ڈی پی او صاحبان، توجہ فرمائیں - شاہد مشتاق

میں نشے میں تھا ہلکا سا جھٹکا لگا اور چلتی ریل سے باہر جاگرا مجھے شدید زخمی حالت میں ہسپتال لیجایا گیا ، ڈاکٹر نے بیہوش کرنے کے لئے انجیکشن دیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، جھنجلاکر اس نے میرے سر پہ کوئی وزنی شے ماری جس سے میرے ہوش خطا ہوئے ، جب میں واپس ہوش میں آیا تو پتہ چلا میرا کچلا ہوا ایک پاوں اور آدھا ہاتھ کاٹ دیا گیاہے"۔
میں سیالکوٹ سے کراچی جارہا تھا کہ لاہور کےقریب میرا ایکسیڈنٹ ہوا، سرکاری ہسپتال تھا اوپر سے میری حالت بالکل ویسی ہی تھی جس طرح منشیات کے عادی افراد کی ہوا کرتی ہے ۔ ڈاکٹر نے جلد ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا اور روزانہ آکر پٹی بدلوانے کی تاکید کی ، گنے کا جوس بیچنے والے ایک شخص نے مجھے سہارے کے لئے ایک مضبوط گنا دے دیا جس کے سہارے میں بڑی مشکل سے روزانہ سڑک کے اس پار سے ہسپتال پہنچتا اور پٹی بدلنے کے بعد واپس وہیں جاکر پڑا رہتا ۔

اس طرح سات روز گزر گئے۔ سخت سردی میں ٹھٹھرتا بھوکا پیاسا میں وہیں پڑا رہا ، ماں پہلے ہی فوت ہوچکی تھی والد صاحب اور بہن بھائی سارے کینڈا میں تھے انہوں نے میرے علاج کے لئے بہت کوشش کی اور پھر میری ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ بھی مجھے میرے حال پہ چھوڑکر مایوس ہو چکے تھے ، بیوی دو خوبصورت بیٹوں کو لے کر اپنے میکے چلی گئی تھی، آج میں بالکل اکیلا تھا اور زخم گندگی ، سردی اور بہتر علاج نا ہونے کی وجہ سے خراب ہونا شروع ہوگیاتھا، پھر ترس کھاکر ایک غریب آدمی نے مجھے کسی طرح سیالکوٹ ماموں کے گھر پہنچایا"۔

کوئی بارہ سال پہلے کی بات ہے سلیم عرف پپو مجھے اپنی کہانی سنارہاتھا اور میں سوچ رہا تھا کبھی یہ شخص کتنا خوبصورت اور سلجھا ہوا نوجوان تھا افسوس نشے نے اسے برباد کرکہ رکھ دیا۔
یہ کہانی میرے اپنے کزن کی ہے جو زخم تھوڑا ٹھیک ہوتے ہی پھر گھر سے نکل گیا اور اب پچھلے دو تین سال سے کچھ پتہ نہیں کہاں ہے؟ زندہ بھی ہے یا۔قارئین کرام ! ایسی سینکڑوں کہانیاں ہمارے اردگرد بکھری ہوئی ہیں ہم روز اپنے اس پاس پڑھے لکھے خوبصورت نوجوانوں کو نشے کی لت کے ہاتھوں برباد ہوتا دیکھتے ہیں ، ہمارے شہروں کا کونسا محلہ اور گاوں اس بلا سے محفوظ ہے ، منشیات ہر جگہ سے باآسانی مل جاتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ؕایک سچ ایک کہانی - آن ڈیوٹی - سعدیہ نعمان

جب میرے جیسا ایک عام آدمی دسیوں ایسے افراد کو جانتا ہے جو ہر قسم کا نشہ بیچتے ہیں تو پولیس والے کیسے ایسے جرائم پیشہ افراد سے لاعلم ہوسکتے ہیں ، یقینی طور پہ یہ نشہ بیچنے جیسے سارے غیر انسانی کام پولیس کی سرپرستی میں ہی کئے جاتے ہیں ۔عثمان بٹ سمبڑیال کی صحافت میں ایک بڑا نام ہیں گذشتہ ہفتے جب انہوں نے مجھے ایک کام سونپا تو میں حیران رہ گیا کہ کیسے یہ مکروہ دھندہ ہر طرف جڑیں پھیلا چکا ہے پورے پورے خاندان ہیں جو چرس ، شراب اور افیون کا کاروبار کررہے ہیں ، واضح رہے کہ سیالکوٹ کے قریب ہر گاوں میں چرس اور بھنگ عام پی جاتی ہے بلکہ میں نے کئی افراد سے خود سنا کہ وہ اسے نشہ ہی نہیں سمجھتے ۔

آج کل عموما" اعلی افسران ذمہ دار فرض شناس نوجوان ہیں ،امید ہے وہ خود حالات کا جائزہ لیں گے اور منشیات فروشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاون کریں گے۔ گزشتہ ماہ سینئر صحافی بھائی ناصر وڑائچ ، ایک فیکٹری مالک( نام ظاہر کرنے سے منع کیاہے) اور دیگر کچھ دوستوں کی مددسے " طاہرویلفئر فاونڈیشن " نےکچھ غریب اور مستحق افراد کی مالی مدد اور انکے روزگار کا بندوبست کیاتھا، جس میں ایک معذور شخص کو سیکنڈ ہینڈ رکشہ بھی دلوایا گیا تھاالحمدللہ۔

وسائل کی کمی ضرور ہے لیکن جذبے جوان اور پرعزم ہیں ، کام کی بالکل ابتداء ہے اس کے باوجود کافی سارے لوگ رابطہ کررہے ہیں اپنے مسائل کے سلسلے میں ، مخیر اور مخلص احباب سے دعاوں کے ساتھ تعاون بھی درکار ہے اس کے علاوہ کوئی کوالیفائڈ ڈاکٹر اگر مستحق مریضوں کا مفت علاج کرنے کا شوق رکھتے ہوں تو وہ بھی مجھ سے اس نمبر 03338813856پر رابطہ کریں ۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "مسلمان جب تک کسی دوسرے بھائی مدد کرتا رہتا ہے ، اللہ تعالی اس کی مدد کرتے رہتے ہیں " آئیے نشے سمیت دیگر برائیوں کے خاتمے کے لئے خدمت اور جرات سے کام لیں ۔