کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئین سے فٹبال کھیلیں؟چیف جسٹس

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز اور ’ایکشن ایڈ اینڈ سول پاور‘ سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومت کی اپیلوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ انسانی وقار کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بڑی احتیاط سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ شدت پسندوں نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے سر تن سے جدا کر کے ان سے فٹبال کھیلی ہے اور ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ایسے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آئین کے ساتھ فٹ بال کھیلیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ چاہے کوئی بدترین مجرم ہی کیوں نہ ہو اس کے بنیادی حقوق کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور عدالت قانون کے مطابق ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کی ضامن ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان حراستی مراکز میں جن لوگوں کو رکھا گیا ہے ان پر یہ الزام ہے کہ وہ ملک دشمن ہیں اور یہ الزام ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے وفاق اور صوبائی حکومت کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل اور صوبہ خیبر پختون خوا کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایسے قوانین بنانے سے پہلے کیا اس بارے میں دیکھا گیا کہ کیا اس سے پہلے ملک میں کسی بھی شخص کو حراست میں رکھنے کا قانون موجود ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی نے ایسے قوانین کا مسودہ تیار کرتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس قانون کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کے ارٹیکل 245 کے تحت فوج کا کام بیرونی خطرات اور جارحیت سے نمٹنا ہے جبکہ اس ارٹیکل کے دوسرے حصے کے مطابق فوج کا سول انتظامیہ کی مدد کرنا ہے اور آئین کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد قانون کے تحت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   دو خبریں چار ممالک - حبیب الرحمن

اُنھوں نے کہا کہ فوج کے بارے میں قانون سازی صوبوں کا نہیں بلکہ وفاق کا اختیار ہے اور 25ویں ترمیم میں پہلے سے رائج قوانین کو تحفظ نہیں دیا گیا اور نہ ہی وفاق نے 25 ویں ترمیم کے بعد کوئی قانون سازی کی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں دونوں کو قانون سازی کا اختیار ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوج سے متعلق قانون سازی صوبے نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو حراست میں لینے کا اختیار آج بھی صوبوں کے پاس ہے جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ پہلے حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا تعین کریں گے پھر اگلی بات ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر قانونی سازی آئین کے خلاف ہوئی تو آرٹیکل 245 کا تحفظ نہیں ملے گا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سول انتظامیہ کی مدد کے حوالے سے صوبے قانون بنا سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت نے گذشتہ سماعت کے دوران جوتین سوال رکھے تھے اس کے بارے میں عدالت کو مطمئن کروں گا۔


بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال اٹھایا کہ قانون سازی کا اختیار تو وفاق کے پاس ہوتا ہے اور کیا وفاق اپنا اختیار کسی صوبے کو تفویض کرسکتا ہے اور اگر ایسا ہو تو پھر تو وفاق کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سادہ الفاظ میں پوچھ رہی ہے کہ وہ آئین کے مطابق اس سوال کا جواب دیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی طبیعت ناساز ہے اس لیے ’تفصیلی موقف صحت یاب ہوکر دوں گا۔‘

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ دلائل نہیں دے سکتے تو عدالت میں کیوں آئے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپ نے جارحانہ ہونا ہے تو میں دلائل نہیں دے سکتا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو بیٹھنے کا حکم دیا اور صوبہ خیبر پختون خوا کے وکیل قاسم ودود سے کہا کہ وہ اس بارے میں عدالت کو مطمئن کریں کہ کیا صوبائی حکومت کو ایسے قوانین بنانے کا اختیار ہے جس طرح کے قوانین پہلے سے ہی رائج ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

قاسم ودود کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ایسے قوانین نہیں بنائے بلکہ سنہ 2011 میں بنائے گئے قوانین کو جاری رکھنے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو تین ماہ تک ٹرائیل کے بغیر رکھا جاسکتا ہے اور اس کے بعد رِویو بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مذکورہ بورڈ حراست میں رکھے گئے شخص کو مزید حراست میں رکھنے سے انکار کردے تو پھر ایسے شخص کو ہر حال میں چھوڑنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ حراستی مراکز میں تو لوگ سالہا سال سے پڑے ہوئے ہیں اور ان کی شنوائی نہیں ہے۔


چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت ان حراستی مراکز میں رکھے گئے ہر شخص کا ریکارڈ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ رویو بورڈ کے اجلاسوں کا ریکارڈ بھی طلب کرے گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وکیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس نہیں بلکہ پارلیمان اور بالخصوص قومی اسمبلی کے پاس ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے صوبہ خیبر پختون خوا کے وکیل سے کہا کہ وہ ان افراد کو حراستی مراکز میں رکھنے کا جواز فراہم کریں ورنہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

بینچ کے رکن جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل اور صوبہ خیبر پختون خوا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے سرکاری طور پر ملک میں شدت پسندوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات تو جنگ کے بعد کیے جاتے ہیں تاہم اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر ایسی جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آئین کا ارٹیکل 10اے فیئر ٹرائیل کا حق دیتا ہے جسے کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان اپیلوں کی سماعت 25نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔