مودی نے کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کر کے اچھا کیا - الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے ایک نجی انڈین ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

منگل کے روز ریپبلک ٹی وی پر اینکر اوناب گوسوامی کو براہِ راست انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے ایسا کر کے ’کشمیر کی ماؤں اور بیٹیوں کو بچا لیا ہے۔۔۔ پاکستان میں جو کشمیر ہے وہاں لوگ آزاد نہیں ہیں‘۔

یاد رہے کہ حال ہی میں الطاف حسین نے ایک حالیہ تقریر میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی تھی کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دی جائے۔ الطاف حسین کا موقف ہے کہ چونکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق انڈیا سے تھا لہذا انھیں انڈیا میں رہائش کی اجازت دی جائے۔

ادھر اکتوبر میں لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔ اس موقعے پر میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چھیاسٹھ سالہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں ٹریزازم ایکٹ 2006 کی سیکشن 1 (2) کے تحت درج کیا گیا۔

یہ مقدمہ الطاف حسین کے 22 اگست 2016 کو کراچی میں ایک مجمع سے خطاب کی بنیاد پر کیا گیا جسے پولیس کے مطابق بعض یا تمام لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دہشتگردی کی ترغیب، اس کی تیاری اور دہشتگرد ی کی کارروائی پر مائل کرنے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران الطاف حسین نے پاکستانی حکومت پر متعدد الزامات بھی لگائے۔ انھوں نے پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران پر بدعنوانی کے الزامات لگائے اور کہا کہ وہ پاکستان نے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔انٹرویو کے دوران انھوں نے انڈیا کا قومی نغمہ 'سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا' بھی گایا۔ گزشتہ ماہ بھی ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ یہی گانا گا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

لندن میں مقیم الطاف حسین ٹیلیفون پر طویل دورانیے کی تقاریر کیا کرتے تھے، بعد میں جب پاکستان میں نجی نیوز چینلز کا آغاز ہوا تو یہ تقاریر نشر ہونے لگیں، نیوز چینلز کبھی کبھار تو بغیر کسی وقفے کے یہ تقاریر لائیو نشر کرتے تھے لیکن 2015 میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی تقاریر و تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مدعی کا موقف تھا کہ وہ پاکستان کی فوج اور قومی سلامتی کے خلاف بات کرتے ہیں۔یہ پہلا موقعہ نہیں جب الطاف حسین نے انڈئن حکومت سے مدد کی اپیل کی ہو۔

الطاف حسین کا مارچ 2017 میں ایک اور بیان سامنے آیا، جس میں انھوں نے انڈین وزیراعظم نردیندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں موجود مہاجروں کی مدد کریں۔ بقول ان کے پاکستان میں مقیم مہاجر دراصل انڈین ہیں اس لیے وزیراعظم مودی کو ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔