کرتارپور،پاکستان اور ہمارے کسان - نسیمہ ابوبکر

اپریل ۲۰۱۹- ہیومن رائٹس کمیشن کو کرتارپور اور ملحقہ علاقوں کے کسانوں اور دیہاتیوں کی شکایات موصول ہوئیں جن کی کھڑی فصلیں انصاف کی علمبردار،امیر و غریب کے لئے یکساں قانون کی دعویدار حکومت نے اُجاڑ دی تھیں اور ضلع ناروال کی تحصیل شکرگڑھ کے 600دیہاتیوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کا حکم تھا۔

نومبر ۲۰۱۸ میں گردوارے اور ملحقہ رہداری کی تعمیر کے معاہدے کے بعد فوجی ادارے فرنٹئیرورکس آرگنائزیزیشن کو اس راہداری کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور اپریل ۲۰۱۹ تک کرتارپور سمیت ملحقہ گاؤں دودھے،کوٹھے خورد اور کوٹھے کلاں کے کسانوں اور دیہاتیوں کی ۱۵۰۰ایکڑ زمین سرکار نے اس “نیک قومی مقصد”کے لئے زبردستی حاصل کر لی جس کی نہ کوئی قیمت اُس وقت متعین کی گئی اور نہ ہی ان کے نقصان کافوری معاوضہ ادا کیاگیا۔

کسانوں نے اپنے تعیں احتجاج کیا جس کی کوئی سنوائی نہ ہوئی۔ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک ۵ رکنی وفد نے ۱۸ اپریل ۲۰۱۹ کو متاثرہ کسانوں کے گھروں کا دورہ کیا ،ان کسانوں نے بتایاکہ کچھ سکھوں نے ماضی میں رابطہ کر کے انہیں پچاس لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے زمینیں خریدنے کی پیشکش کی جس سے انہوں نے انکار کر دیا ۔۱۹۸۸کے سیلاب کے بعد بھی ان کسانوں نے اپنی آبائی زمینوں کو نہ چھوڑا ،مگر ریاست کے جابرانہ تسلط سے اپنی زمینوں سے بے دخل ہونے پر مجبور تھے اور تا حال حکومت کی جانب سے کسی مداوے کے منتظر ہیں ۔
اپنے سیاسی مخالفین پر پٹواری جیسے القابات استعمال کرنے والے افراد ،حکومت کے اس رویّہ اور سوچ کو کیا نام دیں گے ؟۰۰۰پڑوسیوں سے خوش خلقی اور انکی تواضع اچھی بات ہے مگر اپنے بیوی بچوں کے جسم سے کپڑے نوچ کر اس تواضع کا انتظام ظلمِ عظیم ہے۔نبی پاک صلی الّلہ علیہ وسلّم نے فرمایا:”آدمی کے گناہ گارہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کرے جنکی کفالت کا وہ ذمّہ دار ہے”۔

یہ بھی پڑھیں:   ہنرمند نوجوان اور معاشرے میں ان کی اہمیت - شیراز علی

اربابِ اقتدار و اختیار سے یہ استدعا ہے کہ وہ صرف چند بد تہذیب اور بد زبان وزراء اور مشیروں کے ہی کفیل نہیں ہیں بلکہ یہ بد نصیب قوم بھی ان سے کچھ توقعات و مطالبات رکھتی ہے۔نبی پاک صلی الّلہ نے فرمایا:کللکم راعی وکلکم مسئول عن رعیتہ “تم میں سےہر شخص راعی ہے اوراس سےاسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔” کرتار پور پراجیکٹ پر ۱۳ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے اپنی اولاد کو ابتدائی تعلیم سے محروم رکھا جائے اور ہمسائے کے بچوں کو اعلٰی تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھیجنے کا خرچ اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں اور ہمسایہ بھی وہ جس کی سازشوں اور عداوتوں کے زخم سے پوری قوم کا بدن لہو لہان ہے اور جس کے متعصب صحافی ،سیاستدان اوربعض نجی چینل برملا اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ کرتارپور ہمارا ہے ،ہمیں واپس کرو ۰۰۰مشرقی پاکستان کا سانحہ اور کشمیر کی المناک داستان ہماری آنکھوں کی پٹی نہیں کھول سکتی تو اب ہم قدرت کی اور کس تنبیہ کے منتظر ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ہمیں رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے مگر 98.5 فیصد عوام(مسلمان)کے ٹیکسوں سے 1.5فیصد عوام (ہندو)کی عبادت گاہوں کی تعمیرِنو کہاں کا انصاف ہے جبکہ عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے افریط تلے مستقبل کی طرف سے بے یقینی میں مبتلا ہوں۔اور باقی عوام کے لئے پروین شاکر کی زبانی یہی پیغام ہے:

ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا

خاموشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح