتا ہے اور یوں وہ بھی لیٹ ہو جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   طلبہ میں تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کا فقدان - محمد ریاض علیمی

بچے بیچارے قیلولہ تو کیا ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتے ہیں اور نہ اچھے طرح دل لگا کر قر آن سیکھتے ہیں اور نہ ہی انکو آدھا گھنٹہ کھیلنے کو ملتا ہے ۔ کیونکہ انکا شیڈول ہی بگڑ جا تا ہے ۔ ذرا سا آرام کرنے سے وہ دوبارہ چارج ہوجاتے ہیں اور شام سے رات تک پھرتی سے کام کرتے ہیں اور یوں رات کو بڑے بچے سب جلد سو جاتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو رہا ۔ ایسے میں تقریبات شادی بیاہ یا دیگر کوئی بھی پروگرام مزید پریشانی کا باعث بن جا تا ہے جو دیر سے شروع ہو کر دیر سے ختم ہو تا ہے اور پھر وہی سب کی ٹائمنگ متا ثر ہوتی ہے ، صحتیں بگڑتی ہیں ، لوگ چڑچڑے ہونے لگتے ہیں ۔ اسطرح پورا ماحول بے سکونی اور بے چینی کا شکا ر ہو تا ہے ۔ اچھی خا صی ڈبل شفٹ چلتی تھی ہم جب چھوٹے تھے تو کالج سے تین ساڑھے تین بجے آجاتے تھے اور سارے کام آرام سے ہو جاتے تھے ۔

کالج کیلئے تو پھر بھی بہتر ہے وہ بھی سائنس والوں کیلئے مگر اسکولز کی سطح پر موجودہ اوقات بڑی ہی تکلیف کا باعث ہیں ۔ خواتین خود بھی بہت زیادہ تھک جا تی ہیں ۔ گھر میں جس طرح آرام سے اپنے لحاظ سے نماز اور بچے بڑو ں کے کھانے کی تیاری پہلے ہو سکتی تھی ۔ اب نہیں ہو پارہی ہے جس کی وجہ سے ان کی صحتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔ ٹریفک کے مشترکہ اوقات اسکولز اور آفیسز کے اوقات میں بھی کلیش ہونے سے ٹریفک بدترین ہو جا تی ہے اب تو دن بھی چھوٹے ہو رہے ہیں ایسے میں حکومت کو سوچنا چاہئے وہ خود بھی اپنے زمانے کو یاد کریں ان اوقات میں بہترین پڑھائی ہو سکتی ہے اور ڈبل شفٹ کی وجہ سے اساتذہ اور طلباء طالبات کی تعداد دوگنی ہو کر تعلیم کا فروغ آسان ہو سکتا ہے ۔ اس طرح تو ماحول بد سے بدحالی کی طرف جاتا جارہا ہے ۔ دوکانیں دو دوبجے کھلنے لگی ہیں جبکہ ہمیں صبح ہی صبح سے اٹھکر کام کرنے کا حکم ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

قدرتی روشنی کا بھر پور استعمال ہماری بجلی کی قلت کو کئی گنا کم کر سکتا ہے اور ہمیں صحت سے ہمکنار کرتا ہے یہ یقینی بات ہے صبح کا جلد اٹھنا اور شام جلد سونا صحت کا ضامن ہے ۔ دن کام کیلئے رات آرام کیلئے ہے یہ اللہ کی نشانیاں ہمیں احکام الٰہی کی اصل غایت کو سمجھ کر حکمت سے فیصلے کرنے چاہئیں ۔ بچوں کو جب بھی صبح کی اہمیت حکمت معلوم ہو گی جب موسم ٹمپریچر کا فرق اور نظارے دیکھیں گے لہٰذا متعلقہ اداروں سے مئودبانہ گزارش ہے کہ پرانے اوقات کو بھی بحال کیا جا ئے بلاوجہ زبردستی کے کام کبھی بھی تسکین نہیں دے سکتے ۔ ہر چیز میں غیروں کی تقلید صحیح نہیں نہ لباس نہ اسٹائل نہ اوقات ہمیں اپنے انداز سے اپنے لحاظ سے تعلیمی اوقات سیٹ کرنے چاہئے تا کہ سب کا کام آسانی سے ہوتا رہے ۔ میرے ایک بہنوئی اپنی بڑی فیملی ہونے کی وجہ سے ڈبل ڈیوٹی کیا کرتے تھے ۔ گورنمنٹ اسکول سے فارغ ہو کر کھانا کھا یا ۔ نماز پڑھی اور دوسرا پرائیوٹ اسکول شروع کیا ۔ آج بھی بہت سے مرد حضرات یہی کرتے ہیں کو ئی دکان پر کوئی ہسپتال کوئی کہیں کوئی کہیں تا کہ اپنی فیملی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

جب اساتذہ سکھی اور ٹینشن فری ہونگے تو زیادہ اعتماد حوصلے اور جذبے سے پڑھائیں گے ۔ خود سستی دکھا کر بچوں کو بھی سست نہیں بنائیں گے ۔ جب صبح جلد اٹھنے کا حکم ہے تو سستی کیوں دکھا ئیں تھوڑے سے مزے کیلئے اور تھوڑی سی مشقت کیلئے ہم سب کو ڈھیروں مسائل چمٹ لیتے ہیں جو دنیا اور آخرت خراب کرتے ہیں اس لئے جتنا جلدی ہوسکے اچھے مئوثر کاموں کی تکمیل پھرتی سے کرتے رہنا چاہئے یہی وقت کی طلب ہے اس طرح کاروباری طبقہ بھی خود بخود لائین پر آجائے گا ۔ رات کو اللہ کی نشانی جانیں اور آرام کرکے اگلی صبح کا آغاز خو ش آئند اور فرحت بخش بنانے میں ہم سب کو ایک ہو نا ہے ، نیک ہونا کہ یہ عمل آگے چلتا رہے گا ۔ انشا ء اللہ