رنگوں کی بہار اور جیکا رانڈا- خالد مسعود خان

ایک عظیم الشان غلغلے کے بعد مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا پلان اے اور بی سے ہوتا ہوا سیدھا پلان ایف تک جا پہنچا۔ تعلیمی گریڈ سسٹم میں ''ایف‘‘ گریڈسے مراد فیل لیا جاتا ہے۔ درمیان والے پلان سی‘ ڈی اور ای وغیرہ خدا جانے کہاں چلے گئے‘ لیکن‘ ہمیں کیا؟ یہ حکومت اور مولانا کا ذاتی معاملہ تھا جو بالآخر چودھریوں کے طفیل اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ ہمارے نزدیک شروع سے ہی یہ معاملہ تھوڑا مشکوک اور مدقوق تھا۔ بقول چودھری بھکن یہ ''جٹ جانے تے بجو جانے‘‘ والی صورتحال تھی۔ ہمارا اس میں کوئی لینا دینا نہیں تھا؛ البتہ چودھری کو رحیم یار خان کے مولوی فضل الدین سے بڑی ہمدردی ہے‘ جسے اس کی اہلیہ نے اس دھرنے کی ''بے پناہ‘‘ ناکامی پر اتنا زد و کوب کیا ہے کہ موصوف نے اپنی گھر والی کیخلاف تھانے میں کارروائی کی غرض سے درخواست برائے اندراج ایف آئی آر دے دی ہے‘ تاہم اہلیہ محترمہ کا غصہ‘ غیض و غضب اور رد عمل بھی کچھ ایسا ناجائز نہیں۔ موصوفہ کا کہنا ہے کہ مولوی صاحب جو جے یو آئی کے بڑے سرگرم کارکن ہیں‘ اتنے دن گھر سے غیر حاضر بھی رہے اور پھر وزیراعظم کا استعفیٰ لیے بغیر پندرہ بیس دن بعد خالی ہاتھ منہ لٹکائے واپس آ گئے ہیں۔ بندہ گھر سے کچھ کمانے نکلے اور پھر خالی ہاتھ واپس آ جائے تو گھر والوں کو غصہ آنا بجا ہے۔ ممکن ہے کچھ اور مولویوں کو بھی گھر واپسی پر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو‘ جیسا رحیم یار خان کے مولوی فضل الدین کو کرنا پڑا ہے‘ تاہم دیگر متاثرین کے تھانے پہنچنے کی ابھی کوئی اور شہادت موصول نہیں ہوئی۔

ادھر دھرنے والا قصہ ختم ہوا ہے اور ادھر جنوبی افریقا سے محبی محمد علی انجم نے ایک درختوں بھری سڑک کی تصویر کے ساتھ پیغام بھیجا ہے کہ ''یہاں بہار آئی ہے اور ''جیکارانڈا‘‘ کے درختوں پر پھول کھلے ہیں۔ یہ بہار آپ کی آمد کی منتظر ہے‘‘۔ جیکارانڈا جنوبی افریقا میں بالعموم اور جوہانسبرگ میں بکثرت پایا جانے والا درخت ہے۔ میں نے اس کا نام پہلے پہل چند سال قبل سنا جب میں برادر بزرگ اعجاز احمد کے ساتھ ڈی ایچ اے اسلام آباد کے ''جیکارانڈا کلب‘‘ میں ٹھہرا تھا۔
ایمانداری کی بات ہے یہ لفظ پہلے کبھی سنا تک نہیں تھا۔ کمرے میں جاتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ جیکارانڈا بارے گوگل بھائی جان سے رابطہ کیا۔ پتا چلا کہ یہ ایک پھولدار درخت ہے جو جنوبی افریقا‘ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں‘ سپین‘ اٹلی‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ اور ارجنٹائن وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایشیا میں یہ نیپال میں بکثرت اگایا گیا ہے اور بس۔ صرف پھولدار درخت لکھنے سے اور مجھ جیسے کم علم شخص کے محض پڑھ لینے سے اس درخت کی خوبصورت کی حد تک پہنچنا ممکن ہی نہیں اور رنگوں کے بیان کا کیا ہے؟ یہ رنگ دیکھنے اور محسوس کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی حال جیکارانڈا پر بہار میں کھلنے والے پھولوں کا ہے۔ کاسنی‘ جامنی یا قرمزی رنگ سے بھلا کیا سمجھ آئے گی؟ انگریزی میں اسے Purple یا Lilac لکھ دیں بھی تو کیا بات بن سکتی ہے؟ رنگ اوروہ بھی قدرت کے ہوں تو صرف اور صرف دیکھنے کی چیز ہیں۔ یہی حال جیکارانڈا پر لگنے والے کاسنی پھولوں کا ہے۔

بچوں کو تو اب کاسنی یا جامنی کہیں تو انہیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ انہیں وہی انگریزی والے رنگ بتانے پڑتے ہیں۔ Lilac یا Purple۔ پھر انگریزی میں آگے سے اس کی اقسام ہیں۔ Pale Lilac، Bright Lilac،Rich Lilac اور French Lilac۔ نئی نسل کو تو اب اردو رنگوں کے نام بھی پوری طرح یاد نہیں۔ محض دو چار رنگوں کے بعد ان کی زبان دانی ختم ہو جاتی ہے۔ اردو میں رنگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو آہستہ آہستہ متروک ہوتی جا رہی ہے۔ سرخ‘ لال‘ عنابی‘ نیلا‘ آسمانی‘ اودا‘ دھانی‘ سرمئی‘ نقرئی‘ سبز‘ ہرا‘ مونگیا‘ بنفشی‘ سنہرا‘ پیلا‘ زرد‘ مٹیالا‘ نارنجی‘ بھورا‘ سفید‘ کالا‘ سیاہ‘ سلیٹی‘ بینگنی‘ قرمزی‘ جامنی‘ ارغوانی‘ جوگیا‘ کاسنی‘ لاجوردی‘ پیازی‘ مالٹی‘ فیروزی‘ چاکلیٹی‘ بسکٹی‘ بادامی‘ نسواری‘ خاکستری‘ مشکی‘ زعفرانی‘ احمریں‘ سوسنی‘ عنبری‘ یاقوتی‘ فالسئی‘ نارنگی اورروپہلا۔ کیا کیا رنگوں کے نام تھے‘ جو بولنے میں بھی ختم ہو گئے اور ذہن سے بھی محو ہو گئے۔ اب کسی کو خاکستری کہیں تو وہ ہونٹوں کی طرح منہ کھول کر کھڑا ہو جائے گا۔ اسے Beige کلر بتائیں تو فوراً سمجھ جائے گا۔

خیر سے اردو کی کسمپرسی ایک بالکل علیحدہ موضوع ہے۔
فی الحال توجیکارانڈا۔پریٹوریا اور جوہانسبرگ میں پہلا جیکارانڈا 1888ء میں لگایا گیا۔ یہ برازیل سے لایا گیا پودا تھا۔ آج جوہانسبرگ کی ایک سو کلو میٹر سڑکیں اور گلیاں جیکارانڈا سے بھری پڑی ہیں۔ جب بہار آتی ہے تو سر پر کاسنی پھولوں کی چھت اور نیچے زمین پر اس کا قالین بچھا ہوتا ہے۔ میں گرمیوں میں (یہاں پاکستان کی گرمیوں کے موسم کی بات کر رہا ہوں) جب جنوبی افریقا گیا تو میری رہائش اسی قسم کی ایک سڑک پر تھی‘ جس کی دونوں طرف صرف اور صرف جیکارانڈا کے درخت تھے۔ تب جنوبی افریقا میں شدید سردی تھی۔ پاکستان اور جنوبی افریقا کا موسم ایک دوسرے بالکل الٹ ہے۔ یہاں سردی‘ وہاں گرمی۔ یہاں خزاں ‘ وہاں بہار‘ یہاں گرمی وہاںسردی اور یہاں بہار تو وہاں خزاں۔ سو‘ آج کل جوہانسبرگ میں بہار ہے اور محمد علی انجم کا اصرار ہے کہ میں جوہانسبرگ آ جائوں‘ لیکن مشکل یہ ہے کہ میں امریکہ ''کوچو‘‘ کو ملنے جا رہا ہوں۔ سیفان اور ضوریز سے ملنا کسی بھی بہار سے بڑھ کر ہے۔

محمد علی انجم سے دوستی ملتان ائیر پورٹ پر ہوئی۔ وہ قطر ائیر ویز کی فلائٹ پر دبئی اور پھر وہاں سے جوہانسبرگ جا رہا تھا اور میں امارات کی فلائٹ پر بچوں کے ساتھ کمبوڈیا جا رہا تھا۔ محض ملنا تو بے شمار لوگوں سے ہوتا ہے‘ لیکن محمد علی انجم ''مکّول کلاں‘‘ کا تھا۔ میرے پسندیدہ اور محبوب ماسٹر غلام حسین کا مکول کلاں۔ تحصیل تونسہ کا چھوٹا سا گائوں جو مرحوم ماسٹر غلام حسین کی وجہ سے میرے لیے بہت بڑا ہے اور محبوب بھی۔ ایسا محبوب جسے کبھی دیکھا تو نہیں‘ مگر دیکھنے کی حسرت ہے اور ''استانی جی‘‘ سے ملنے کی آرزو۔ اللہ سلامت رکھے استانی جی کو۔ ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ جلد ہی مکلول کلاں جائوں گا اور استانی جی کے پائوں دبائوں گا۔ دل میں خوف ہے کہ کہیں اتنی دیر نہ ہو جائے کہ مکول کلاں جانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے‘ مگر کیا کریں؟ صرف چاہنے سے ہی سب کچھ ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔

میری سستی اور کاہلی پر محمد علی انجم کی محبت غالب آ گئی اور میں ملتان کی گرمی سے بھاگ کر جوہانسبرگ چلا گیا۔ اسد اور انعم بھی ہمراہ تھے۔ اسد کی محمد علی انجم کے بیٹے حسن عادل سے اور انعم کی ام کلثوم سے دوستی ہو گئی۔ میرے دونوں بچوں کی اور محمد علی انجم کے بچوں کی عمروں میں محض ایک دو ماہ کا فرق تھا۔ سب کی اپنی اپنی کمپنی تھی اور جوہانسبرگ تھا۔ شہر میں ایک لاکھ سے زیادہ جیکارانڈا کے درخت تھے۔ دوستوں کا ایک مجمع تھا اور ہم تھے۔ یہ جوہانسبرگ والے دوست بھی عجیب تھے۔ کسی سے پہلے نہ ملاقات تھی اور نہ کوئی سلام دعا۔ یہ سب کے سب ڈاکٹر تھے اور محمد علی انجم کے دوست۔ یہ سارے ڈاکٹر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے 1990ء اور 1991ء کے گریجوایٹ تھے۔ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ آپ ڈاکٹر عاصم اسد کو جانتے ہیں؟ سب نے یک زبان ہو کہا: بالکل جانتے ہیں اور صرف جانتے ہی نہیں‘ وہ ہمارے دوست بھی تھے اور مرشد بھی۔ میں نے ہنس کر کہا: میں ڈاکٹر عاصم اسد کا مرشد ہوں۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ پھر ہمارے بھی مرشد ہیں۔ ان مریدین میں ڈاکٹر ہارون عباسی‘ ڈاکٹر فیاض حمید‘ ڈاکٹر نوید انجم اور ڈاکٹر شبیر شاہ شامل تھے۔

فلوریڈا میں بیٹھے ہوئے عاصم اسد کے طفیل ہزاروں میل دور بیٹھے ان ڈاکٹروں سے ایسی دوستی ہوئی کہ اپنے مہربان رب کی کرم نوازیوں پر یقین اور مستحکم ہو گیا۔ کیا شاندار لوگ تھے اور کس قدر محبت کرنے والے۔ سب سے بڑھ کر محمد علی انجم۔
ملتان ائیر پورٹ پر سفر کا آغاز تو خاصا حوصلہ شکن تھا ‘مگر پھر جوہانسبرگ میں محمد علی انجم کی صحبت میں چار با جماعت نمازوں اور ہر روز دو عدد کھانے کی دعوتوں نے دس روز گزرنے کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ ایف آئی اے کی اہلکار بی بی نے میرے پاسپورٹ پر جنوبی افریقا کا ویزہ اور جوہانسبرگ کا بورڈنگ پاس دیکھ کر مجھے اور بچوں کو ایک طرف کھڑا کر دیا اور پوچھنے پر بھی نہ بتایا کہ معاملہ کیا ہے؟ دس پندرہ منٹ کی مشکوک نقل و حرکت کے بعد آخر کار ایف آئی اے کے افسر نے مجھے پہچانا اور بی بی کو اشارہ کیا تب جا کر Exit کی مہر لگی۔ پتا چلا جنوبی افریقا ہماری نیگٹو لسٹ میں ہے اور اس کی وجہ قاتلوں کا وہ ٹولہ ہے جس کا سربراہ لندن میں اور وہ جنوبی افریقامیں مقیم ہیں۔ اسی وجہ سے جنوبی افریقامیں رہنے والے پاکستانیوں کو دوہری شہریت کی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے؛ حالانکہ جو لوگ مجھے ملے ان کا ایسی سرگرمیوں سے‘ حرکتوں سے اور کارروائیوں سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا‘ مگر گندم کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہے۔ ڈاکٹر ہارون عباسی کہنے لگا: ہم محبِ وطن پاکستانی ہیں‘ ہمیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ میں نے ہنس کر کہا: وہ راجہ رنجیت سنگھ والا معاملہ ہے کہ اگر آپ قصور کرنا چھوڑ دیں تو کیا ہم چھتر مارنا بھی چھوڑ دیں؟