مسلم تہذیب،انحطاط کے عوامل - پروفیسر جمیل چودھری

ُگزشتہ مضمون کا دوسرا حصہ پیش ہے۔ایک مشہور مورخ کاقول ہے"تہذیبوں میں انحطاط بڑے آرام اورسکون سے شروع ہوتا ہے"تہذیب میں موجودحکمرانوں،شہزادوں،سپہ سالاروں اور دانش وروں کو اسکی شروعات کاکچھ پتہ نہیں چلتا۔بڑی تہذیبوں میں اسکی رفتار آہستہ روی کاشکار ہوتی ہے۔سپینگلر نے"زوال مغرب"نامی کتاب ایک صدی پہلے لکھ دی تھی۔ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہاتھا کہ مغربی تہذیب ایک ہزار سال پورے کریگی۔

اگر ہم اس وقت کرۂ ارض پرنظر ڈالیں تو ہمیں کئی طاقتور اورترقی یافتہ تہذیبیں نظر آتی ہیں۔کرۂ ارض پر مسلم تہذیب انکے بالمقابل انتہائی کمزور اور غلامانہ حیثیت کی حامل نظر آتی ہے۔مسلم تہذیب کو اوپر اٹھانے میں اسلام نے اہم رول اداکیاتھا۔اسلام نے جس طرح اوپر اٹھنے میں مدد کی ۔اس کے نتیجے کے طورپر گرنے میں اس کارول تلاش کرنا خاصا غیر منطقی عمل ہے۔اگر واقعی زوال کی وجہ اسلام ہوتاتو مسلمان کیوں اتنے طویل عرصے تک کسی ایسے مذہب سے چمٹے رہتے جو انکے لئے پریشانیوں میں اضافے اورانحطاط کا ذمہ دار رہاہو۔انحطاط کے دوران صدیوں سے اسکے احیاء کی تمناجاری ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ تمنا اب زورپکٹر رہی ہے۔بعض ایسے سکالرز ہیں جن کے خیال میں اسلام نے اپنے دوراول میں تومسلمانوں کی ترقی کی ضمانت دی تھی۔لیکن آج کا مسلمان غریب اور غیر ترقی یافتہ اس لئے ہے کہ وقت کے ساتھ اسلام کے وہی اصول جو ماضی میں ترقی کے ضامن تھے۔آج انجانے طورپر اس راہ کی بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔Kuranنامی دانش ورنے کچھ ایسے اسلامی اصولوں کا ذکر کیا ہے۔

جو ترقی کے مخالف ہیں۔لیکن وہ اپنی بات کو مثالوں سے ثابت نہیں کرسکے۔جیسا کہ ہم گزشتہ قسط میں دیکھ چکے ہیں کہ زرعی اور سائنسی انقلاب جو ابتدائی اسلامی دور میں کارفرما ہوچکاتھا۔وہ صنعتی انقلاب میں نہ ڈھل سکا۔اس کی بہت سی وجوہات میں ایک سیاسی لاقانونیت تھی۔جس کے نتیجہ میں نجی حق ملکیت محفوظ نہ رہ سکا۔لوگوں نے ظالمانہ ٹیکسوں سے بچنے اور دولت پر قبضے کے خوف کی بناء پر اپنی دولت کوچھپایااور اس طرح کارخانے اور کاروبار چھوٹے ہی رہے۔اس ماحول میں بڑے کاروبار کی ترقی ممکن نہ تھی۔اگرایسا نہ ہواہوتا تو تقسیم املاک کے اسلامی طریقہ کار نے بڑے کاروبار کی حوصلہ افزائی کی ہوتی۔اور لوگوں نے اپنامال اس نوع کے کاروبار میں حصہ کے طورپر لگانے کو ترجیح دی ہوتی۔جہاں تک اوقاف کا تعلق ہے اسلام کے اولین دور میں ہی یہ قائم اورمستحکم ہوناشروع ہوگئے تھے۔

یہ اوقاف یورپ سے بہت پہلے قائم ہوئے۔ترقی میں ان کا بڑا واضح رول رہا ہے۔اوقاف سے بڑے بڑے کام ہوئے جن میں تعلیم،صحت،سائنس کی لیبارٹریز،مسجدوں کی تعمیر ،یتیم خانے،طلباء واساتذہ اور مسافروں کے لئے ہوسٹل،کنویں اورہسپتال ممتاز ہیں۔یہ اس وقت ہو اجب اوقاف کا نظام مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم تھا۔پھر اس کے بعد اوقاف کے نظام میں بدعنوانیاں پھیلنا شروع ہوئیں۔اوقاف کی اصل دستاویزغائب ہوگئیں۔اوقاف فعال نہ رہے۔دورجدید میں پھر ان اوقاف کی طرف توجہ مبذول کی جانے لگی ہے۔ان حالات کو دیکھ کر یہ امید پیدا ہوچلی ہے کہ نجی اور غیر سرکاری خدمت خلق کے ذریعہ معاشرہ کی ترقی میں اوقاف ہی فعال کردار ادا کرنے لگیں گے۔جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔اوقاف اسلام کا پیش کردہ تصور ہے۔لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام مسلمانوں کے انحطاط کاذریعہ ہے۔

بلکہ وہ اثرات بد ہیں جو سیاسی مطلق العنانی،غیر محفوظ حقوق ملکیت اور تعلیم وسائنس ،ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے لئے ضروری ریسرچ وتحقیق کے لئے حکومت کی بے توجہی سے پیداہوئے ہیں۔مغربی ممالک کی جمہوری حکومتوں نے ترقی کے لئے متعدد طریقے اپنائے ہیں۔جس میں حقوق ملکیت کو تحفظ فراہم کرنا اور تعلیم وتحقیق کوہرنوع کی مدد فراہم کرناشامل ہے۔اس طرز کی ترقی نے کارپوریشن کے قیام کی ضرورت پیداکی ہے۔غیرقانونی حکومتیں جوعوام کو جواب دہ نہیں ہوتیں ان پر ترقی کے اقدامات کرنے اور حقوق ملکیت کے نفاذ کے لئے کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔اخلاقی زوال مسلمانوں کے انحطاط کاسبب ضرور بنا۔اس سے مسلمانوں کااتحاد پارہ پارہ ہوا۔اخلاقی زوال نے مسلمانوں کی تخلیقی قوتوں کوبالکل ناکارہ کردیاتھا۔اور وہ درپیش چیلنجز کامقابلہ کرنے کے اہل نہ رہے تھے۔مردہویاعورت دونوں کی صلاحیتیں موافق ماحول میں ہی ترقی پزیر ہوتی ہیں۔

اخلاقی اور ٹیکنیکل تعلیم سے مکمل اکتساب مناسب ماحول سے ہی حاصل ہوتا ہے اور خود ان کی انفرادی صلاحیتو ں کا پوری طرح اظہار جب ہی ہوسکتا ہے جب سیاسی قانونی،معاشی اور معاشرتی ادارے اجتماعی عدل کو یقینی بنائیں۔اس موافق ماحول کے آہستہ آہستہ ختم ہوجانے کے نتیجہ میں ہی شاید مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ آنا شروع ہوا۔ان کے باہمی اتحاد،قوت وتوانائی کونقصان پہنچا۔کیاغیر قانونی سیاسی عمل نے انحطاط کوتیزکردیاتھا؟۔ابن خلدون اور دوسرے اہم مفکرین ان سے پہلے ہوں یاان کے بعد آنے والے تاریخ اسلام کے بارے یہی رائے رکھتے ہیں۔خلافت راشد کا خاتمہ661ء میں ہوگیاتھا۔تخت خلافت پر حضرت امیرمعاویہؒ زبردستی قابض ہوگئے تھے اور679ء میں اپنے بیٹے یزید کے ذریعے موروثی اموی خلافت کا قیام ایک غلط تاریخی موڑتھا۔جس نے سیاسی لاقانونیت کابیج بودیا۔اس کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ میں خلاف راشدہ کے 30سال بعدہی موروثی بادشاہت کاتعارف ہوا۔ان بادشاہوں کو لامحدود اختیارات حامل تھے۔اوروہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم ممالک کیسے آگے بڑھیں - پروفیسر جمیل چودھری

ظاہرہے کہ یہ ان اقدار کے خلاف تھا جو اسلام نے خلافت اور شوریٰ کی شکل میں اسلام کے سیاسی نظام میں ضروری قرار دی تھیں۔اقدار کی اس خلاف ورزی نے مسلم معاشرہ میں بڑی بے اطمینائی کا عنصر شامل کردیاتھا۔صحابہ کرام اس تبدیلی سے بڑے پریشان ہوئے تھے۔اس موروثی حکمرانی کے نظام کو بغاوتیں بھی نہ روک سکیں۔اس کے بعد اموی،عباسی مملوک اور ترکان عثمان کے دور تک حکمرانی موروثی ہی رہی اور حکمران عوام کے سامنے جواب دہ نہ رہے۔ان موروثی بادشاہوں کے لئے جتنے فنڈز اکٹھے ہوتے وہ اپنے ذاتی مرضی سے خرچ کرنے لگے تھے۔بہت بعد میں مسلم علاقوں کی زرعی زمینیں بھی پسند کے لوگوں میں تقسیم کی جانے لگی تھیں۔اس طرح معاشی انصاف کا قتل شروع ہوگیاتھا۔ابتدائی شوری کے نظام نے ترقی کرکے کسی مستحکم جمہوری نظام کو تخلیق نہ کیا۔اقتدار جنگوں کے ذریعے بھی حاصل کئے جاتے رہے۔یہ مسلم تہذیب کے انحطاط میںبڑا عامل ہے۔750ء کے بعد بنوعباس5۔صدیوں تک حکمران رہے۔

لیکن وہاں بھی ہمیں موروثی حکومتیںہی نظر آتی ہیں۔مشیران بھی اپنی پسند کے رکھے جاتے اور ان سے یہ توقع کی جاتی کہ وہ خلیفہ کی ذاتی خواہشوں کے مطابق مشورے دیں گے۔1258ء میں جب منگولوں نے بغداد کو اور اردگرد کے علاقوں کوتباہ برباد کیاتو یہ انحطاط کاایک بڑاموڑ شمار کیاجاتا ہے۔لیکن نئی تحقیق کے مطابق بغداد اور ارد گرد کی لائبریریوں میں رکھے ایک لاکھ کتابوں کے نسخے بچالئے گئے اور نصیرالدین طوسی نے اسے ایرانی شہر مراغہ کے قریب ایک عمارت میں منتقل کردیا۔سائنسی تخلیقات کاکام1258ء کے بعد بھی جاری رہا۔ترکوں نے آگے بڑھ کر ایک بڑی مسلم سلطنت ضرورقائم کی۔انہوں نے 1517ء میں مصر وشام اور1534ء میں بغداد اور تبریز پر قبضہ کرلیاتھا۔یہاں کچھ صدیوں کے لئے مسلمان مستحکم نظر آتے ہیں۔گزشتہ2۔صدیوں کے انتشار کے بعد ایک بڑی سلطنت کا قیام ایک نعمت تھی۔

معیشت کو وسیع ترمنڈی کے وہ تمام فوائد دوبارہ حاصل ہوئے۔جو1258ء سے پہلے حاصل تھے۔ترکوں میں بھی حکمرانی چونکہ موروثی ہی تھی اور شوریٰ کا نظام برائے نام ہی تھا۔لہذا حکمرانوں کی جواب دیہی کا تصور اور عوام کا یہ حق کہ وہ حکمرانوں کی پالیسیوں اور انکے انداز کا رپر کھل کر تنقید کرسکیں۔باقی رہتاتو اس کے نتیجے میں حکومت زیادہ ماثر ہوتی۔قیام عدل میں مددملتی،قانون کی بالادستی اور امن قائم رہتا۔اس طرح موجودوسائل کا بہتر استعمال ہوتا۔اور وسیع ترترقی کا اعلیٰ مقصد حاصل ہوتا۔حکمرانوں کے لئے جواب دیہی کا احساس جتنا زیادہ ہوگا،اظہار خیال کی آزادی کا حق اتنا ہی جوش ومستعدی سے استعمال کیاجاسکے گا۔مسائل پر آزاد بحث ومباحثہ ان کے بہتر کل کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے۔یہ ماحول ترقی کے لئے فائدہ مندہوتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ آج بھی عالم اسلام کوئی ایسا طریقہ وضع کرنے میں ناکام نظر آتا ہے جس کے ذریعے پر امن طورپر اقتدار کی منتقلی ہوسکے۔مسلم ممالک پر آج بھی چند ایک کے سوا،فوجی آمر اور موروثی بادشاہ نظر آتے ہیں۔سرکاری پالیسیوں کے عوامی احتساب کی راہیں خاصی مشکل ہیں۔

البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں سیاسی محاظ پرجوبڑی غلطی ہوچکی ہے۔اب امت مسلمہ اصلاح کی طرف راغب ہورہی ہے۔ترکی،پاکستان،ملائیشیاء،انڈونیشیاء اور ایران میں جمہوری حکومتیں قائم ہوچکی ہیں۔یہ مثالی تو نہیں ہیں۔البتہ اصلاح کا عمل جاری رہتا ہے۔معاشروں کازوال کسی گیند کے ڈھلان سے نیچے لڑھکنے کے مانند نہیں ہوا کرتا۔ابن خلدون کے مطابق ایک خاندان حکومت کو ختم ہوتے ہوتے کل 120سال یعنی 3نسلیں لگ جاتی ہیں۔لیکن یہ باتیں صرف کہنے کی حد تک ہیں۔عمل کی دنیا بالکل ہی مختلف ہے۔جیسے عباسی اور ترک کئی کئی صدیوں تک حکمران رہے۔خلافت کے زوال سے پوری شریعت اسلامیہ کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی۔بلکہ لوگوں کے اذھان وقلوب کو زندگی کے مختلف دائروں میں یہ متاثرکرتی رہی۔چنانچہ خلافت غیر قانونی ہونے کے باوجود بعد میں آنے والے کئی خلفاء ظلم وبربریت سے بہت دور رہے۔عوام کوشریعت نے اس حد تک مسخر کرلیاتھا کہ بالکل مطلق العنان حکمرانوں کی بھی یہ جرأت نہ تھی۔کہ اس کے خلاف کچھ کرسکتے یااس سے صرف نظر کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا عروج: عوامل کونسے تھے - پروفیسر جمیل چودھری

خلافت سے متعلق بعض فلاحی کام کرتے رہنا ان کے لئے ضروری تھا۔اور یہی انکی اخلاقی مجبوری تھی۔خلافت کی اصطلاح میں بڑی جاذبیت ہے۔اور اسکے اندرتوانائی پائی جاتی ہے۔چنانچہ بہت سے سابقہ خلفاء اپنی ذات میں بڑ ے باصلاحیت اور عدل پسند تھے۔غیر قانونی ہونے کے باوجود اس سے قوت کشید کرتے رہے۔اور یقیناً انحطاط کی رفتار کو تیز نہ ہونے دیا۔مسلم تہذیب کاانحطاط کسی بھی طرح عمودی نہ تھا۔نظام عدل بھی صدیوں تک دباؤ سے آزاد بلاخوف،انتہائی ایماندار اور امانت داررہا۔جس کے نتیجہ میں قانون کی بالادستی قائم رہی۔اشیاء کی پیداوار اور تجارت میں ترقی ہوتی رہی۔اورعوام کی حالت کافی حد تک بہتر رہی۔مسلمانوں کے آخری ادوار خاص طورپر ترکان عثمانی کے دور میں وسائل سے زیادہ خرچ کرنے کی روایت پڑ چکی تھی۔ترک اپنی سلطنت کی توسیع میں تو لگے رہے۔اس کے لئے دفاعی بجٹ بڑھاتے رہے۔

لیکن عوام کی فلاح وبہبود جس میں تعلیم وصحت پہلے آتے ہیں۔اس پر توجہ نہ دے سکے۔1609ء میں آتے آتے ترکوں کی تنخواہ دار باقاعدہ فوج ایک لاکھ تک ہوگئی۔اس کے لئے بے پناہ وسائل استعمال ہونے لگے۔جب معاشی مسائل سراٹھا رہے تھے تودفاعی بجٹ کو محدود کرناضروری تھا۔لیکن ترکوں نے صرف سلطنت کو پھیلانا اسلام کا مقصد بنالیاتھا۔اپنے زیر نگران علاقوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کی طرف انکی توجہ بالکل نہ رہی تھی۔یورپ میں کالج اور یونیورسٹیاں تیزی سے بن رہی تھیں۔صنعتی انقلاب آرہاتھا۔لیکن بالکل ہی متصل ترکی ان کاموں سے بہت دورتھا۔دفاعی اخراجات پوراکرنے کے لئے عوام پر ٹیکسوں کی شرح تیزی سے بڑھائی جارہی تھی۔یوں پورے ترک معاشرے میں عدم اطمینان پیدا ہوناشروع ہوا۔بالکل آخری دورمیں اسی کمزوری کوبرطانیہ اور فرانس نے آکر کیش کرایا اور ترک سلطنت کوٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔

18ویں اور19ویں صدیوں میں یورپ میں سائنسی ایجادات وتخلیقات ہورہی تھیں لیکن ترکوں نے اس کام کی طرف توجہ نہ دی۔بدلتی ہوئی یورپی دنیا کے ساتھ نہ ہی ترک چل سکے اور نہ ہی صفوی اور مغل حکومتیں۔یوں انحطاط نے تورفتار پکٹرنی ہی تھی۔آخر میں ایک بات بیان کرکے کالم ختم کرتے ہیں۔جب1492ء میں کولمبس نئی دنیا کی دریافت کے لئے روانہ ہوا۔وہ اپنی پہلی مہم کی بجائے کہیں تیسری مہم میں کامیاب ہوا۔اور پھر16۔ویں اور17۔ویں صدی میں آدھی نئی دنیا دریافت ہوگئی۔اس تمام دنیا پر صرف عیسائی یورپ ہی قابض ہوا۔اس سے یورپ دولت مند ہوگیا۔تعلیم،سائنس،ایجادات اور صنعت میں بہت آگے بڑھ گیا۔تب ترکان عثمان صفوی اور ہندوستانی مغل حکمران کیاکررہے تھے؟۔اس سوال کا مجھے کہیں جواب نہیں ملتا۔اگر اب ہمیں عیسائی یورپ نئی دنیا تک پھیل کر بہت ترقی یافتہ اور طاقتور نظر آتا ہے۔

تو ہمیں اس کے بالمقابل مسلم تہذیب میں انحطاط ہی نظر آئے گا اسے ہم بیرونی فیکٹر ہی کہیں گے۔اورپھر یورپ نے اپنی سائنس اورٹیکنالوجی کی طاقت سے پرانی مسلم دنیا پر قبضہ کرلیا۔غلامی انحطاط کی آخری شکل ہوتی ہے۔اس وقت بہت سے بڑے مسلم ملک اقوام متحدہ کے تحت قائم بنکوں کے مقروض ہوچکے ہیں اور باقی مسلم عرب دنیا پر امریکہ نے اپنے ٹروپس کے اڈے بنالئے ہیں۔اسے ہم انحطاط کی بجائے کھائی میں گرنا ہیں کہیں گے۔زمین پر موجود صرف ترکی اور ملائیشیاء ہی نظر آتے ہیں۔طاقتور یورپ ،سپرپاور امریکہ،طاقتور روس،کوہ ہمالیہ جیسااونچا ہوتاہواچین،ٹیکنالوجی اور صنعت میں موؤنٹ ایورسیٹ پر بیٹھا ہواجاپان۔مسلم تہذیب کو صرف انحطاط سے نکلنا ہی نہیں بلکہ ان بلند چوٹیوں پر بیٹھی ہوئی طاقتوں کے مقابل آنا ہے۔مسلم تہذیب کے ذمہ داروں کو آگے قدم تورکھنا چاہئے۔