موجودہ سیاسی حالات اور اسٹیبلشمنٹ - احسن سرفراز

ایک طرف خان صاحب کے ان معاشی مشیروں کے پیش کردہ اعداد و شمار ہیں جو ٹماٹر سترہ روپے کلو بتاتے ہیں جبکہ دوسری طرف سٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ ہے جو ہوشربا مہنگائی اور کم ترین شرح نمو کا رونا رو رہی ہے۔ یقیناً خان صاحب کی حکومت پر عوامی و مقتدر حلقوں کی طرف سے اصل دباؤ معاشی ترقی کا ہی ہے،
جبکہ خان صاحب کی افتاد طبع مخالفین سے جنگ و جدل کی طرف آمادہ رہتی ہے، ایک پیج والوں کا اصل اختلاف بس اسی ایک موضوع پر ہے۔

ظاہر ہے معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ملک میں کسی قسم کا بھی سیاسی انتشار پہلے سے دگرگوں معیشت اور کاروباری طبقات کی مشکلات کو بڑھاتا ہے۔ اسمیں دوسری کوئی رائے نہیں کہ موجودہ حکومت باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت وجود میں لائی گئی، جسکے تحت نواز و زرداری کی سیاست کا خاتمہ اور اپنے قابل اعتماد مہروں کے ذریعے خان صاحب کا چہرہ آگے رکھ کر مکمل اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا تھا۔ اگر یہ سیٹ اپ عوام میں مقبولیت پالیتا تو کم از کم دس سال تک اسے توسیع دی جاتی۔ اسٹیبلشمنٹ کرپشن وغیرہ کے کیسز کا استعمال کسی مبینہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کیلیے نہیں کرتی، بلکہ اصل مقصد مخالفین کی مشکیں کس کر رکھنا ہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں بے لاگ اور غیر جانبدارانہ احتساب کبھی بھی حکمران اشرافیہ کی ترجیح یا مفاد میں نہیں رہا، کیونکہ جن مہروں کے سر پر خان صاحب کی حکومت کھڑی ہے انھیں بھی کرپشن کی فائلیں دکھا کر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے۔ اگر چوروں سے رقم کی برآمدگی اور بے رحم احتساب کا حقیقی چلن شروع ہو گیا تو بقول جسٹس آصف کھوسہ اس ملک میں سوائے سراج الحق کے کوئی بڑا سیاسی رہنما نہیں بچے گا، کیونکہ اس حمام میں اپوزیشن و حکومت سمیت سب ننگے ہیں۔

اب سوا سال کی حکومت میں جب خان صاحب احتساب، نظام کی تبدیلی، تعلیم وصحت میں ترقی، پولیس و ٹیکس کلچر کی اصلاح، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر بنانے، آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے جیسے بیشمار دعوؤں اور وعدوں کی طرف پیش رفت کرنے کی بجائے یوٹرن لے چکے ہیں۔ خان صاحب اور انکی ٹیم کے بارے تمام خوش فہمیاں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں، معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے، عام عوام سمیت معاشرے کے تمام طبقات بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں سے نالاں نظر آنے لگی ہے۔ دریں حالات جہاں براہ راست خان صاحب کی حکومت دباؤ کا شکار ہے، وہیں انھیں لانے والی اسٹیبلشمنٹ کی پریشانی بھی انتہا کو پہنچ چکی ہے، خان صاحب کی ناکامی کا بوجھ براہ راست انھیں لانے والے جنرل باجوہ بھی محسوس کر رہے ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے کام سست روی کا شکار ہے، کشمیر کا معاملہ بری طرح بگڑ چکا ہے، خطے میں انڈیا کی بالادستی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور ہمارے دوست سمجھے جانے والے ممالک بھی معاشی تعاون میں پاکستان کی بجائے انڈیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلیے اسٹیبلشمنٹ بھی اب مختلف محاذ بیک وقت کھولنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اسکی بھی خواہش ہے کہ اب دیگر سیاسی سٹیک ہولڈرز کے تحفظات پر بھی توجہ دی جائے.

یہ بھی پڑھیں:   اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ کون شامل ہیں؟ مفتی منیب الرحمن

ان سے سرد جنگ کا براہ راست گرم جنگ میں بدلنا کسی فریق کے مفاد میں نہیں، جبکہ اصل نقصان براہ راست عوام اور ملک کو ہی بھگتنا ہو گا۔ خان صاحب اس بدلتی ہوئی صورتحال کا ادراک کرنے کیلیے ابھی تک تیار نہیں، انکے لیے بنیادی ترجیح اب بھی اپنے مولا جٹ ٹائپ بیانات کو نبھانا اور عقل اور اخلاقی تربیت سے عاری اپنے سپورٹرز کو خوش رکھنا ہی ہے۔ خان صاحب ترکی کے رجب طیب اردوگان کی طرح کاش یہ بات سمجھ لیتے کہ معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہی وہ اصل طاقت ہوتی ہے جو ایک لیڈر کو اندرونی و بیرونی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ اگر خان صاحب کی ترجیح اول معاشی ترقی و عوامی فلاح کے اقدامات ہوتے تو وہ اپنی انا کی تسکین کیلیے نہ صرف اپنے مخالفین کی بھرپور مشکیں کسنے کی پوزیشن میں ہوتے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے منہ زور گھوڑے کو قابو میں رکھنا بھی انکے لیے مشکل نہ ہوتا۔ بہرحال اب ایک تھیوری یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر ہی سے ایک گروپ اپنی ساکھ کو اس حکومت سے نتھی رکھنے کی پالیسی کے حق میں نہیں رہا اور یہ گروپ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں بھی نہیں ہے.

اسی گروپ کی ایماء پر دھرنوں اور احتجاج کا جال بچھا کر عمران خان کے انتقامی جنون کو قابو میں رکھنے کی سبیل کی جا رہی ہے ۔ اگر اس گروپ کی کوششیں مکمل طور پر رنگ لے آئیں تو جنرل باجوہ ایکسٹینشن لینے سے عین وقت پر انکار کر سکتے ہیں ۔جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ اس بات کا عملی اظہار ہو گا کہ خان صاحب کی حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا گھنا سایہ اب کافی حد تک ہٹ چکا ہے اور اس حکومت کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا بوجھ اکیلے ہی اٹھانا ہو گا ، نیز عدالتوں سے اپنی مرضی کے نتائج لینا بھی اس حکومت کیلیے ممکن نہ رہے گا ۔ اسی لیے شائد خان صاحب نے اپنی حالیہ تقریر میں موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس سے تعاون کی اپیل بھی کر ڈالی ہے ۔ اگر جنرل باجوہ ایکسٹینشن لیتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہو گا کہ تمام تر تحفظات کے باوجود اس حکومت کو مزید موقع دیا جائے گا، الا یہ کہ مستقبل قریب میں کوئی بڑا اختلاف رونما ہو جائے یا خان صاحب خود بم کو لات مار بیٹھیں ۔ بہرحال اس حکومت کے پاس مدت عمل بہت کم ہے، اگر عوامی مشکلات اور بری معیشت کا تدارک نہ کیا گیا تو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی اس حکومت کو جانے سے نہ بچا سکے گی۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.