ہمارا کیا جاتا ہے- خالد مسعود خان

گزشتہ ہفتہ سب فریقوں کے لیے خراب گزرا۔ ویسے تو ہر فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعویدار ہے مگر صرف دعویٰ تو نہیں چلتا۔ ہر فریق کا دعویٰ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ شفیق الرحمن کے ایک مضمون میں چھوٹے بچے کا تھا۔ دو بچوں کی لڑائی ہوئی‘ بڑے بچے نے چھوٹے بچے کی حتی المقدور پٹائی کی۔ چھوٹا بچہ جب اس پٹائی کے بعد رونے رلانے سے فارغ ہوا تو اس نے ڈینگیں مارنا شروع کر دیں‘ کہنے لگا کہ جب میں نے اس کے (بڑے بچے سے متعلق) سر پر اپنا پیٹ مارا (اصل میں بڑے بچے نے اس کے پیٹ پر ٹکر ماری تھی) اور پھر اپنی ناک اس کے منہ میں گھسیڑی (آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بڑے بچے نے دراصل اس کی ناک پر دانت کاٹا تھا) تو پھر آپ مت پوچھئے کہ کیا ہوا۔

سو یہی حال اس وقت مولانا فضل الرحمن‘ عمران اینڈ کمپنی اور میاں نواز شریف کی ن لیگ کا ہے۔ تینوں فی الوقت چھوٹے بچے کی مانند ڈینگیں مار رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کی چوہدری صاحبان کے ذریعے سے کیا ڈیل ہوئی ہے؟ یہ ابھی پردہ ٔغائب میں ہے ‘لیکن اس ساری صورتحال میں جو بظاہر نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا کو اسلام آباد سے خوار و خستہ ہو کر اٹھنا پڑا ہے اور اگر ان سے کوئی وعدۂ فردا کیا گیا ہے تو سمجھیں انہیں اس وعدۂ فردا پر ٹرخایا گیا ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن کچی گولیاں نہیں کھیلے‘ مگر اس بار وہ سراسر (بظاہر) خسارے میں گئے ہیں۔ کسی میمن کو کاروبار میں اور مولانا فضل الرحمن کو سیاسی میدان میں خسارہ ہونا محیر العقول بات ہے‘ لیکن مولانا کی حد تک اس بار یہی انہونی ہوئی ہے۔ گو کہ وہ اب اپنی عزت کو پلان بی کے پردے میں ملفوف کر کے بچانے کی تگ و دو میں ہیں‘ لیکن جس طرح وہ مایوسی کے عالم میں اٹھے ہیں‘ اس پر میر تقی میر کی شہرہ آفاق غزل ''دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے‘‘ کا ایک شعر یاد آ گیا ہے ؎
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم - جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

خیر ہمیں کیا؟ مولانا کون سا ہم سے پوچھ کر دھرنے پر بیٹھے تھے؟ ابھی حکومت کو اپنی اس کامیابی پر (حالانکہ اس میں حکومت کا ٹکے کا بھی کوئی کردار نہیں) خوشی منانے کا موقعہ بھی ملا تھا کہ میاں نواز شریف کی بذریعہ کورٹ ای سی ایل سے فراغت کے دھچکے نے ان کی ساری خوشی غارت کر دی۔ ایسے مواقع پر شعرا چرخِ نا ہنجار کے متعلق طرح طرح کی باتیں منسوب کرتے ہیں‘ لیکن یہ بات بہر حال طے ہے کہ پچاس روپے کے اشٹام پر ای سی ایل سے فارغ خطی نے سرکار پر گھڑوں پانی انڈیل دیا ہے‘ مگر مروجہ رواج کے تحت حکومت نے اس ہزیمت ‘ پسپائی اور رسوائی میں سے بھی فتح‘ کامیابی اور خوشی کا پہلو نکال لیا ہے اور اب اس اشٹام کو میاں برادران کے گروی رکھنے کے مترادف قرار دے کر اپنی شرمندگی کو چھپانے کی جو کاوش کی ہے اس پر ان کے حوصلے کی داد نہ دینا بہر حال زیادتی ہوگی۔ کہاں تو حکومت سات ارب روپے کا بانڈ مانگ رہی تھی اور کہاں میاں شہباز شریف کے پچاس روپے کے اشٹام پیپر پر لکھے ہوئے ضمانت نامے پر میاں صاحب کو دل کی مراد مل گئی ہے۔ اس پچاس روپے کے اشٹام پیپر والے حلف نامے سے یاد آیا کہ میں نے 2002ء میں کرایہ نامہ جس اشٹام پیپر پر لکھ کر مکان کرائے پر لیا تھا اس کی مالیت آج سے سترہ سال قبل مبلغ ایک سو روپے نصف جس کے پچاس روپے ہوتے ہیں ‘تھی۔ حالانکہ حکومتی شادیانوں کی کم از کم اس عاجز کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی مگر کیا کریں‘ اگر کوئی اپنی ہزیمت پر تالیاں بجانا چاہتا ہے تو ہمارا کیا جاتا ہے؟

حکومتی مطالبے اور عدالتی فیصلے کے درمیان باہمی نسبت نے تو ''آبِ گم‘‘ میں کابلی والے کی شادی میں حق مہر کی رقم کے معاملے میں لڑکی والوں کے مطالبے اور لڑکے والوں کی پیشکش کی باہمی نسبت کا ریکارڈ بڑے مارجن سے توڑا ہے۔ لڑکی والوں نے کہا کہ حق مہر ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا چاہئے اور لڑکے والوں کا اصرار تھا کہ حق مہر شر عی سوا بتیس روپے ہونا چاہئے۔ جھگڑا جب بڑھ گیا تو ایک بزرگ نے کہا کہ مناسب یہی ہے‘ اس کا کوئی درمیانی حل نکالا جائے۔ ایک سیانے نے کہا کہ ایک لاکھ روپے اور سوا بتیس روپے کا درمیانی حل صرف بندوق کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ ادھر یہ عالم تھا کہ ایک لاکھ اور سوا بتیس روپے کا درمیانی حل نہیں نکل رہا تھا اُدھر یہ عالم کہ سات ارب روپے کا معاملہ پچاس روپے میں نپٹ گیا ہے۔ شریف فیملی نے سات ارب روپے کیا دینے ہیں‘ وہ تو اس کی تحریری گارنٹی بھی نہیں دے رہے اور سزا یافتہ ہونے کے باوجود تاریخ میں پہلی بار ای سی ایل سے نام نکلوا کر بیرون ملک جانے کی ایک نئی مثال قائم کر چکے ہیں۔ کیا یہ سہولت مجھے مل سکتی ہے؟ یقینا اس کا جواب ''نہیں‘‘ ہے۔ حالانکہ آئین پاکستان کے ہر شہری کو برابر کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے‘ لیکن آئین کی ضمانت اور پاکستان بھر کی جیلوں میں بند بیمار قیدیوں کی ضمانت پر رہائی میں جو طبقاتی فرق حائل ہے وہ ظاہر ہے کہ محض لکھنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔

ہمارا آئین لکھا ہواہے اور اس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے‘ جبکہ برطانیہ کا آئین کہیں لکھا ہوا نہیں ہے‘ لیکن وہاں ہر شہری کو حاصل حقوق کے درمیان کوئی طبقاتی فرق حائل نہیں ہے۔ برطانوی شہزادے اور تخت کے وارثوں میں چھٹے نمبر کی ترجیح رکھنے والے پرنس ہیری کی بیوی میگھن مارکل کو شادی کیے آج ایک سال آٹھ ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں اور اس دوران وہ ایک بچے کی ماں بھی بن چکی ہے‘ مگر وہ تاحال برطانوی شہریت حاصل نہیں کر سکی‘ حالانکہ اس کی برطانوی شہریت کا کیس نومبر 2017ء میں یعنی دو سال قبل ہونے والی منگنی کے فوراً بعد داخل کر دیا گیا تھا‘ مگر عام شہریوں کی طرح ابھی اس کی درخواست کا نمبر نہیں آیا۔ جونہی نمبر آیا اس کی درخواست پر کارروائی کرکے اسے برطانوی شہریت دے دی جائے گی۔ کاش ہمارا آئین غیر تحریری ہوتا۔ بھلے لکھا نہ ہوتا مگر زبان کا پکا ہوتا۔ تیسرا فریق خود مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف فیملی ہے‘ جو سات ارب روپے کے مطالبے کو پچاس روپے میں بھگتانے پر خوشی سے بے حال ہوئی جا ر ہی ہے۔

فیملی نے جس طرح سات ارب کے گارنٹی نامے کو بنیاد بنا کر تین دن ضائع کیے اس سے ایک بات تو طے ہے کہ اسے پیسے بہر حال میاں نواز شریف کی زندگی سے زیادہ عزیز تھے۔ رہ گئی بات اصولوں کی یا ان بلند بانگ دعوئوں کی جو مسلم لیگ ن کی قیادت اور شریف خاندان کیا کرتا تھا تو نواز شریف کی لندن روانگی نے پاکستان میں پاکستان کے لیے جان دینے کے بیانیے کی مکمل نفی کر دی ہے۔ نیلسن منڈیلا سے موازنہ کرنا بڑا آسان ہے‘ مگر نبھانا مشکل تر اور میاں نواز شریف اس امتحان میں ایک بار پھر اسی طرح ناکام ہوئے ہیں جس طرح وہ ہر بار آزمائش میں ''موقعہ واردات‘‘ سے کھسک جانے میں عافیت سمجھتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف استقامت کے امتحان میں ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔رہ گئی بات مٹھائی تقسیم کرنے کی تو ہمارے عوام میدان چھوڑ کر بھاگنے والے اپنے لیڈر کو اس دوڑ میں اول آنے پر گولڈ میڈل کا حقدار قرار دے سکتے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے ملک کے سیاسی منظرنامے پر تین کردار سٹیج پر تھے اور تینوں کے تینوں اپنے اپنے امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے فیل ہوئے ہیں۔ لیکن کیا عجب معاملہ ہے کہ تینوں فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ یہاں عزت‘ بے عزتی‘ جیت‘ ہار‘ فتح اور شکست کے درمیان کوئی حدِ حاصل ہی باقی رہی۔ لیکن وہی بات! ہمارا کیا جاتا ہے؟