اردگان ! زبیر منصوری

اردگان دل جیت لیتے ہو پیارے ! ایسا کچھ کر گزرتے ہو کہ تمہارے ہاتھ چوم لینے کو دل کرتاہے . اقوام متحدہ میں تم نے جس طرح چندتصویروں سے دنیا کے ٹھیکیداروں کو برہنہ کر دیا دل خوشی سے بھر دیا . تمہیں برما سے کشمیر تک ساری ہی امت یاد ہے اس کی فکر ہے .

کرد بچے کی لاش تمہیں تڑپاتی ہے توتمہارے چہرے اور آنکھوں کی نمی دل کی کیفیت کا اشتہار بن جاتی ہے تم تنہا سارے عالم کے سامنے یوں ڈٹ جاتے ہوگویا اللہ پر تمہارا ایمان چٹان جیسا ہو! اور ایک یہ ہمارے حاکم ہیں جن کے دل کافروں کے خوف سے کانپتے ہیں جو لفظوں کے شیر اور چیتے ہیں مگر عمل میں اپنی قوم پر لومڑی ، بھیڑئیے اور دشمن کے سامنے گیدڑ۔۔اردگان تمہیں امت کی جنگ لڑنی ہے غیرت و حمیت تمہارا توشہ بنے کبھی تنہا نہ سمجھنا خود کو تمہارے لئے شامی مائیں چادریں اٹھا اٹھا کر دعائیں کرتی ہیں . کشمیر کی بیٹیاں اور وہ بوڑھا شیر علی گیلانی شاید ان سے مایوس ہو چکا جن کی محبت میں اس نے آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی تھی وہ بھی تمہاری راہ تکتا ہے . وہ دیکھو برما کی مسلمان عورتوں کے سر ڈھکنے کے لئے جب تمہاری بیوی وہاں پہنچی تھیں تب سے تم ان کی آس و امید کا مرکز ہو . صلاح الدین ایوبی اورمحمد بن قاسم کےاصل وارث تم ہی ہو . دیکھو مجھے نہیں معلوم تمہیں اپنی زندگی میں کون کون سی کامیابیاں دیکھنی ہیں مگر بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے پیچھے بہت سے لیڈرز چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے اپنے پیچھے امت کو بانجھ نہ چھوڑنا ، تنہا نہ چھوڑنا ، اداس نہ چھوڑنا .

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.