تبدیلی کے اثرات - امیر بی بی

میری سمجھ نہیں آرہا کہ بات کہاں سے شروع کروں !!!! ھو سکتا ھے آپکی نظر میں یہ چھوٹی سی بات ھو !! مگر میری نظر میں یہ بہت بہت بڑی بات ھے اور مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ ان حالات کا زمہ دار کس کو ٹہراوں حکومت کو یا معاشرے کو یا کسی اور کو ۔

ھواکچھ یوں کہ آج میرے شوہر کیسی کام سے قریبی سستے بازار سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک ادھیڑ عمر خاتون جنھوں نقاب کیا ھوا تھا نے رک کر میرے شو ہر سے عجیب مطالبہ کردیا جسے سن کر وہ ہکا بکا اس خاتون کی طرف دیکھتے رہ گئے . انھیں کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس اجنبی خاتون نے ان سے کیا کہا ہے اور اب انھیں کیا کرنا چاہیے۔ چند لمحوں بعد جب انکے اوسان بحال ہوئے تو خاتون نے دوبارہ اپنی بات دھرائی " بھائی مجھے کچھ سبزی دلوادیں گے " ؟ میرے شوہر نے کچھ سمجھتے کچھ نا سمجھتے ہوئے کہا باجی سامنے سبزی کے کئی ٹھیلے کھڑے آپ آ کر سبزی لے لیں ۔ اور خود جاکر سبزی والے کو ہزار کا نوٹ دیتے ہوئے کہا بہن کو سبزی دیدیں اور کچھ سوچتے ھوئے ان خاتون سے سے مخاطب ہوئے کہ کچھ راشن بھی لے لیجئے گا اور وہ دیکھیں سامنے دوکاندار کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اگر اور پیسے چائیں تو ان صاحب سے لے لیجیے گا۔ یہ کہہ کرخود سامنے دوکاندار سے کچھ بات کر کے مضطرب دل لئیےگھرکی طرف روانہ ھوگئے ۔ بے چینی ان کے چہرے سے صاف عیاں تھی۔

دس پندرہ منٹ بعد موبائل بج اٹھا نظر ڈالی تو اسی دوکاندار کی کال تھی جو کہہ رہا تھا ناصر بھائی وہ خاتون مجھ سے پیسے لینے کی بجائے دوسو تیس روپے مجھے لوٹا کر چلی گئی ھیں ۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ اس نے آدھا کلومیتھی ادھا کلو آلو آدھاکلو پالک لیا ہے ایک ایک پاو دوقسم کی دالیں آٹا اور پکانے کا آئل لے لیا ہے ۔ باقی پیسے میں آپکو واپس لوٹا دوں . موبائل رکھکر میرے شوہر گم سم بیٹھے تھے . میرے پوچھنے پر تمام قصہ مجھے کہہ سنایا اور گھر سے باہر نکل گئے ۔ میں مسلسل اس عورت اور اس جیسی ہزاروں عورتو ں کی بیبسی انکی خودی اور خوداری کا سر عام قتل ہوتا اپنے دل پر محسوس کرہی تھی . .اللہ ربیّ کس کرب سے گزرنا پڑا ہوگا اس بیچاری کو۔ کتنا کچلا ہوگا اس نے اپنی انا کو۔ کتنے عزت والوں کی بیٹی ھوگی وہ ۔ بھوک سے بلکتے بچوں کی طرف دیکھ کر کتنا روئی ھو گی یہ قدم اٹھا نے سے پہلے
اللہ پاک تو ہم پر رحم فرما رحم فرما میرےمالک۔ عزت والوں کی عزت کا بھرم رکھ لے میرے مولا۔ منگائی اور بیروزگاری نے عزت دار خاندانوں کو کس طرح ذلیل اور رسوا کر کے رکھدیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی،کپتان کی-آصف محمود

ان حالا ت کا زمہ دار کون ہے کس کی زمہ داری ہے ان بیبسوں کی دادرسی ان مسکینوں کی خبرگیری کرنا ۔ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں ہم کس حد تک گر چکے ہیں کہ پاس پڑوس تک کی خبر نہیں رکھتے . ان دگرگوں حالات کا کچھ تو تدارک ھونا چاہیے نا ۔ حکمرانوں کی تبدیلی یہی ہے . اب ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا . اس سے پہلے کہ خدا نخواستہ میرے اور آپ کے اوپر یہ وقت آجائے کہ حالات کی ستم ظریفی ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کردے . اس سے پہلے کہ آسمان والے کا بڑا حکم آجائے زمین والوں‌کو ہوش کرنا ہوگا وہ بھی صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی اقدام کی صورت میں .