آن لائن شاپنگ : مشتری ہوشیار باش‎ - سالم رحیم

ہوا یوں کہ میرے اک دوست نے بذریعہ نیٹ محمد اسامہ سرسری صاحب کی کتاب"آو تحریر سیکھیں" منگوائی لیکن کورئیر والا جب پارسل لایا اور چارجز لے کر چلے گئے تو پارسل سے محمد اسامہ سرسری ہی کی کتاب "آو شاعری سیکھیں"برآمد ہوئی ۔ دوست نے وٹس ایپ کے ذریعے سیلز مین کو اطلاع دی کہ انہوں نے "آو تحریر سیکھیں" والی کتاب منگوائی تھی لیکن "آو شاعری سیکھیں" والی کتاب ان کو ملی ہے۔

جواب ملا کہ " کتاب واپس بھیجیے، ہم آپ کو " آو تحریر سیکھیں " والی کتاب بھیج دیں گے " ۔ دوست نے کہا " کتاب واپس تو کوئی بدذوق ہی کرسکتا ہے، اس لیے دونوں کتابیں رکھنا چاہتا ہوں"۔ پھر جواب ملا کہ " آپ کا جملہ ہمیں پسند آیا لہذا پہلی والی کتاب بھی ہماری طرف سے قبول فرمایے " - یہ کتاب ایک شاندار جملے کا تحفہ تھا۔ایک اور دوست نے بتایا کہ انہوں نے بھی بذریعہ نیٹ ایک سادہ نوکیا موبائل کی آرڈر دی تھی لیکن پارسل سے سو روپے والی ایک غیر معیاری گھڑی برآمد ہوئی ۔ بعد میں اشتہار میں دی گئی نمبر پر رابطہ کیاتو کسی نے فون اٹھانے کی زحمت نہ کی ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اب پاکستان میں بھی آن لائن شاپنگ کا ٹرینڈ چل نکلا ہے۔ ای کامرس یہاں بھی اپنا اک واضح اور اہم مقام بناتی جارہی ہے لیکن چند فراڈیوں کے سبب صارفین کو دھوکہ مل جاتا ہے ۔ فراڈ کے کئی واقعات سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں لین دین میں چونکہ جھوٹ اور دھوکہ دہی معمول ہے اس لیے اس کا اثر آن لائن خریداری پر بھی ہے ۔

حالیہ سال چینی آن لائن شاپنگ کمپنی "علی بابا" نے 11،نومبر کو "سنگلز ڈے" کے موقع پر چوبیس گھنٹوں میں 35.8 ارب ڈالرز کی مصنوعات فروخت کردی تھیں ۔ اس اعداد و شمار نے یورپ اور امریکہ میں بلیک فرائیڈے کے اعداد و شمار کو بھی دھندلاکر رکھ دیا ۔ لیکن یہ وہی ممالک ہیں جہاں صارفین کا خیال رکھا جاتا ہے ۔
اس وقت پاکستان میں کئی آن لائن کمپنیاں میدان میں ہیں ۔ دراز پی کے ، پاک وہیلز ، زمین پلس ، عالمی ٹائیکون ، اولیکس اور دیگر ۔ دراز پی کے اس وقت پاکستان ، میانمار ، نیپال ، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں آن لائن کاروبار کررہی ہے ۔ بزنس کی دنیا اب تقریبا " انٹرنیٹ پر منتقل ہوگئی ہے ۔ اب گھر بیٹھے ہی صارفین ویب سائٹس پر اپنی پسندیدہ اشیاء دیکھنے کے بعد آرڈر کرسکتے ہیں۔ صرف اک کلک پر آپ کی خریدی گئی اشیاء براہ راست آپ کے دروازے پر پہنچائی جاسکتی ہے۔اب آپ آن لائن شاپنگ کے ذریعے کتاب ، جوتے ، گھڑی ، گھریلو استعمال کی اشیاء ، فیشن کے آلات ، کھیلوں کے سامان ، تحائف ، چاکلیٹ ، پھول ، بچوں کے کھلونے اور عورتوں کے زیورات تک بھی خرید سکتے ہیں .

اور قیمتی وقت بچا سکتے ہیں لیکن مشتری ہوشیار باش ! بعض آن لائن کاروباریوں کے ہاں سامان موجود نہیں ہوتے ، وہ محض خوبصورت اشتہاری تصاویر اور ویڈیوز دکھلاتے ہیں اور پھر مارکیٹ سے دو نمبر کوالٹی کی ناقص چیز خرید کر صارفین کو پارسل کرتے ہیں ۔ اسطرح صارفین کو چکما دیا جاتا ہے ۔ اشتہار کرتے وقت دکھایا جاتا ہے کہ چیزیں فیکٹری ریٹ پر ہول سیل پرائس میں دستیاب ہوں گے ، آرڈر کے لیے ان باکس میسیج کیجیے یا دیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں لیکن ناقص میٹیریل ملنے کے بعد صارف کے فون کو اٹھایا نہیں جاتا ۔ شاید ہی کوئی ایماندار آن لائن کتاب فروخت کرنے والے دوست کی طرح نیک نیت ہو جن کا ذکر گذشتہ سطور میں ہوچکا ہے وگرنہ موبائل سے گھڑی تک کی مثال بن کر رہ جائے گی ۔ حکومت ای کامرس میں قانون سازی کرے تو فراڈیوں س بچا جاسکتا ہے لیکن خریدار کو بھی عقل سے کام لینا چاہیے اور اچھی تسلی کرنے کے بعد شاپنگ کا آرڈر دے ۔