مطالعہ سیرت سے حاصل ہونے والے عوامل - راحیلہ چوہدری

دنیا کی سب سے زیا دہ خو بصورت چیز پاک سیرت ہے۔اس لیے سیرت کی تعمیر و تشکیل کی بہت اہمیت ہے۔دنیا کے معا ملات حل کرنے اور سچائی کی تلاش کے لیے پا کیزہ سیرت نہایت اہم ہے۔اللہ تعا لیٰ نے انسان کے اندر جو قو تیں اور صلاحیتیں رکھی ہیں وہ سب انسان کے مقصد وجود کے لیے ضروری ہیں۔یہ تمام قوتیں مل کر ایک کردار کی تشکیل کرتی ہیں۔

دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی چیز سے بنی ہوئی ہےزندگی ایک تربیت گاہ ہے حق تعالیٰ مربی و معلم ہیں۔واقعات وہ آلات و ادوات ہیں جن کے ذریعے وہ ہماری سیرت کی تکمیل کر رہے ہیں۔ پاکیزہ سیرت سے ہی اعمال صالحہ وقو ع پذیر ہوتے ہیں ورنہ انسان خسارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی صورۃ العصر میں فرماتے ہیں: ’’قسم ہےزمانے کی انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کواپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔اور اسلام کی تعلیم کے مطابق عبادت محض نماز، روزہ اور حج وغیرہ کا نام نہیں، بلکہ اسلام نے عبادت کے مفہوم کو نہایت وسیع معنوں میں لیا ہے۔ اس لئے اسلام نے افراد کے تزکیہ نفوس اور تعمیر سیرت کے لیےایسا نقشہ بنایا ہے جوتمام نقشوں سے اپنے مقصد میں بلندتر ہے۔ یعنی اسلام کے پیش نظرایسے انسان تیا ر کرناجو متخلق با خلاق اللہ ہو ،صحیح معنوں میں خلیفۃاللہ بن کر زمین میں کام کرئے اور اس کام کے صلہ میں اللہ کا تقرب حاصل کرے۔

آپﷺ نے افراد کی تربیت کے لیے جن با توں کو سب سے زیا دہ اہمیت دی اور جن کو کردار کی پختگی کے لیے لازم قرار دیا، انہیں چند ذیلی عنوانات کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔علم: علم کا حصول تخلیق انسانی کا ایک اہم جُز ہے ۔یہی وہ جو ہر ہے جس کی بنا پر انسان کو نوری مخلوق فر شتوں پر بھی فضیلت عطا ہوئی ہے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیا دہ ہے‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب علم ہو گا تو اس کو وہ بصیرت حاصل ہو گی جس سے وہ عبادت کی روح اور اس کے فوائد و حقیقت کو سمجھ سکے گا اور پھر اس کو عبادت کا حقیقی لطف بھی حاصل ہو گا۔ایک روایت میں آنحضرتﷺ نے عبادت کے مقابلے میں تحصیل علم کی فضیلت اس طرح بیان فرمائی ۔ آپﷺنے ابوذرکو فرمایا:’’اے ابو ذر! صبح ہوتے ہی تم اللہ کی کتاب (قرآن کریم) سے ایک آیت سیکھ لویہ اُس سے بہتر ہے کہ تم سو رکعتیں پڑھ لو، اور یہ کہ روزانہ تم علم کا ایک باب حاصل کر لوچاہے عمل کرو یا نہ کرو یہ اُس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار ایک رکعتیں ادا کرو۔‘‘
۲۔تزکیہ نفوس: کسی بھی مثالی اور صحیح اسلامی تعلیمات کی حامل شخصیت کی تعمیر کے لیے تزکیہِ نفوس نہا یت ضروری امر ہے،اس کے بغیر صحیح معنی میں مثالی شخصیت کی تعمیر ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رحمت للعالمین ﷺ - حسان بن ساجد

اسی لیےاسلام میں تزکیہِ نفوس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ، چنانچہ قرآنِ کریم نے آنحضرتﷺ کے مبعوث ہونے کے جو مقا صد بیان فرمائے ہیں۔ان میں سے ایک تزکیہ نفوس بھی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ: ’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
تزکیے کے معنٰی طہارت کے ہیں۔یعنی آپﷺ لوگوں کو ظاہری اور باطنی نجا ستوں سے پاک کرتے ہیں۔انسان کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔جس طرح شریعت ظاہر کے لیے ہے اسی طرح باطن کے لیے بھی ہے۔جس طرح انسان کو بے شمار بیماریاں لا حق ہوتی ہیں اسی طرح اس کے قلب کے اندر بھی بے شمار بیماریاں ہیں۔ کفر و شرک، بغض و حسد ،کینہ و تکبر، حبِ مال و جا ہ وغیرہ۔انسان کا دل اس کے جسم کا با دشاہ ہے ۔اور تمام اعضا کا سردارہے۔ دل کی اصلاح اور پا کیزگی پر تمام جسم انسانی کی اصلاح کا مدار ہے۔اس لیے تزکیہ نفس بہت ضروری ہے

۳۔ اخلاق: افراد کی تر بیت کا انحصار ان کی اخلاقی حالت کی بہتری پر ہوتا ہے۔اگر یہ پہلو کمزور رہ جا ئے تو آئندہ ترقی تو کجا، تنزلی کا امکان غالب رہتا ہے۔اس لیے آپ ﷺ نے اس پہلو پر بھر پور توجہ مرکوز فرمائی۔آپﷺ نے اپنی بعثت کا اولین مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا۔ ’’ بلا شبہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعو ث کیا گیا ہوں‘‘۔ آپﷺ ایسے بلند پایہ اخلاق کے حامل تھے کہ آپ ﷺکے جانی دشمن بھی آپﷺ کی متفقہ حیثیت ’’الصادق و الامین‘‘پر حرف گیری کی جرات نہ کر سکےاور آپﷺ کو صابی(نعوذبا للہ)تک کہنے والے بھی اپنی امانتوں کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتبار شخص آپﷺ کو ہی تصور کرتے تھے۔اور عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں آپﷺ فرماتے تھے:’’کہ تم میں بہتر وہ لو گ ہیں جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہوں۔‘‘ حضرت عائشہ سے روایت ہے اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نرم دل ہے ۔وہ نرم دلی کو پسند کرتا ہے۔اور نرم دلی پہ جو صلہ عطا کرتا ہے ۔وہ سختی کے بدلے نہیں دیتا ، بلکہ اتنا صلہ کسی بھی چیز کے بدلے نہیں دیتا۔‘‘ نرم دلی کی ہی تلقین کرتے ہوئے فرما یا:’’جس چیز میں نرمی ہو گی وہ اسے خو بصورت بنا دے گی،اور جس چیز سے نرمی نکال دی جائے گی وہ بدصورت ہو جائے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   سیرت محمد ﷺ - مریم صدیقی

۴۔ اخوت و اتحاد: افراد کی تربیت کے ذیل میں اخوت و اتحاد کی ضرورت و اہمیت بھی مسلم ہے۔ اس عالمِ آب و گل میں تمام انسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل و ترتیب دیں، جہاں تمام معملات کی بنیاد اخوت و محبت پر ہو، جہاں تمام فیصلے اسی بنیاد پر ہوں۔ در حقیقت اخوت و اتحاد ہی وہ بنیادی عنصر ہیں جن سے کام لے کر کسی بھی قوم کی شرازہ بندی کی جا سکتی ہے۔اسلام نے تمام عبادات کو اتحاد و اخوت کی ترویج کے لیے استعمال کیا۔ اس لیے جگہ جگہ اس کی تلقین کی گئی۔
۵۔ صدق و امانت: فلاحی ریاست کی تشکیل کے لیے مطلوب افراد کی تربیت میں بھی صدق و امانت کی اہمیت تسلیم شدہ امر ہے ۔ایک مسلمان کے لیے ۔ہر معاملے میں سچائی سے وابستہ رہنا اور تمام مسا ئل کو اسی زاویہِ نگاہ سے دیکھنا۔از بس ضروری ہے۔اس کے بر عکس جھوٹ ایک بہت بڑی لعنت ہے ۔یہ ایسی بُرائی ہے جو جھوٹے شخص کے اندرونی فساد کی غماز ہے ۔ اس لیے آپﷺ نے صاف صاف فرما دیا کہ مومن کا جھوٹ سے کوئی تعلق نہیں۔آپﷺ نے فرمایا:’’مومن کے اندر تمام خرابیاں پائی جا سکتی ہیں سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔‘‘

۶۔ عفو و در گزر: کسی بھی معا ملے میں جذبات سے مغلوب ہوناہوش و خرد سے بے گانہ کر دیتا ہے اور غصے کی حالت میں کئے جانے والے اکژ بلکہ تقریبا تمام افعال بعد میں پچتاوے کا با عث بنتے ہیں۔ غصے کی تباہ کا ریوںاور مسلم سوسا ئٹی پر پڑنے والے اس کے منفی و مہلک اثرات کو دیکھتے ہوئے ۔آپﷺ نے اس کی بیخ کنی پر بھر پور انداز میں توجہ دیتے ہوئے علم و عفو اور در گزر کا درس دیا۔ اسی لیے نبیﷺ نے نفس کے بچھا ڑنے والے شخص کو اصلی پہلوان قرار دیا ہے۔
غرض سیرت کے مطالعے سے حاصل ہونے والے یہ وہ عوامل ہیں۔کہ اگر کوئی انسان علم حا صل کرنے کے مقصد کو جان لے ،تزکیہ نفس کرنا سیکھ لے ،اپنے اخلاق کو سنوار لے ، اخوت صدق و امانت اور عفو و درگزر جیسی صفات کو اپنا لے ۔تو ایک متوازن شخصیت سامنے آ ئے گی۔ اور انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر لے گا۔علامہ اقبال فرماتے ہیں: ’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی - یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نا ری ہے‘‘